ہماچل انتخابات: جیت ترقی اور خوشحالی کی ہی ہوگی

تصویر کے کاپی رائٹ SANJAY BAID EPA
Image caption ہماچل دوری ریاستوں کے مقابلے خوشحال ہے

انتخابات جمہوریت میں عوام کی طاقت کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں ۔ انڈیا میں مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی تشکیل کے لیے ہر پانچ برس میں انتخابات منعقد کیے جاتے ہیں ۔ ٹیکنالوجی، انٹرنٹ اور انفارمیشن تک عام آدمی کی رسائی کے سبب سیاسی جماعتوں کے لیے انتخاب جیتنا اب پہلے کے مقابلے میں کافی مشکل اور مہنگا ہو چکا ہے۔

حالیہ برسوں میں سیاسی جماعتوں نے ووٹروں کی غریب اکثریت کو راغب کرنے کے لیے طرح طرح کے ایسے انتخابی وعدے کرنے شروع کیے ہیں جن کا مقصد ریاست یا رائے دہندگان کی ترقی نہیں بلکہ صرف ان کا ووٹ حاصل کرنا ہوتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ جمہوریت کے قیام کے ساٹھ برس سے زیادہ گزر جانے کے باوجود انڈیا کی بہت سے ریاستیں دنیا کے غریب ترین ترین علاقوں میں شمار ہوتی ہیں۔

شمالی ہندوستان کی بیشتر ریاستیں اسی زمرے میں آتی ہیں اور انہیں بیمار ریاستیں کہا جاتا ہے۔ یہاں سیاسی جماعتیں اور رہنما خود کو عوام کے منتخب نمائندے نہیں بلکہ ریاست کا حکمراں اور عوام کو ریاست کا مالک نہیں بلکہ اپنی رعایا سمجھتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ SAJJAD HUSSAIN AFP
Image caption ہماچل میں سڑکوں اور پلوں کا جال بچھایا گیا ہے

لیکن ملک میں کچھ ایسی بھی ریاستیں ہیں جہاں صورتحال اس سے مختلف ہے ۔ شمال میں واقع ہماچل پردیش ایک ایسی ہی ریاست ہے۔ پہاڑوں میں واقع یہ ایک چھوٹی ریاست ہے۔ اس کی آبادی محض ستر لاکھ ہے۔ یہاں تقریباً پچاس لاکھ ووٹرز ہیں۔ ہماچل میں رائے دہندگان بی جے پی اور کانگریس کو باری باری منتخب کرتے رہے ہیں۔ یہاں نو نومبر کو انتخاب ہو رہے ہیں۔ دونوں جماعتوں کے درمیان مقابلہ کافی سخت ہے۔

ہماچل ایک ایسی ریاست ہے جہاں کوئی بے گھر نہیں ہے۔ ہر گھر میں بجلی ہے جو کبھی نہیں جاتی۔ ریاست میں بجلی کے نرخ غالباً ملک میں سب سے سستے ہیں۔ ہر کسی کو صاف پانی دستیاب ہے۔ یہاں اسی کے عشرے سے ہی سیاسی جماعتوں نے ترقی کو اپنا نعرہ بنا لیا تھا اور دونوں جماعتوں کے وزراء اعلی نے ریاست کی ترقی میں بہترین کردار ادا کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ SANJAY BAID EPA
Image caption ہماچل میں اس وقت کانگریس کی حکومت ہے

اس بار بی جے پی کی جانب سے پریم کمار دھومل وزیر اعلی کے امیدوار ہیں۔ وہ پہلے بھی وزیر اعلی رہ چکے ہیں اور انہیں ریاست میں 'سڑک کا وزیر اعلی' کہا جاتا ہے انہوں نےاپنے اقتدار میں سڑکوں کا جال پھیلا دیا تھا اور گاؤں گاؤں تک سڑک پہنچائی۔ ان کے مقابل کانگریس کے موجودہ وزیر اعلی ویر بھدر سنگھ ہیں جو چھ بار وزیر اعلی رہ چکے ہیں۔ انہیں 'تعلیم اور بنیادی ڈھانچے' کا وزیر اعلی کہا جاتا ہے۔

ہماچل میں سکول، کالجز، میڈیکل کالجز، ہسپتال اور طبی سہولیات کا بہترین انتظام ہے۔

ایسا نہیں ہے کہ یہاں ہر چیز مثالی ہے۔ لیکن ایک دشوار گزار پہاڑی ریاست میں جو سہولیات عوام کو حاصل ہیں اور جو رسائی انہیں حکومت تک ملی ہوئی ہوئی ہے وہ ملک کی شاید ہی کسی ریاست میں ہو۔ ایسا بھی نہیں کہ یہاں غربت نہیں ہے۔ لیکن یہاں کی غربت اس سطح پر ہے کہ ہر انسان کو بنیادی ضروریات کی سبھی چیزیں دستاب ہیں۔ کینور اور لاہول سپیتی جیسے دور دراز کے کچھ علاقوں میں بھاری برفباری اور مشکل راستوں کے سبب مقامی لوگوں کو وہ سہولیات حاصل نہیں جو باقی لوگوں کو ہیں۔ لیکن وہاں بھی صورتحال رفتہ رفتہ بدل رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ SANJAY BAID EPA
Image caption ہندوستانی وزیراعظم نریندر مودی بی جے پی کی کامیابی کے لیے ریاست میں ریلیاں کر رہے ہیں

ایسا بھی نہیں ہے کہ ہماچل ایک ترقی یافتہ ریاست بن چکی ہے۔ لیکن وہ دوسری ریاستوں کے لیے ترقی کا ماڈل ضرور بن سکتی ہے۔ چند عشرے پہلے ہماچل ایک غریب اور پسماندہ ریاست تھی آج وہ پھلوں اور میوات پیدہ کرنے والی ریاستوں میں سب سے آگے ہے۔ سیاحت اس کی معیشت کا سب سے اہم حصہ بنتا جا رہا ہے۔ عوام میں خوشحالی کی سطح بڑھتی جا رہی ہے۔

نو نومبر کا ریاستی انتخاب کافی سخت ہے۔ موجودہ وزیر اعلی ویربھدر سنگھ کانگریس کے واحد ایسے رہنما ہیں جو نہرو کے دور سے سیاست میں ہیں۔ بی جے پی نے انہیں شکست دینے کے لیے زبردست انتخابی مہم چلا رکھی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے علاوہ بی جے پی کے اقتدار والی کئی ریاستوں کے وزراء اعلی اور مرکزی وزراء بھی انتخابی ریلیاں کر رہے ہیں۔ انتخابات میں نتیجہ جو بھی ہو جیت یہاں ترقی اور خوشحالی کی ہی ہونی چاہیے۔