انڈین جیل میں پیدا ہونے والی حنا پاکستان آ رہی ہے

حنا اپنی والدہ اور خالہ کے ہمراہ تصویر کے کاپی رائٹ RAVINDER SINGH ROBIN
Image caption یہاں 11 سالہ حنا کو اپنی والدہ اور خالہ کے ہمراہ دیکھا جا سکتا ہے ساتھ میں ان کامقدمہ لڑنے والی وکیل بھی ہیں

انڈیا کے شہر امرتسر کی جیل میں پیدا ہونے والی پاکستانی لڑکی حنا کو اپنی والدہ اور خالہ کے ہمراہ بالآخر پاکستان جانے کی اجازت مل گئی ہے۔

حنا کی پیدائش سنہ 2006 میں امرتسر کی جیل میں ہوئی تھی اور اب وہ اپنی والدہ اور خالہ کے ہمراہ امرتسر سینٹرل جیل میں ضابطے کی کارروائی پوری ہونے کا انتظار کر رہی ہیں۔

ایک مقامی این جی او نے ان کی خالہ اور ماں کی رہائی کے لیے چار لاکھ کا جرمانہ ادا کر دیا ہے۔ اگر یہ جرمانہ ادا نہیں کیا جاتا تو انھیں دو سال مزید قید میں گزارنے پڑتے۔

اس مقدمے میں پاکستانی قیدیوں کی وکیل نوجوت کور چبّا نے بتایا کہ دہلی میں قائم پاکستان ہائی کمیشن اور امرتسر جیل کے پولیس ڈی جی نے تینوں پاکستانی شہریوں کی رہائی کے لیے کلیئرينس دے دی ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے نوجوت نے بتایا کہ انھیں وزارت داخلہ کے اعلیٰ حکام کی جانب سے حنا، ان کی والدہ فاطمہ اور خالہ ممتاز کی رہائی کے بارے میں فون کال آئی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ RAVINDER SINGH ROBIN

انھوں نے یہ بھی بتایا کہ بٹالا میں قائم این جی او ہیومنیٹی کلب نوتیج سنگھ نے جرمانے کی رقم ادا کی ہے۔

حکام کے مطابق فاطمہ اور ممتاز کو آٹھ مئی سنہ 2006 کو اٹاری بین الاقوامی سرحد پر اس وقت گرفتار کیا گيا تھا جب وہ منشیات انڈیا لا رہی تھیں۔

دونوں کو منشیات مخالف قانون این ڈی پی ایس کے تحت ساڑھے دس سال قید کی سزا ہوئی تھی جو نومبر سنہ 2016 میں پوری ہو گئی۔ قید کی سزا کے علاوہ عدالت نے دونوں پر دو دو لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا تھا جس کی عدم ادائیگی میں انھیں مزید دو سال قید کی سزا پوری کرنی تھی۔

سزا دیے جانے کے وقت فاطمہ حاملہ تھیں اور انھوں نے جیل میں ہی حنا کو جنم دیا۔

نوجوت چبّا نے بتایا: ’مجھے بہت خوشی ہے کہ لڑکی اپنے والدین کے ساتھ دس سال جیل میں گزارنے کے بعد اپنے اہل خانہ کے پاس جا رہی ہے۔‘

وکیل صفائی نے بتایا کہ انھوں نے انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی کو ایک خط لکھا تھا کہ وہ وزارت داخلہ اور خارجہ سے کہیں کہ وہ حنا کی فائل کو جلد سے جلد کلیئر کر دیں تاکہ وہ بغیر تاخیر اپنے وطن واپس جا سکیں۔

انھوں نے بتایا کہ جرمانے کی چار لاکھ رقم رواں سال سات اپریل کو بینک میں جمع کرا دی گئی تھی۔

انھوں نے بتایا حنا اور اس کی والدہ اس خبر سے بہت خوش ہیں اور حنا اپنے والد اور اپنے دیگر بہن بھائیوں سے ملنے کی خواہشمند ہے جسے اس نے کبھی دیکھا نہیں ہے بلکہ صرف ماں سے ان کے بارے میں سن رکھا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ RAVINDER SINGH ROBIN

جیل میں رہتے ہوئے حنا نے جیل کے سکول میں تعلیم جاری رکھی تھی اور سرکاری سکول ٹیچر سکھجیندر سنگھ ہیئر جو حنا کو جیل میں پڑھاتے تھے انھوں نے بتایا کہ حنا ذہین لڑکی ہے اور انھوں نے بنیادی پنجابی، ہندی اور انگریزی سیکھ لی ہے۔

اب حنا پانچویں کلاس کی طالبہ ہے اور اسے جیل سے باہر کسی سکول میں داخلے کی اجازت نہیں۔

دوسری جانب پاکستان میں سیف الرحمان اپنے چھ بچوں کے ساتھ اپنی اہلیہ فاطمہ، سالی ممتاز اور 11 سالہ بچی کا بے چینی سے انتظار کر رہے ہیں۔

گجرانوالا سے سیف الرحمان نے فون پر بتایا کہ ان کے اور بچوں کے لیے فاطمہ کے بغیر یہ 11 سال بہت مشکل تھے۔

انھیں اس کا ابھی تک یقین نہیں کہ ان کی اہلیہ سمگلنگ میں شامل تھیں لیکن اب وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ جلد از جلد ان کی اہلیہ اور بیٹی ان کے پاس آ جائیں۔

ایک بیکری میں کام کرنے والے سیف الرحمان نے بتایا: ’میں بہت غریب ہوں اور بہ مشکل اپنا گھر چلا پاتا ہوں اس لیے میں جرمانے کی رقم جمع نہیں کر سکا۔ میں اس این جی او کا شکرگزار ہوں جنھوں نے میری اہلیہ اور بیٹی کو انڈیا سے آنے میں امداد کی۔‘

جب ان سے پوچھا کہ وہ ان کا استقبال کیسے کریں گے تو انھوں نے کہا: ’انھیں لینے ہم سب واہگہ بارڈر جائیں گے اور پھر شکریہ ادا کرنے انھیں درگاہ پر لے جائیں گے۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں