انڈیا میں پولیس ریپ کا مقدمہ درج کرنے سے انکاری، والدین نے خود ہی مبینہ ملزمان کو پکڑ لیا

انڈیا تصویر کے کاپی رائٹ AFP

انڈیا میں ایک نوجوان لڑکی کے والدین نے پولیس کی جانب سے ان کی شکایت درج نہ کرنے پر اپنی بیٹی سے مبینہ طور پر ریپ کرنے ملزمان کو خود پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا۔

لڑکی کے والدین بھی پولیس اہلکار ہیں اور ان کے مطابق ایک پولیس افسر نے ان کی بیٹی پر الزام عائد کیا کہ وہ ریپ سے متعلق فلمی کہانی بنا رہی ہے۔

دو مشتبہ افراد کے خلاف اس وقت گینگ ریپ کا مقدمہ دائر کیا گیا جب اس لڑکی کے والدین انھیں پکڑ کر انڈیا کے شہر بھوپال کے ایک پولیس سٹیشن لائے۔

انڈیا: دس سالہ بچی کا ریپ، بچی کے دو ماموں مجرم قرار

اسقاط حمل کی اجازت نہ ملی، ریپ کا شکار بچی ماں بننے پر مجبور

انڈیا میں ریپ کے بڑھتے واقعات

اس مقدمے میں دو دیگر افراد کو گرفتار کر کے ان کے خلاف فوری مقدمہ چلانے کا حکم دیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ یہ واقعہ جمعرات کو اس وقت پیش آیا جب دو افراد نے انڈیا کے شہر بھوپال میں ایک 19 سالہ لڑکی پر ایک پل کے نیچے حملہ کیا۔ انھوں نے چار گھنٹوں تک لڑکی کا ریپ کیا، پھر اسے باندھنے کے بعد دو اور آدمیوں کو بلایا جنھوں نے لڑکی کو جنسی طور پر ہراساں کیا۔

مقامی میڈیا کے مطابق کم سے کم دو پولیس سٹیشنز نے ابتدائی طور پر ریپ کا مقدمہ درج کرنے سے انکار کیا تھا۔

دو پولیس اہلکاروں کو شکایت درج نہ کرنے پر برطرف کر دیا گیا ہے۔

لڑکی کے والدین نے اخبار 'دی ٹائمز آف انڈیا' کو بتایا کہ انھوں نے مشتبہ آدمیوں کو آزادانہ گھومتے دیکھا اور ان کو پکڑنے کا فیصلہ کیا۔

لڑکی کی والدہ نے اخبار کو بتایا کہ 'میری بیٹی نے حبیب گنج ریلوے سٹیشن سے آتے ہوئے ریپ کرنے والوں میں سے دو کو منسارور کمپلیکس کے سامنے دیکھا جو جائے وقوعہ سے 500 میٹر کے فاصلے پر ہے۔'

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے دونوں کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا۔

انھوں نے مزید کہا 'یہ میری زندگی کا ایک بدترین تجربہ ہے، اگر ایک خاتون پولیس اہلکار ہونے کے باوجود مجھے اپنی بیٹی کے گینگ ریپ کی شکایت درج کرنے میں اس طرح کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو میں سوچ نہیں سکتی کہ عام آدمی کو کتنے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہو گا۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں