’وحشی قاتل‘ ٹیپو کے پروگرام میں مجھے نہ بلائیں: انڈین مرکزی وزیر

ٹیپو سلطان تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock
Image caption ٹیپو سلطان کو 'شیر میسور' کے نام سے بھی یاد کیا جاتا اور انھیں انڈیا کے اولین مجاہد آزادی میں شمار کیا جاتا ہے

انڈیا کی جنوبی ریاست کرناٹک میں اٹھارھویں صدی میں ریاست میسور کے بادشاہ ٹیپو سلطان کی یوم پیدائش کا جشن پہلے بھی متنازع رہا ہے لیکن اس سال یہ مزید گہرا ہوتا نظر آ رہا ہے۔

مرکزی وزیر اننتھ کمار ہیگڑے نے ریاستی حکومت کی جانب سے ٹیپو سلطان کی سالگرہ منانے کے فیصلے کی مذمت کی ہے اور ٹیپو سلطان کو ’وحشی قاتل اور ریپ کرنے والا‘ قرار دیا ہے۔ ہیگڑے شمالی کرناٹک کے کنّڑ ضلع سے تعلق رکھتے ہیں۔

٭ ٹیپو سلطان کے متعلق ٹوئٹر پر بے لگام جنگ

٭ کرناٹک میں ٹیپو سلطان کا جشن ولادت پر تنازع، ایک ہلاک

انھوں نے کرناٹک کی ریاستی حکومت کو ایک خط لکھا جسے ٹوئٹر پر بھی شیئر کیا ہے۔

کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدھارمیا نے کہا کہ کسی وزیر کو اس قسم کا خط نہیں لکھنا چاہیے۔

اننت کمار نے ٹویٹ کیا کہ ’میں نے کرناٹک کی حکومت سے کہا ہے کہ مجھے ایک وحشی قاتل، پاگل اور ریپ کرنے والے کی شان میں قصیدے پڑھنے والے کسی بھی شرمناک پروگرام میں نہ بلائیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption انڈیا کے مرکزی وزیر اور بی جے پی رہنما اننتھ کمار ہیگڑے کا ٹویٹ اور کرناٹک کی ریاستی حکومت کے نام خط

خیال رہے کہ ریاست کرناٹک میں کانگریس کی حکومت ہے اور وہ ٹیپو سلطان کو ’وطن پرست‘ اور برطانوی حکومت سے لڑنے والا ’مجاہد آزادی‘ قرار دیتی ہے۔

جبکہ بی جے پی اور بعض دوسری سخت گیر ہندو تنظیمیں انھیں مذہبی آمر کہتی ہیں جنھوں نے لوگوں کو اسلام میں داخل ہونے پر مجبور کیا۔

گذشتہ دو سالوں میں ٹیپو سلطان کی سالگرہ کا جشن منانے کے خلاف پرتشدد مظاہرے ہوئے ہیں۔ اس کے باوجود کانگریس حکومت مسلسل تیسرے سال بھی ٹیپو سلطان کی سالگرہ کا جشن منانے جا رہی ہے۔

انڈیا کی سرکاری نیوز ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق سدھارمیا نے کہا کہ حکومت میں رہتے ہوئے وزیر کو ایسا خط نہیں لکھنے چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ ٹیپو کی سالگرہ کے متعلق پروگرام کا دعوت نامہ تمام مرکزی اور ریاستی وزیروں کو بھیجا جاتا ہے۔ اس میں شرکت کرنا یا نہ کرنا ان کی اپنی مرضی پر ہے۔

انھوں نے مزید کہا: ’بلا وجہ اس پروگرام کو سیاسی مسئلہ بنیا جا رہا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ٹیپو سلطان کو ہندوستان کے بہادر حکمرانوں میں شمار کیا جاتا ہے، یہاں ان کے چند ہتھیار دیکھے جا سکتے ہیں

واضح رہے کہ ٹیپو سلطان انگریز کے مخالف تھے اور انھوں نے انگریزوں سے چار جنگیں لڑیں اور ایک جنگ میں مارے گئے۔

اس خط کے بعد سوشل میڈیا پر ٹیپو سلطان کا ہیش ٹیگ ٹرینڈ کرنے لگا اور لوگ دو خیموں میں منقسم نظر آ رہے ہیں۔

بہت سے لوگ ٹیپو سلطان کی سالگرہ منانے کے فیصلے کی حمایت کر رہے ہیں جبکہ بہت سے لوگ اس کے مخالف بھی ہیں۔

بعضے کا خیال ہے کہ ہیگڑے کننڑ برادری کا درد سمجھتے ہیں اور انھوں نے درست فیصلہ کیا ہے جبکہ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ وہ صرف ’ہندوتوا کی مارکٹنگ‘ کر رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

شری نارائن نام کے ٹوئٹر صارف نے لکھا: کرناٹک حکومت کی جانب سے ٹیپو (سلطان) کی کی سالگرہ کا جشن منایا جانا ہندوؤں کے جذبات کی بے عزتی ہے۔'

ایک دوسرے صارف نے لکھا: ’ٹیپو کے بغیر انڈیا کا کوئی ماضی نہیں ہے۔‘

کنور عتیق احمد نے ٹویٹ کیا: ’ٹپیو سلطان ہندوستان کے عظیم ترین مجاہد آزادی میں سے ایک تھے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

خیال رہے کہ ٹیپو سلطان کی سالگرہ کا جشن دس نومبر کو منایا جائے گا لیکن ابھی سے سوشل میڈیا میں گرما گرم بحث جاری ہے۔

اسی بارے میں