مذاکرات کی پیشکش پر کشمیر میں سردمہری

محبوبہ مفتی اور نریندر مودی
Image caption انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی وزیر اعلی محبوبہ مفتی نے حکومت ہند کی ثالپ مقرر کرنے کے قدم کو سراہا ہے

انڈیا کی حکومت نے اپنے زیرانتطام کشمیر میں سبھی متعلقین کے ساتھ 'مذاکرات' کرنے کے لیے ملک کے خفیہ ادارے آئی بی کے سابق سربراہ دنیشور پرساد کو ثالث مقرر کیا ہے۔

اس ڈرامائی اعلان کو 15 اگست کے روز انڈیا کی یوم آزادی کے موقعے پر وزیراعظم نریندر مودی کے اُس اعلان کے پس منظر میں دیکھا جارہا ہے جس میں مودی نے کشمیریوں کو گلے لگانے کی بات کہی تھی۔

٭ کشمیر پر اچانک مذاکرات کی پیشکش کیوں؟

٭ ’چھروں والی بندوق صرف کشمیر کے لیے مخصوص کی گئی‘

گذشتہ تین برس کے دوران مودی حکومت نے علیحدگی پسندوں کے مذاکرات یا منتخب کشمیری سیاست دانوں کو مراعات دینے کو کانگریس کی خوشامدی پالیسی قرار دیا تھا اور سیاسی و عسکری ادارے اس پالیسی پر عمل پیرا تھے کہ 'کشمیرمیں بغاوت کو کچلنے' اور پاکستان کی مداخلت کو ختم کرنے سے مسئلۂ کشمیر اپنے آپ حل ہو جائے گا اور کشمیر دیگر ریاستوں کی طرح انڈین وفاق کا ایک غیرمتنازع حصہ بن جائے گا۔

تاہم افغانستان میں قیام امن سے متعلق امریکہ کی نئی پالیسی کے پیش نظر اب انڈین حکومت پاکستان اور کشمیریوں کو محدود رعایت دینے پر آمادہ نظر آ رہی ہے۔

حالانکہ اپوزیشن نیشنل کانفرنس اور وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے حکومت ہند کی مذاکراتی پیشکش کو خوش آئند قرار دیا ہے، لیکن مسلسل فوجی آپریشن، خوف و دہشت، گرفتاریوں، پابندیوں اور علیحدگی پسندوں کا سیاسی دائرہ تنگ کرنے جیسے اقدامات حکومت ہند کی اس پیش کش کو پھیکا پھیکا سا بنا رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کشمیر میں ایک سال سے زیادہ عرصے سے تشدد کی نئی لہر جاری ہے

انسانی حقوق کے اداروں کے مطابق فی الوقت 17 سے 80 سال کی عمر کے متعدد کشمیری محض اس الزام کے تحت جیلوں میں پڑے ہیں کہ انھوں نے ہند مخالف مظاہروں میں حصہ لیا تھا۔ علیحدگی پسند رہنماؤں شبیر احمد شاہ، نعیم احمد خان اور دوسرے کئی علیحدگی پسند رہنماوں پر پاکستان سے حوالہ ذرائع سے رقوم لینے کا الزام ہے اور وہ انڈیا کے قومی تفتیشی ادارہ این آئی اے کی تحویل میں ہیں۔

سید علی گیلانی سات برس سے گھر میں نظر بند ہیں جبکہ یاسین ملک کو اکثر جیل میں قید کیا جاتا ہے۔ میرواعظ عمرفاروق کو سرینگر کی تاریخی جامع مسجد میں جمعے کے اجتماع سے خطاب کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔ اس کے علاوہ فیس بک اور وٹس ایپ پر مخالف نظریات کی تشہیر کرنے والوں کا تعاقب کیا جا رہا ہے۔

پولیس کے مطابق گذشتہ برس جولائی میں مقبول مسلح رہنما برہان وانی کی ہلاکت کے بعد 88 نوجوانوں نے مسلح تشدد کا راستہ اختیار کر لیا جبکہ رواں سال کے دوران اب تک 94 لڑکوں نے بندوق تھامی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Pti
Image caption اس سے قبل کانگریس کی قیادت والی حکومت نے کشمیر کے لیے تین رکنی ٹیم بنائی تھی جس میں دلیپ پڈگاؤنکر، ایم ایم کمار اور رادھا کمار شامل ہیں

اس سال کے پہلے دس ماہ کے دوران پولیس، فورسز اور فوج کے مشترکہ آپریشن آل آؤٹ کے دوران 169 مسلح شدت پسند مارے گئے، جن میں ایک درجن اعلیٰ کمانڈر شامل ہیں۔ گذشتہ سات برس میں یہ پہلا موقعہ ہے کہ صرف اپریل سے اکتوبر تک 12 اعلی کمانڈروں کو ہلاک کردیا گیا۔ اس آپریشن کی نگرانی حکومت ہند کے خفیہ ادارے براہ راست کررہے ہیں۔

واضح رہے گذشتہ برس برہان وانی کی ہلاکت سے بھڑکنے والی ہند مخالف احتجاجی لہر کو دبانے کے لیے فوج اور پولیس نے وسیع پیمانے پر آپریشن شروع کیا جس کے دوران شکاری بندوق سے آہنی چھروں کا بے تحاشا استعمال کیا گیا۔ چھروں سے سینکڑوں نوجوانوں کی بینائی متاثر ہوئی ہے جبکہ درجنوں عمر بھر کے لیے نابینا ہو گئے۔

ایسے میں انصاف کی تمام عرضیاں ردی کی ٹوکری میں ہیں جبکہ حکومت نے چھروں کے متاثرین کے لیے مالی امداد کا اعلان کیا کہ محبوبہ مفتی کی اتحادی جماعت بی جے پی نے اس پر اعتراض کیا اور یہ امداد روک دی گئی۔

اس پس منظر میں مذکرات کی پیشکش پر کشمیریوں کی سردمہری کے تین اسباب ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption حریت رہنما میر واعظ عمر فاروق، سید علی گیلانی اور یاسین ملک کو یہاں دیکھا جا سکتا ہے

1 زمینی حالات

ایک پہلو تو یہاں کے زمینی حالات ہیں۔

2 ثالث کی تعیناتی

دوسرا پہلو یہ کہ نئی دلی کی طرف سے مذاکرات کی پیشکش کی 21 سالہ تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ انٹیلی جینس کے کسی ریٹائرڈ افسر کو ثالث مقرر کیا گیا ہے۔

صحافی شفاعت فاروق کہتے ہیں: 'یشونت سنہا بی جے پی کے ہی آدمی تھے، انھوں نے یہاں غیررسمی بات چیت بھی کی، لیکن بجائے اس کے کہ یشونت سنہا یا منی شنکر ايیر کو ثالث بنایا جاتا ایک انٹیلی جنس افسر کو مذاکرات کا پروجیکٹ سونپا گیا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ حکومت ہند مذاکرات کے نام پر کچھ اور کرنا چاہتی ہے۔'

3 پیشکش کا لہجہ

حکومت کہتی ہے کہ سبھی سٹیک ہولڈرز یعنی تمام متعلقین کے ساتھ بات ہو گی۔ یہ پیشکش ایک نئی بحث کو جنم دے گی کہ مذاکرات کا اصلی سٹیک ہولڈر کون ہے۔ ہندنواز سیاسی قوتیں پہلے ہی انڈیا کے اقتدار کو تسلیم کرچکی ہیں۔ نیشنل کانفرنس ہو یا حکمراں پی ڈی پی، وہ سبھی معمولی آئینی رعایتوں کے علاوہ نئی دلی سے کچھ نہیں چاہتیں۔

اس کے علاوہ تجارتی انجمنیں، این جی اوز اور سول سوسائٹی ہیں، جو انسدادی کاروائیوں کے دوران بے گناہ اور معصوم شہریوں پر ڈھائے گئے مظالم کے لیے فوج اور سیکورٹی فورسز کی جوابداہی کا مطالبہ کرتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کشمیر میں ہند مخالف لہر برہانی وانی کی ہلاکت کے بعد سے جاری ہے

ایسے میں لے دے کے صرف علیحدگی پسند ہیں جو کہتے ہیں کہ اگر حکومت اقوام متحدہ کی طرف سے تسلیم شدہ حق خودارادیت میں کوئی دقت ہے تو انڈیا کشمیر کو متنازع تسلیم کرکے پاکستان اور کشمیری قیادت کے ساتھ ایک ساتھ سہ فریقی مذاکرات کے دوران متبادل حل تلاش کرے۔

مبصرین کہتے ہیں کہ حکومت ہند نے علیحدگی پسند سرگرمیوں، مسلح تشدد پر ایک طویل آپریشن کے ذریعہ قابو پانے کے بعد ایک بالادست فریق کی حیثیت سے اپنی شرائط پر مذاکرات کا آغاز کیا ہے جو دنیا کو یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ حکومت ہند صرف فوجی نہیں بلکہ سیاسی حل کے لیے کوشاں ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کے ساتھ تعلقات درست کیے بغیر کشمیر میں مذاکرات کی نئی پیشکش کوئی نتیجہ برآمد کرے گی؟

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں