انڈین جیل میں پیدا ہونے والی پاکستانی لڑکی وطن پہنچ گئیں

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
انڈین جیل سے حنا کی پاکستان واپسی

انڈیا کے شہر امرتسر کی جیل میں پیدا ہونے والی پاکستانی لڑکی حنا جیل سے رہا ہونے کے بعد پاکستان پہنچ گئی ہیں۔

حنا کی پیدائش سنہ 2006 میں امرتسر کی جیل میں ہوئی تھی اور وہ اپنی والدہ اور خالہ کے ہمراہ امرتسر سینٹرل جیل میں قید تھیں اور مقامی این جی او کے تعاون سے اُن کی رہائی ممکن ہوئی ہے۔

انڈین جیل میں پیدا ہونے والی حنا پاکستان آ رہی ہے

ایک مقامی این جی او نے ان کی خالہ اور ماں کی رہائی کے لیے چار لاکھ کا جرمانہ ادا کیا۔ اگر یہ جرمانہ ادا نہیں کیا جاتا تو انھیں دو سال مزید قید میں گزارنے پڑتے۔

بدھ کو بی بی سی سے بات کرتے ہوئے حنا نے کہا تھا کہ وہ اپنے خاندان سے ملنے پر بہت خوش ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ میں پاکستان واپس جا کر ’ماسی (وکیل نوجوت کور) کو بہت یاد کروں گی۔‘ حنا کا کہنا تھا وہ واپس جا کر اپنے بہن بھائیوں سے ملنے کے لیے بےچین ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ RAVINDER SINGH ROBIN

حنا کی والدہ فاطمہ کا کہنا تھا کہ وہ رہائی کے بعد وطن واپسی کے خیال سے خوش تو ہیں لیکن اس قید نے ان کے والدین کو ان سے چھین لیا۔

جمعرات کو امرتسر جیل کے حکام نے حنا، اُن کی والدہ اور خالہ کو پنجاب پولیس کے حوالے کیا۔

اس مقدمے میں پاکستانی قیدیوں کی وکیل نوجوت کور چبّا نے بتایا کہ دہلی میں قائم پاکستان ہائی کمیشن اور امرتسر جیل کے پولیس ڈی جی نے تینوں پاکستانی شہریوں کی رہائی کے لیے کلیئرينس دی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ RAVINDER SINGH ROBIN

حکام کے مطابق فاطمہ اور ممتاز کو آٹھ مئی سنہ 2006 کو اٹاری بین الاقوامی سرحد پر اس وقت گرفتار کیا گيا تھا جب وہ منشیات انڈیا لا رہی تھیں۔

دونوں کو انسدادِ منیشات کے قانون این ڈی پی ایس کے تحت ساڑھے دس سال قید کی سزا ہوئی تھی جو نومبر سنہ 2016 میں پوری ہو گئی۔ قید کی سزا کے علاوہ عدالت نے دونوں پر دو دو لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا تھا جس کی عدم ادائیگی میں انھیں مزید دو سال قید کی سزا پوری کرنی تھی

سزا دیے جانے کے وقت فاطمہ حاملہ تھیں اور انھوں نے جیل میں ہی حنا کو جنم دیا۔

حنا کے بھائی غلام فرید نے گوجرانوالہ سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اور اُن کے بہن بھائی حنا سے ملنے کے لیے بے تاب ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ RAVINDER SINGH ROBIN

’وہ میری چھوٹی بہن ہیں اور ہم نے پیدا ہونے کے بعد سے اب تک انھیں نہیں دیکھا۔ ہم اُن سے ملنے کے لیے بے چین ہیں۔‘

دوسری جانب پاکستان میں سیف الرحمان اپنے چھ بچوں کے ساتھ اپنی اہلیہ فاطمہ، سالی ممتاز اور 11 سالہ بچی کا بے چینی سے انتظار کر رہے ہیں۔

گوجرانوالا سے سیف الرحمان نے فون پر بتایا کہ ان کے اور بچوں کے لیے فاطمہ کے بغیر یہ 11 سال بہت مشکل تھے۔

حنا کے والد سیف الرحمان ایک بیکری میں کام کرتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’میں ایک غریب انسان ہوں اور مشکل سے اپنے بچوں کو پالتا ہوں۔ اس لیے میں جرمانے کی رقم ادا نہیں کر سکتا تھا لیکن میں اُس این جی او کا بہت شکر گزار ہوں جس نے میری بیوی اور بیٹی کی انڈیا میں مدد کی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ RAVINDER SINGH ROBIN

جب اُن سے پوچھا گیا کہ آپ اپنی بیوی اور بیٹی کو کیسے خوش آمدید کہیں گے تو بہت جذباتی ہو گئے۔

انھوں نے کہا کہ ’ہم اُن کے استقبال کے لیے واہگہ باڈر جا رہے ہیں اور وہاں سے لے کر ہم انھیں درگاہ جائیں گے تاکہ شکرانے کی نماز ادا کر سکیں۔‘

جیل میں رہتے ہوئے حنا نے جیل کے سکول میں تعلیم جاری رکھی تھی اور سرکاری سکول ٹیچر سکھجیندر سنگھ ہیئر جو حنا کو جیل میں پڑھاتے تھے انھوں نے بتایا کہ حنا ذہین لڑکی ہے اور انھوں نے بنیادی پنجابی، ہندی اور انگریزی سیکھ لی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں