اڑیسہ میں مگرمچھوں سے تنگ دیہاتی

مگرمچھ تصویر کے کاپی رائٹ ASHISH SENAPATI

خلیج بنگال سے ملحق ساحلی ریاست اڑیسہ کا كیندرپاڑا کا علاقہ سدا سیاحوں کی توجہ کا مرکز رہا ہے۔

خوبصورت سمندر، دریا اور تالاب کے دلکش مناظر نے صدیوں سے اڑیسہ کے اس علاقے کو ایک علیحدہ پہچان دی ہے۔

كیندرپاڑا میں قائم بھیترکنیکا پناہ گاہ دنیا میں مگرمچھوں کے تحفظ کا سب سے بڑا منصوبہ ہے۔ جب یہ منصوبہ شروع ہوا تو وہاں 75 مگرمچھ تھے۔

٭ ’والد کو ہاتھیوں نے کچل کر مار ڈالا‘

٭ انسان اور جانور کوئلے کی کان کنی سے متاثر

سنہ 1952 سے پہلے تک بھيتركنیكا کے 'مینگروز' کے جنگلوں کا علاقہ زمینداری نظام کے تحت تھا لیکن پھر حکومت نے اس علاقے کو اپنی تحویل میں لے لیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ DEBALIN ROY

سنہ 1998 میں بھيتركنیكا کے 672 مربع کلومیٹر کے علاقے کو مگرمچھوں کی پناہ گاہ قرار دیا گیا اور یہاں پر نمکین پانی کے مگرمچھوں کے تحفظ کا سب سے بڑا منصوبہ شروع ہوا۔

لیکن گذشتہ چند سالوں میں مگرمچھوں کی اس قدر افزائشِ نسل ہوئی کہ ان کی آبادی اب عام لوگوں کے لیے خطرہ بن گئی ہے اور محکمۂ جنگلات کے لیے یہ ایک بڑا مسئلہ بن گیا ہے۔

اپنی پناہ گاہوں سے نکل کر مگرمچھ قریبی دریا، نالوں اور تالاب میں آنے کے بعد اب گھروں میں بھی گھسنے لگے ہیں۔

یہاں سے ہی انسانوں اور مگرمچھوں کی لڑائی شروع ہوتی ہے جس کی زد میں انسان کے ساتھ مگرمچھ بھی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ ASHISH SENAPATI

مگرمچھ اور انسانوں کی رسہ کشی

لیکن اب كیندراپاڑا کی خوبصورت جھیلوں اور ندیوں کے اس علاقے میں آباد لوگوں میں ایک عجیب سا خوف دیکھا جا سکتا ہے۔

یہاں کے لوگوں کو ہمیشہ ہوشیار اور چوکنا رہنا ہوتا ہے۔ تھوڑی سی چوک سے انھیں مگرمچھوں کے جبڑوں میں سما جانے کا خطرہ رہتا ہے۔

ان کے حملوں کا شکار عام طور پر ماہی گیر ہو رہے جن کا مچھلی پکڑنے کے لیے سمندر یا دریاؤں پر انحصار ہے۔ مقامی لوگوں کو یہ سمجھ نہیں آ رہا کہ آخر وہ اس دیو قامت جاندار کے ساتھ کیسے گزارہ کریں۔

كیندرپاڑا کے سرکاری ہسپتال میں زیر علاج خاتون شانتی لتا راوت خوش قسمت تھیں کہ وہ بچ گئیں۔ حال ہی میں وہ اپنے گاؤں کے تالاب پر گئیں تھیں کہ مگرمچھ نے پیچھے سے انھیں دبوچ لیا۔

انھیں اس بات کا اندازہ تک بھی نہیں تھا کہ تالاب پر کوئی ان کا منتظر ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ ASHISH SENAPATI

مگرمچھ نے پیچھے سے پکڑ کر گھسیٹ لیا

وہ کہتی ہیں: میں رفع حاجت سے لوٹی اور ہاتھ پاؤں دھو رہی تھی۔ اسی وقت مجھے مگرمچھ نے پیچھے سے پکڑا اور گھسیٹتا چلا گیا۔ مجھے دو بار پانی کے اندر ڈبو دیا۔ لیکن کسی طرح میرا ہاتھ ایک درخت کی شاخ تک پہنچ گيا۔ پھر میری بہو نے مگرمچھ کو لوہے کے راڈ سے مارا۔ اس کے بعد ہی اس نے مجھے چھوڑا۔ لیکن میرے پاؤں بری طرح زخمی ہو گئے۔

حملوں کے شکار لوگوں کی فہرست طویل ہے اور ان کے مختلف تجربات ہیں۔

ان میں سے ایک كیندرپاڑا میں راج نگر کی رہنے والی بولا پردھان ہیں جو اپنے گھر کے تالاب میں غسل کرنے گئیں تھیں۔اسی وقت ایک بڑے سے مگرمچھ نے ان پر حملہ کر دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ DEBALIN ROY

کسی طرح اس کے جبڑے سے بچی

واقعہ کے بارے میں بتاتے ہوئے بولا کہتی ہیں:'میں برتن دھو رہی تھی۔ تالاب میں مگرمچھ کس طرح آ گیا پتہ ہی نہیں چل پایا۔ اس نے جھپٹا مار کر میرے ہاتھ کو دبوچ لیا۔ پھر میں چلائی اور گاؤں کے لوگ مجھے بچانے کے لیے دوڑے۔ کسی نہ کسی طرح ان لوگوں نے مجھے اس کے جبڑے سے بچایا۔

صرف بولا پردھان ہی نہیں كیندرپاڑا میں قائم بھيتركنیكا پناہ گاہ کے آس پاس آباد گاؤں میں رہنے والوں کو پتہ نہیں کہ کس لمحے ان کا سامنا کسی مگرمچھ سے ہو جائے۔ چاہے وہ دن یا رات!

تصویر کے کاپی رائٹ DEBALIN ROY

دیکھا تو انگوٹھا غائب تھا۔۔۔

مثال کے طور کبندر دارائی کو ہی لے لیں۔

وہ کہتے ہیں: 'میں مچھلی پکڑنے گیا تھا۔ ہمارا تالاب دریا کے نزدیک ہے۔ رات کو ایک مگرمچھ تالاب کے پاس آ گیا تھا۔ اس نے مجھ پر حملہ کیا۔ وہاں کوئی نہیں تھا۔ میں نے کسی طرح سے خود کو چھڑا لیا اور وہاں سے بھاگ گیا۔ راستے میں اپنے ہاتھ پر میری نظر گئی تو دیکھا میرا انگوٹھا غائب تھا۔

مقامی لوگوں کا الزام ہے کہ مگرمچھوں کے حملے بڑھ رہے ہیں مگر انتظامیہ متاثرین کو معاوضہ دینے میں تامل کی پالیسی اپنائے ہوئے ہے۔

سرکاری ضابطے کے مطابق مگرمچھ کے حملے میں زخمی ہونے والوں کو دو لاکھ روپے دینے کی بات کہی گئي ہے اور مرنے والے کے لواحقین کو چار لاکھ روپے دینے کا قانون ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ DEBALIN ROY

مسئلہ بڑا، حالات بے قابو

وائلڈ لائف کے ماہرین کا خیال ہے کہ اب یہ مسئلہ ایک بڑی شکل اختیار کر چکا ہے کیونکہ سرکاری عملہ ابھی مگرمچھوں کی آبادی کو کنٹرول کرنے میں ناکام ہو گیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ آبادی پر کنٹرول نہ ہونے کے سبب مگرمچھ گاؤں میں بھی گھس رہے ہیں۔

انسانی آبادی میں موجود تمام دریا، تالاب اور نالے وغیرہ مکمل طور پر غیر محفوظ ہو چکے ہیں۔

مقامی صحافی آشیش سیناپتی کا خیال ہے کہ بھيتركنیكا کے تقریباً چار بلاکوں میں حالات انتظامیہ اور محکمہ جنگلات کے عملے کے ہاتھوں سے نکل گئے ہیں۔

سیناپتی کہتے ہیں: 'مگرمچھ کی تعداد میں بے تحاشہ اضافے کی وجہ سے یہاں کے ماہی گیروں اور لوگوں کی زندگیاں ہی داؤ پر لگی ہوئی ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ تالاب، نہریں، گھاٹیوں اور پانی کے ذرائع پر مضبوط جالياں لگائے تاکہ لوگ مگرمچھ کے حملوں سے بچ پائیں۔ جہاں تک حملوں کے متاثرین کی بات ہے، تو تمام کو معاوضہ نہیں مل پا رہا ہے۔۔۔'

تصویر کے کاپی رائٹ DEBALIN ROY

لوگوں کی زندگی داؤ پر

اڑیسہ کے سرکاری محکمے کا دعویٰ ہے کہ اس نے مگرمچھ کے حملوں کو سنجیدگی سے لینا شروع کیا ہے۔

ابھی محکمہ جنگلات اور بھیتركنیكا پناہ گاہ کے عملے تالاب اور دریاؤں پر موجود گھاٹیوں پر جالياں لگانے کے کام کر رہے ہیں تاکہ مگرمچھوں کے حملے سے لوگوں کو بچایا جائے۔

بھيتركنیكا میں تعینات سینیئر افسر كپلیندر پردھان کہتے ہیں کہ مسئلہ پیچیدہ تو ہوتا جا رہا ہے تاہم حکومت اس کا حل نکالنے کی پوری کوشش کر رہی ہے۔

بی بی بی سے گفتگو کرتے ہوئے، پردھان نے کہا: 'مگرمچھ دریاؤں میں رہتے ہیں۔ وہ پانی کے دوسرے ذرائع میں بھی آ جاتے ہیں۔ جب لوگ مچھلی پکڑنے یا نہانے جاتے ہیں تو ان پر مگرمچھ حملہ کر دیتے ہیں۔ ہم نے دریا اور پانی کے دوسرے ذرائع کے کناروں پر جالياں لگانے کا کام شروع کیا ہے تاکہ مگرمچھ گاؤں کے تالابوں میں داخل نہ ہوں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ ASHISH SENAPATI

پانی میں رہ کر مگر سے بیر

گھاٹوں اور تالابوں پر جالیاں لگائی جا رہی ہیں لیکن مقامی لوگوں نے الزام لگایا ہے کہ جالیاں تو لگا دی گئی ہیں لیکن ان کی دیکھ بھال نہیں ہو رہی ہے اور یہ جلد ہی ٹوٹ بھی جا رہی ہیں اور تالاب اور دریاؤں کے گھاٹ غیر محفوظ کے غیر محفوظ ہی ہیں۔

بہرحال، اس جدوجہد میں كیندرپاڑا کے لوگوں کو اب اتنی سمجھ تو آ گئی ہے کہ تالاب میں رہ کر مگر مچھ سے دشمنی نہیں رکھ سکتے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں