امریکہ کو تنہا کرنے کے لیے ایران اور روس کو تعاون کرنا چاہیے: آیت اللہ خامنہ ای

ایران تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے روسی صدر ولادیمیر پوتن پر زور دیا ہے کہ ان کا ملک امریکہ کو تنہا کرنے کے لیے طریقے تلاش کرنے میں ایران کی مدد کرے۔

ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق علی خامنہ ای نے روسی صدر سے ملاقات میں کہا ہے کہ امریکہ کو تنہا کرنے اور مشرق وسطیٰ میں استحکام لانے کے لیے تہران اور ماسکو کو باہمی تعاون بڑھانا چاہیے۔

ایران کے ریاستی ٹی وی چینل کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پوتن نے ایرانی رہنماؤں کے ساتھ ملاقاتیں کی ہیں۔

ریاستی ٹی وی کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای نے مزید کہا کہ 'ہمارے تعاون سے امریکہ کو تنہا کیا جا سکتا ہے ۔۔۔ شام میں امریکہ کے حمایت یافتہ دہشت گردوں کی ناکامی سے کوئی انکار نہیں کر سکتا لیکن امریکہ اب بھی اپنی سازشیں جاری رکھے ہوئے ہے۔'

یہ بھی پڑھیے

ایران یمن میں قیامِ امن میں ناکامی کا ذمہ دار: سعودی عرب

’اپنے دفاع کے لیے ہر قسم کا ہتھیار بنائیں گے‘

’جوہری معاہدے کے خلاف اقدام کا منہ توڑ جواب دیں گے‘

’پاسدارانِ انقلاب پر پابندی کا منہ توڑ جواب دیں گے‘

خیال رہے کہ ایران اور روس شام کے صدر بشار الاسد کے دو بڑے حامی ہیں۔

دوسری جانب ایرانی صدر حسن روحانی نے صدر پوتن سے ملاقات میں کہا کہ ایران اور روس مل کر 'علاقائی دہشت گردی' سے نمٹ سکتے ہیں۔

صدر روحانی نے روسی صدر اور آذربائیجان کے صدر کے ہمراہ پریس کانفرنس میں کہا 'ہمارے تعاون کے باعث اس خطے میں دہشت گردی سے نمٹا گیا ہے ۔۔۔ ہم مل کر خطے میں امن قائم کر سکتے ہیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

روسی صدر پوتن نے ایران کے ساتھ تعاون کو سراہتے ہوئے اس کو کارآمد قرار دیا۔

صدر پوتن نے کہا کہ 'ہم عالمی طاقتوں کے ساتھ ہونے والے ایرانی جوہری معاہدے میں یک طرفہ کسی تبدیلی کی مخالفت کرتے ہیں۔'

روسی صدر کے ایران کے دورے کے دوران روسی کمپنی روزنیفٹ اور نیشنل ایرانین آیل کمپنی کے درمیان 30 بلین ڈالر کا معاہدے طے پایا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں