کشمیر پر اچانک مذاکرات کی پیشکش کیوں؟

راج ناتھ سنگھ اور دنیشور شرما تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER @HMOINDIA

انڈیا کی حکومت نے تین برس کے وقفے کے بعد انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں اچانک مذاکرات کا عمل شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

انڈین وزیرِ داخلہ راج ناتھ سنگھ نے پیر کو ایک نیوز کانفرنس میں بتایا کہ حکومت نے مذاکرات کے لیے انٹیلی جنس بیورو کے سابق سربراہ دنیشور شرما کو اپنا نمائندہ مقرر کیا ہے جو 'جموں و کشمیر کے لوگوں کی جائز تمناؤں کو سمجھنے کے لیے لوگوں سے بات چیت اور گہرے مذاکرات کا آغاز کریں گے۔'

راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ بی جے پی کی حکومت مسئلہ کشمیر کے تئیں سنجیدہ اور اسے حل کرنے کی پابند ہے حکومتی نمائندے کشمیر کے سبھی متعلقہ لوگوں سے بات کریں گے۔

نامہ نگار شکیل اختر کے مطابق تین برس قبل بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد مرکز نے علیحدگی پسندوں سے مذاکرات کرنے سے انکار کر دیا تھا اور اس کے بعد مظاہروں اور احتجاج کے درمیان سینکڑوں کشمیری نوجوان مارے جا چکے ہیں لیکن حکومت اپنی سخت پالیسی پر عمل پیرا رہی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اب حکومت کی جانب سے مذاکرات کے اعلان پر حکومت اور حزبِ مخالف کی جانب سے ملاجلا ردعمل سامنے آیا ہے۔

ریاست کی وزیر اعلی محبوبہ مفتی نے مرکزی حکومت کے اس قدم کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات ہی کشمیر کے مسئلے کے حل کا واحد راستہ ہے۔

یہ بھی پڑھیے

جب قبائلی جنگجوؤں نے کشمیر پر دھاوا بولا

انہوں نے کہا ' کشمیر کے لوگ جن حالات میں ہیں ان میں بات چیت کا آغاز بہت ضروری ہے۔ بات چیت سے ہی لوگوں کی مشکلات دور ہوں گی۔'

تاہم سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے طنز کرتے ہوئے ایک ٹویٹ میں کہا کہ 'کشمیر کے مسئلے کو ایک سیاسی مسئلہ تسلیم کر لینا ان سبھی کی شکست فاش کا غماز ہے جو صرف طاقت کے استعمال کو اس مسئلے کا حل سمجھتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

عمر عبداللہ کے والد اور ریاست کے سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ کا کہنا تھا کہ کشمیر کے معاملے پر دہلی کی حکومت ماضی میں جو کمیٹیاں بناتی رہی ہے ان کا کیا ہوا؟

نامہ نگار ماجد جہانگیر کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ 'میں سمجھتا ہوں کہ بات چیت ایک اچھی چیز ہے لیکن میں مرکزی حکومت سے مطالبہ کرتا ہوں کہ اب تک جو کمیٹیاں بنائی جاتی رہی ہیں، ان کی جانب سے جو رپورٹس دی جاتی رہی ہیں انھیں پارلیمان میں پیش کیا جائے۔'

فاروق عبداللہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ 'پاکستان سے بھی بات کی جانی چاہیے۔ ہمارا سارا مغربی حصہ پاکستان کے پاس ہے۔ پاکستان سے بات چیت بہت اہم ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter@@GAMIR_INC

کانگریس کا کہنا ہے کہ بات چیت شروع کرنا ایک اچھی بات ہے، لیکن کس سے بات کرنی چاہیے، حکومت کو یہ بھی بتانا چاہیے۔

سٹیٹ کانگریس کمیٹی کے صدر غلام احمد میر کہتے ہیں، 'تین سال سے بی جے پی کہہ رہی ہے کہ ہم ان سے بات کریں گے مگر ان میں سے بہت سوں سے نہیں۔'

انھوں نے کہا کہ 'ڈاکٹر منموہن سنگھ نے ایک گول میز کانفرنس بھی کی اور اس میں تمام متعلقہ جماعتوں سے گفتگو کی، لیکن آپ کے سامنے ہے کہ اس کے بعد کیا ہوا۔ اب اگر وہ آج بات کرنا چاہتے ہیں تو وہ کون کرے گا؟ انہیں لوگوں کے نام لینے چاہییں۔'

تجزیہ کار کیا کہتے ہیں؟

کشمیر کے سیاسی تجزیہ کار، انڈین حکومت کی طرف سے مذاکرات کے اس اعلان پر کہتے ہیں کہ یہ انڈین حکومت کی طرف سے اس سخت موقف میں بدلاؤ کی نشانی ہے جسے حکومت نے گذشتہ تین سالوں میں کشمیر میں اپنایا ہے۔

کشمیر کے سینیئر صحافی اور تجزیہ کار شوکت بخاری کہتے ہیں 'یہ ایک اچھی پہل ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ مذاکرات کار کا مینڈیٹ کیا ہے اور وہ کس حد تک جا سکتے ہیں؟ یہ جاننا بھی اہم ہے۔'

انھوں نے کہا کہ 'جب بھی کشمیر پر کچھ بھی ہو تو وہ مشروط ہوتا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ اگر انڈین حکومت کشمیر کے معاملے پر اس وقت خواہش کا اظہار کر رہی ہے تو اسے بغیر کسی شرط کے بات کرنی چاہیے۔ کسی بھی جانب سے کوئی شرط نہیں رکھی جانی چاہیے۔'

تجزیہ کار یہ بھی کہتے ہیں کہ جب تک پاکستان کے ساتھ بات چیت شروع نہیں ہوتی، کوئی بڑی امید نہیں کی جا سکتی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں