کیا انڈین ریاست ہماچل پردیش کے انتخابات میں بندر فیصلہ کن کردار ادا کریں گے؟

بندر
Image caption ہماچل پردیش میں بندروں کی بڑھتی ہوئی تعداد کافی مصیبت کا باعث بن گئی ہے

کیا بندر کسی انتخاب کا اہم موضوع ہو سکتے ہیں؟ جی ہاں!

انڈیا کی ریاست ہماچل پردیش کے شہروں اور دیہاتوں میں بندروں کی بڑھتی ہوئی تعداد اتنی سنگین مصیبت بن چکی ہے کہ یہ ریاستی انتخاب کا ایک اہم موضوع ہے۔

ریاست کی حکمراں جماعت کانگریس اور بی جے پی دونوں نے اپنی انتخابی مہم میں بندروں کے مسئلے کا مستقل حل تلاش کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

* ’گائے کو قومی جانور قرار دیا جائے‘

ریاست کے دارالحکومت شملہ میں بندروں کے جھنڈ ہر جگہ گھوم رہے ہیں اور یہ اکثر خطرناک ثابت ہو جاتے ہیں۔ دس برس کی نیلم شرما اور اس کے چھوٹے بھائی روہت کے لیے گھر سے سکول جانا ایک مشکل مرحلہ ہے۔

'راستے میں اکثر بندروں کا غول ہوتا ہے ۔ وہ ہمیں دوڑاتے ہیں اور کبھی بیگ چھین لیتے ہیں۔ ہم کسی بڑے کا انتطار کرتے ہیں تاکہ وہاں سے گزر سکیں۔ ورنہ اکیلے جانا خطرناک ہے۔'

شہر میں مکانوں، بازاروں، سڑکوں اور پیڑوں پر ہر جگہ بندر نظر آتے ہیں اور وہاں کے رہائشی ان سے خوفزدہ ہیں۔

سنترام شرما کہتے ہیں: 'بندروں نے میری بہو کو اتنی زور سے دوڑایا کہ وہ گر پڑی اور اسے کاٹ لیا۔ میرے پوتے کو بندر نے دوڑایا اور پنڈلیوں میں کاٹ لیا۔'

ہماچل میں بندروں کی تعداد اتنی بڑھ چکی ہے کہ وہ شہروں سے نکل کر ہزاروں گاؤں میں پھیل گئے ہیں اور پھلوں اور فصلوں کو کافی نقصان پہنچا رہے ہیں۔ نمول گاؤں کے ایک کسان پیارے لال ٹھاکر نے بتایا کہ پچھلے کچھ سالوں میں بندروں کی تعد اد بہت بڑھ گئی ہے۔

'وہ ‏آم، امرود، انار، بادام کے پھل کھا جاتے ہیں۔ اب تو وہ کھیتوں میں ماش کی دال تک نہیں چھوڑتے۔ کسان بندروں سے بے حال ہیں۔'

دوسرے کسان بھرت شرما نے کہا کہ 'یہ مثال اب بے کار ہوچکی ہے کہ بندر کیا جانے ادرک کا سواد، اب تو بندر ادرک بھی کھانے لگے ہیں۔'

بندروں کی مصیبت کا اب ریاست کی سیاست اور انتخاب پر بھی گہرا اثر پڑ رہا ہے۔

بی جے پی کے رہنما اور ریاستی انتخابات میں پارٹی کے ایک امیدوار ڈاکٹر پرمود شرما کہتے ہیں 'کسانوں کو بندروں کی تباہی سے بچانے کے لیے سولر فینسنگ اور میش وائر کا انتظام کرنا پڑے گا ورنہ ہماچل کے کسان بھی دوسری ریاستوں کی طرح خودکشی کے لیے مجبور ہونے لگیں گے۔'

ریاستی حکومت نے بندروں کی آبادی پر قابو پانے کی کوششیں کیں لیکن وہ کامیاب نہیں ہو سکیں۔

حکمراں جماعت کانگریس کے ترجمان نریش چوہان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بندروں کا سوال ایک سنگین مسئلہ ہے۔ 'ہم نے کچھ گاؤں میں بندروں کو مارنے کے لیے وفاقی حکومت سے اجازت لی تھی لیکن لوگوں کے مذہبی جذبات کے سبب بندروں کو مارنے کا کام آگے نہ بڑھ سکا۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

جانداروں کو نہ مارنے کی حکومتی پالیسی سے بندروں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ بندروں سے بچنے کے لیے کئی سیاحتی مقامات پر کرائے پر لاٹھی لینے کا انتظام ہے۔

حکومتی اعداد وشمار کے مطابق بندر ہر برس ڈیڑھ سو کروڑ روپے سے زیادہ مالیت کی فصل اور پھل تباہ کر رہے ہیں۔

ہماچل پردیش میں بندروں کا مسئلہ اتنا گمبھیر ہو چکا ہے کہ کہ بی جے پی اور کانگریس دونوں کواسے اپنے انتخابی منشور میں شامل کرنا پڑا ہے ۔دونوں سیاسی جماعتیں اس کے مستقل حل کا وعدہ کر رہی ہیں۔ لیکن وہ بندروں کی اس یلغار کو کیسے روکیں گی، اس کے بارے میں کسی پاس کوئی ٹھوس تجویز نہیں ہے۔

اسی بارے میں