ایک شاہکار بے شمار سوالات

تاج محل تصویر کے کاپی رائٹ CHANDAN KHANNA
Image caption تاج محل دیکھنا انڈیا آنے والے سیاحوں کی اولین ترجیحات میں شامل ہے

انڈیا میں آج کل کچھ دلچسپ سوال ہیں جن کا جواب اگر مل جاتا تو اچھا ہوتا۔

تاج محل کس نے بنوایا اور کیوں؟ اگر شاہجہاں نے بنوایا تو اس میں پیسہ کس کا لگا اور خون پیسنہ کس کا؟

جس زمین پر تاج محل تعمیر ہے، کیا وہاں پہلے ایک مندر تھا؟ اگر مندر تھا تو کیا اسے توڑا گیا؟ اگر توڑا گیا تو کیا جواب میں تاج محل کو توڑ دینا چاہیے؟

تاج محل کو توڑنے پر کیا غیر ملکی سیاحوں کے علاوہ بھی کسی کو اعتراض ہوگا؟ اگر ہوگا تو صرف مسلمانوں کو یا کچھ ہندوؤں کو بھی؟

ویسے شاہجہاں کی رگوں میں ہندو خون کتنا تھا اور مسلمان کتنا؟ دنیا کو محبت کی نشانی دینے والا یہ مغل بادشاہ رحم دل ہندوستانی تھا یا جابر غیرملکی جو غیر قانونی طور پر یہاں آباد ہوگیا تھا؟

سوال یہ بھی ہے کہ اس دور میں ہندوستان کی شہریت کس بنیاد پر ملتی تھی؟ جو انسان ہندوستان میں پیدا ہوا، یہیں پلا بڑھا، جس کے باپ داداؤں نے اس ملک پر ایک صدی حکومت کی، وہ ایک پاسپورٹ یا آدھار کارڈ کا حقدار تھا یا نہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ MANOJ SINGH
Image caption اترپردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ تاج محل کے متعلق اپنے متنازع بیان کے بعد تاج محل کا دورہ کرنے والے ہیں

یہ مسئلہ اب بس حل ہو جائے تو اچھا ہے۔ پھر تاج محل توڑنا ہو تو توڑ دیا جائے۔ رکھنا ہو تو رکھ لیجیے۔ اور بھی بہت سی دوسری تاریخی عمارتیں ہیں جن کے مالکانہ حقوق طے کرنے ہیں۔

اگر مغل غیرقانونی تارکین وطن تھے تو انھیں واپس بھیج دیا جانا چاہیے۔ اگر اب وہ زندہ نہ ہوں تو علامتی طور پر ہی سہی، کیوں نہ ان کی قبروں کو وہاں منتقل کر دیا جائے جہاں سے وہ آئے تھے؟

یہ بھی پڑھیے

’تاج محل مغل لٹیروں کی نشانی ہے‘

تاج محل بھی پاکستان بھجوا دیں!

یوگی کو تاج محل سے نفرت کیوں؟

تاج محل توڑنے کے بھی کئی فائدے ہیں، اس کے سنگ مرمر کو مرمری رکھنا بھی ایک جنگ ہے، اس کے رکھ رکھاؤ پر بہت پیسہ خرچ ہوتا ہے۔ اگر تاج محل کو توڑ کر یہ پیسہ گورکھپور کے اس ہسپتال کو دے دیا جائے جہاں تقریباً ہر ہفتے درجنوں بچوں کی موت ہوتی ہے تو نہ جانے کتنی معصوم جانیں بچائی جاسکتی ہیں۔

لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا کیجے!

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پاکستان کے سابق صدر پرویز مشرف اور ان کی اہلیہ تاج محل کے احاطے میں

اب بس آپ یہ مت پوچھنے لگیے گا کہ سیاحوں سے ہونے والی آمدنی کا کیا؟ پیسہ سب کچھ نہیں ہوتا، لیکن اگر بی جے پی کے رہنما سبرامنیم سوامی کی سنیں تو ہوتا بھی ہے۔ ان کا دعوی ہے کہ جے پور کے جن راجاؤں کی زمین تاج محل بنانے کے لیے حاصل کی گئی تھی، انھیں مناسب معاوضہ ادا نہیں کیا گیا گیا تھا۔

ان کا دعوی ہے کہ بدلے میں ان راجاؤں کو صرف چالیس گاؤں دیے گئے تھے جبکہ اس 'پراپرٹی' کی قیمت اس سے کہیں زیادہ تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption روسی صدر ولادیمیر پوتن اپنی اہلیہ کے ساتھ

اب ان راجہ مہاراجاؤں کے جانشین اس کیس کو عدالت میں لے جاسکتے ہیں جہاں دھڑا دھڑ فیصلے ان کسانوں کے حق میں سنائے جارہے ہیں جن کی زمینیں حکومت نے اکوائر کی تھیں لیکن مناسب معاوضہ ادا نہیں کیا گیا تھا۔

بہرحال، اتر پردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ، جو ماضی میں یہ کہہ چکے ہیں کہ تاج محل کا ہندوستان کی تہذیب اور ثقافت سے کوئی تعلق نہیں ہے، اب تاج محل کا دورہ کرنے والے ہیں۔ اور ظاہر ہے کہ قیاس آرائیاں شروع ہوگئی ہیں کہ وہ اس حسین عمارت کے بارے وہاں کیا کہیں گے؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ہلیری کلنٹن اور ان کی بیٹی نے بھی تاج محل کے ساتھ تصویر لی تھی

اتر پردیش کے سابق وزیراعلی اکھیلیش یادو نے ان سے پوچھا ہے کہ وہ تاج محل کے سامنے تصویر کھنچوائیں گے یا نہیں؟

اکھیلیش یادو کو 'اب بس انتظار یہ ہے کہ جب وزیر اعلی تاج محل جائیں گے، اور ان کی فوٹو آئے گی، تو وہ کیسی لگے گی؟'

اچھی ہی لگے گی!

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں