ایران میں ’اسرائیل کے لیے جاسوسی کرنے کے جرم‘ میں سویڈن کے رہائشی کو سزائے موت

ڈاکٹر جلالی تصویر کے کاپی رائٹ facebook

اطلاعات کے مطابق ایران میں سویڈن کے رہائشی ایرانی ڈاکٹر کو اسرائیل کے لیے جاسوس کرنے کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی ہے۔

تہران کے استغاثہ کا کہنا ہے کہ ایک شخص کو 30 جوہری اور فوجی سائنسدانوں کے پتے اسرائیلی اہلکاروں کو دینے کے الزام میں قصور وار ٹھہرایا گیا ہے۔ ان سائنسدانوں میں سے دو 2010 میں بم حملوں میں ہلاک ہو گئے تھے۔

ایران میں بی بی سی کے اہلکاروں کے اثاثے منجمد

ایران میں زمبا رقص پر پابندی کے مطالبے پر تنقید

آرش صادقی کی رہائی کے لیے جیل کی طرف مارچ

استغاثہ نے سزا پانے والے مجرم کی شناخت ظاہر نہیں کی ہے تاہم ایمرجنسی میڈیسن کے ماہر ڈاکٹر احمد رضا جلالی کی بیوی کا کہنا ہے کہ ان کے شوہر کو ان الزامات میں قصور وار ٹھہرایا گیا ہے۔

حقوق انسانی کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ'یہ سزا نفیساتی تشدد، جعلی اعترافِ جرم اور واضح طور پر غیر منصفانہ مقدمے' کے نتیجے میں دی گئی ہے۔

تہران کے افسر استغاثہ عباس جعفری دولت آبادی نے عدلیہ کے اہلکاروں کو ایک اجلاس میں 'مجرم' کا نام ظاہر کیے بغیر کہا کہ اس نے فوجی اور جوہری منصوبوں پر کام کرنے والے 30 اہم افراد کے پتے اور کوائف اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کو دیے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ اس فہرست میں سائنسدان مسعود علی محمدی اور ماجد شاہریری کے نام بھی شامل تھے جو تہران میں جنوری 2010 میں ہونے والے دھماکوں کے نتیجے میں ہلاک ہو گئے تھے۔

استغاثہ نے مزید بتایا کہ مجرم نے یہ معلومات اسرائیل کو رقم اور سویڈن کا رہائشی پرمٹ حاصل کرنے کے عوض فراہم کیں۔

ایران کے بارے میں مزید پڑھیے

کیا آپ نے ایران میں غاروں والا گاؤں دیکھا ہے؟

کارٹون مقابلے میں ٹرمپ کا مذاق اڑایا گيا

پیر کو ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بتایا تھا کہ اسے احمد رضا کے ایک وکیل نے آگاہ کیا کہ ان کے موکل کو بدعنوانی کے الزام میں سزائے موت سنائی گئی ہے۔

ڈاکٹر احمد رضا کی وکیل زینب طاہری کا کہنا ہے کہ عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ احمد رضا جلالی اسرائیلی حکومت کے لیے کام کرتے تھے اور اس نے انھیں سویڈن کا رہائشی اجازت نامہ دلوانے میں مدد کی۔

ایمنسٹی کے مطابق ڈاکٹر جلالی سٹاک ہوم کے ایک ادارے میں لیکچرر تھے اور کاروباری دورے پر اپریل 2016 کو ایران گئے تھے جہاں انھیں انٹیلیجنس وزارتِ کے اہلکاروں نے گرفتار کر لیا اور وکیل تک رسائی دیے بغیر سات ماہ تک حراست میں رکھا۔

ڈاکٹر جلالی نے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ قید کے دوران دو بار ان سے زبردستی ویڈیو کیمرے کے سامنے اعتراف جرم کرنے کا کہا گیا جس میں تفتیشی اہلکاروں کی جانب سے انھیں پہلے سے لکھا بیان پڑھنے کو کہا گیا۔

سویڈن میں اپنے دو بچوں کے ساتھ مقیم ڈاکٹر جلالی کی بیوی ویدا مہرینہ نے ایمنسٹی کو بتایا کہ ان کے شوہر کی گرفتاری کے وقت سے ذہنی اور جسمانی صحت تیزی سے خراب ہو رہی ہیں۔

انھوں نے اپنے شوہر کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے کوئی جرم نہیں کیا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں