انڈیا: دس سالہ بچی کا ریپ، بچی کے دو ماموں مجرم قرار

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انڈیا میں ریپ کے واقعات کے خلاف سخت غم و غصہ بھی پایا جاتا ہے

انڈیا میں ایک خصوصی عدالت نے ایک دس سالہ بچی کے ریپ کے جرم میں دو افراد کو قصور وار ٹھہرایا ہے۔ دونوں افراد بچی کے ماموں ہیں۔

یاد رہے کہ اس بچی کو اسقاطِ حمل کی اجازت نہیں دی گئی تھی اور اس نے اگست کے مہینے میں ایک بچی کو جنم دیا تھا۔

اسقاط حمل کی اجازت نہ ملی، دس سالہ بچی ماں بننے پر مجبور

’اسقاط حمل جرم نہیں ہونا چاہیے‘

مقدمے میں مجرمان کو سزا جمعرات کو سنائی جانی ہے۔

بچی کے حاملہ ہونے کا پتا اس وقت چلا جب جولائی کے مہینے میں اسے پیٹ کے درد کی وجہ سے ہسپتال جانا پڑا۔

پیدا ہونے والی بچی کے ڈی این اے کا نمونہ جب پہلے ملزم لڑکی کے بڑے ماموں سے نہیں ملا تو لڑکی کے دوسرے ماموں کو گرفتار کیا گیا۔

بی بی سی پنجابی کے نامہ نگار آروند چھابرا نے بتایا کہ لڑکی کے بڑے ماموں کا مقدمہ ایک ماہ تک جاری رہا جبکہ اس کے چھوٹے ماموں کو 18 روز کی ریکارڈ تیزی کے ساتھ سنا گیا۔

اس بچی کا حمل اور اس کے بعد ان کی جانب سے اسقاطِ حمل کی درخواست انڈین میڈیا کی توجہ کا مرکز بنے رہے ہیں۔

بچی 30 ہفتوں کی مدت کی حاملہ تھی جب عدالت نے ان کی اسقاطِ حمل کی درخواست یہ کہہ کر مسترد کر دی کہ ان کا حمل کافی مدت پوری کر چکا ہے۔ انڈیا میں 20 ہفتوں سے زیادہ وقت گزرنے کے بعد تب تک اسقاطِ حمل کی اجازت نہیں دی جاتی جب تک ڈاکٹر یہ نہ کہہ دیں کہ ماں کی جان کو خطرہ لاحق ہے۔

یہ سخت قانون انڈیا میں صنفی تناسب میں کمی لانے کے لیے متعارف کروایا گیا تھا۔

انڈیا میں شادی شدہ جوڑوں کی جانب سے بیٹے کے خواہش کے نتیجے میں لاکھوں لڑکیوں کو پیدا ہونے سے قبل ہی ہلاک کیا جاتا رہا ہے۔

گذشتہ چند ماہ کے دوران انڈیا کی سپریم کورٹ میں ایسی کئی درخواستیں دائر کی گئی ہیں جن میں ریپ کا شکار ہونے والی خواتین 20 ہفتے سے زیادہ عرصے کا حمل ضائع کرنا چاہتی ہیں اور عدالت نے ایسے تمام معاملات ڈاکٹروں کے سپرد کیے ہیں۔

اس بچی کو اپنے حاملہ ہونے کا علم نہیں تھا اور اس سے کہا گیا تھا کہ اس کا پیٹ بڑھنے کی وجہ اس کے پیٹ میں پتھر ہے۔ اگست میں بچی کی پیدائش کے بعد اسے ایک تنظیم کو پرورش کے لیے دیا گیا۔

ابتدا میں لڑکی نے پولیس اور بچوں کی ایک تنظیم کو بتایا کہ اسے گذشتہ سات ماہ میں متعدد بار بڑے ماموں کے ہاتھوں ریپ کیا گیا۔ لڑکی کے بڑے ماموں کی عمر 40 کی دہائی میں ہے۔

لڑکی کے باپ نے بی بی سی کو بتایا کہ بڑے ماموں نے الزامات کی تردید نہیں کی تھی۔

مگر جب پیدا ہونے والی بچی کا ڈی این اے بڑے ماموں سے نہیں ملا تو پولیس نے ان کے چھوٹے ماموں کو گرفتار کیا۔ پیدا ہونے والی بچی کا ڈی این اے چھوٹے ماموں سے مل گیا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں