پیراڈائز پیپرز میں بی جے پی کے وزیر کا بھی نام

جَیَنت سنہا تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ان میں سے ایک مرکزی وزیر جَیَنت سنہا ہیں اور دوسرے ایوان بالا کے رکن پارلیمان روندر کشور سنہا ہیں

پاناما پیپرز کے منظر عام پر آنے کے 18 مہینے بعد امیر اور طاقتور لوگوں کی آف شور کمپنیوں میں دولت چھپانے سے متعلق معلومات سامنے آئی ہیں۔

یہ معلومات جرمنی کے اخبار سویڈیوچے زیٹونگ کے پاس ہے جس کی جانچ پڑتال تحقیقاتی صحافیوں کی عالمی کنسورشیم (آئی سی آئی جی) نے 96 نیوز ایجنسیوں کے ساتھ کی ہے۔

اس تحقیقاتی عمل میں بی بی سی بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ انڈیا سے انڈین ایکسپریس شامل ہے۔

ان لیکس میں، جنھیں پیراڈائز پیپرز کا نام دیا گیا ہے، 13.4 ملین دستاویزات شامل ہیں۔ انڈیا سے بھی کئی نام اس میں شامل ہیں جن میں دو ناموں کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

ان میں سے ایک مرکزی وزیر جَیَنت سنہا ہیں اور دوسرے ایوان بالا کے رکن پارلیمان روندر کشور سنہا ہیں۔ ان دونوں کے بارے میں آئی سی آئی جے کی ویب سائٹ پر تصویر کے ساتھ معلومات فراہم کی گئی ہے۔ انڈین ایکسپریس نے بھی ان دونوں رہنماؤں کے شامل ہونے کے بارے میں لکھا ہے۔

سنہ 2014 میں لوک سبھا کے رکن اور وزیر بننے سے پہلے جَیَنت سنہا اومیڈیار نٹورک میں انڈیا کے مینجنگ ڈائریکٹر تھے۔ اومیڈیار نیٹ ورک نے امریکی کمپنی ڈیلائٹ ڈیزائن میں سرمایہ کاری کر رکھی ہے اور امریکی کمپنی کیمن جزائر کی ذیلی کمپنی ہے۔

آف شور لیگل کمپنی ایپل بی کے ریکارڈ کے مطابق جَیَنت سنہا نے ڈیلائٹ ڈیزائن میں ڈائریکٹر کے عہدے پر خدمات انجام دی ہیں۔

انڈین ایکسپریس کے مطابق جَیَنت سنھا نے سنہ 2014 کے عام انتخابات میں داخل کیے جانے والے حلف نامے میں اس کے بارے میں معلومات فراہم نہیں کی تھی۔ اسی طرح انھوں نے لوک سبھا سیکریٹریٹ یا سنہ 2016 میں ایک وزیر کے طور پر حلف لینے کے دوران بھی اسے ظاہر نہیں کیا تھا۔

Image caption پاناما پیپرز کے بعد بہت سی شخصیات کو مشکلات کا سامنا رہا

ڈیلائٹ ڈزائن انک کو سنہ 2006 میں کیلیفورنیا کے شہر سان فرانسسکو میں قائم کیا گیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی اسی نام سے کیمن جزائر میں ایک ذیلی ادارہ بھی تھا۔ جَیَنت سنہا نے ستمبر 2009 میں نٹورک میں شمولیت اختیار کی اور دسمبر سنہ 2013 میں استعفی دے دیا۔

اومیڈیار نٹورک نے ڈیلائٹ ڈیزائن میں سرمایہ کاری کی اور اس کے لیے کیمن جزائر کی ذیلی شاخ کے ذریعے ہالینڈ کے ایک سرمایہ کار سے 30 لاکھ امریکی ڈالر کا قرض لیا۔ ایپلبی کے ریکارڈ کے مطابق قرض کا معاہدہ 31 دسمبر سنہ 2012 کو کیا گیا۔ جب یہ فیصلہ کیا گیا تھا تو جَیَنت سنھا ڈیلائٹ ڈیزائن کے ڈائریکٹر تھے۔

26 اکتوبر کو جَیَنت سنہا کی جانب سے وزیر اعظم کے دفتر کو جو معلومات فراہم کی گئی وہ پی ایم او کی ویب سائٹ پر موجود ہے۔

بہر حال اس میں یہ کہا گیا ہے کہ حلف نامے میں دی گئی معلومات سے ایسا محسوس ہو سکتا ہے کہ سنہ 2009 اور 2013 کے درمیان اومیڈیار کمپنی کی مخصوص سرمایہ کاری میں مفادات شامل ہیں۔ اگرچہ اعلان کنندہ کے کچھ مفادات ہیں تو بھی وہ اس کے فیصلے پر اثر انداز نہیں ہو سکیں گے۔ یہی بات 24 مارچ، 2014 کے الیکشن کمیشن کے حلف نامے میں بھی ہے۔

ایپلبی کے سنہ 2012 کے ایک دستاویز کے مطابق کیمن جزائر میں ڈیلائٹ سبسیڈری کے ذریعے قرض لیا گیا۔ قرض کی رقم دو حصوں میں لے گئی۔ اس دستاویز پر چھ دستخط کنندگان میں سے ایک جَیَنت سنہا ہیں۔ قرض گلوبل کمرشل مائکروفون کنسورشیم ٹو بی وی نے دیا تھا جوکہ نیدر لینڈ کی پرائیوٹ لمیٹڈ لائبلیٹی کمپنی ہے۔

اومیڈیار میں کوئکر، اکشرا فاؤنڈیشن، انودیپ فاؤنڈیشن، انسپائرنگ مائنڈس اور ہیلتھ کارٹ جیسے انڈین سرمایہ کار ہیں۔

جَیَنت سنہا کا ردعمل

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

میں ستمبر 2009 میں منیجنگ ڈائریکٹر کے طور پر اومیڈیار نٹورک میں شامل ہوا تھا۔ دسمبر سنہ 2013 میں میں نے استعفی دے دیا۔

اومیڈیار نٹورک سے سنہ 2010 میں ڈیلائٹ ڈیزائں مین سرمایہ کاری کی پہل کے لیے میں ذمہ دار تھا۔ ڈیلائٹ ڈیزائن دنیا کی اہم سولر پاور کمپنیوں میں سے ایک ہے۔

اس کے بعد نومبر سنہ 2014 تک میں ڈیلائٹ ڈیزائن کے بورڈ میں شامل رہا۔ دسمبر 2013 تک میں اومیڈیار نٹورک بورڈ کا نمائندہ تھا۔ جنوری 2014 سے نومبر 2014 تک میں بورڈ میں ایک آزاد ڈائریکٹر تھا۔ جب نومبر 2014 میں وزیر بنا تو بورڈ کی رکنیت سے استعفی دے دیا۔ میرا اب ان کمپنیوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ڈیلائٹ ڈیزائن میں بورڈ کے ممبر کے طور پر میں نے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا۔ جنوری 2014 سے نومبر 2014 تک ایک آزاد ڈائریکٹر کے طور پر مجھے ایک مشاورتی فیس کے طور پر رقم ملی اور اسی طرح ڈیلائٹ ڈیزائن کے حصص بھی ملے۔

میں نے جو ٹیکس ادا کیا ہے اس میں اس کی تفصیلات موجود ہیں۔ میرے کئی حلف نامے میں اس کی معلومات فراہم کی گئی ہے۔

جب میں اومیڈیار نٹورک میں تھا تو اس کمپنی نے کئی سرمایہ کاری کی تھی جس میں ڈیلائٹ ڈیزائن بھی شامل تھی۔ بورڈ کے رکن کے طور پر مالی دستاویزات پر میرے دستخط کی ضرورت تھی۔

اومیڈیار کا ردعمل

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

اومیڈیار نٹورک نے انڈین ایکسپریس کو بتایا: 'جَیَنت سنہا ایک پارٹنر، مینجنگ ڈائریکٹر اور مشیر رہے ہیں۔ وہ جنوری 2010 سے 31 دسمبر 2013 تک کمپنی کے ساتھ رہے۔ ہم اپنی سرگرمیوں اور سرمایہ کاری یا منافع کے بارے میں معلومات عام نہیں کر سکتے ہیں۔ ڈیلائٹ ڈیزائن سے متعلق کام کاج کے بارے میں اس سے معلومات حاصل کی جا سکتی ہے۔

بی جے پی رکن پارلیمان روندر کشور سنہا

تصویر کے کاپی رائٹ @RKSINHABJP
Image caption روندر کشور سنہا کو امیر ترین رکن پارلیمان تصور کیا جاتا ہے

اخبار انڈین ایکسپریس کے مطابق سنہ 2014 میں بہار سے ایوان اعلی کے رکن منتخب کیے جانے والے روندر کشور سنہا ایوان میں سب سے امیر رکن سمجھے جاتے ہیں۔

اس سابق صحافی نے نجی سکیورٹی سروس ایس آئی ایس اور انٹیلجنس سروس قائم کی۔ سنگھ جس گروپ کی قیادت کر رہے ہیں اس کی دو غیر ملکی کمپنیاں ہیں۔

مالٹا رجسٹری کے ریکارڈ کے مطابق ایس آئی ایس ایشیا پیسفک ہولڈنگز لمیٹڈ (ایس اے پی ایچ ایل) کا مالٹا میں سنہ 2008 میں ایس آئی ایس کی ذیلی کمپنی کے طور پر رجسٹریشن ہوا تھا۔ سنہا کے اس کمپنی میں شیئر ہیں لیکن ان کی اہلیہ ریتا کشور سنہا اس کی ڈائریکٹر ہیں۔

ریکارڈز سے پتہ چلتا ہے کہ ایس آئی ایچ ایل کی پہنچ برٹش ورجن جزائر تک ہے جسے کے 3999999 شیئر کمپنی کے نام جبکہ ایک شیئر سنہا کے نام ہے۔

جب ایوان بالا یعنی راجیہ سبھا میں روندر کشور سنہا نے الیکشن کمیشن کو اپنا حلف نامہ بھیجا تو اس میں یہ معلومات نہیں دی تھی کہ ایس اے پی ایچ ایل سے ان کی اہلیہ بھی وابستہ ہیں۔ رکن بننے کے بعد بھی انھوں نے اس کی معلومات نہیں دی۔

روندر سنہا کا موقف

تصویر کے کاپی رائٹ GETTY IMAGES/FB/RKSINHA.OFFICIAL

انھوں نے انڈین ایکسپریس کو بتایا کہ یہ کمپنیاں صد فیصد ایس آئی ایس کی ذیلی کمپنی ہے اور میں اس شیئر ہولڈر ہوں۔ میرا ان کمپنیوں میں براہ راست کوئی مفاد نہیں ہے۔ میں شیئر ہولڈر ہوں اور ان کمپنیوں کا ڈائریکٹر بھی ہوں۔

ان ممالک کے ضابطے کے مطابق کسی بھی کمپنی کے لیے دو شیئر ہولڈرز کا ہونا ضروری ہے۔ اس لیے ان سبھی کمپنیوں میں ایک ایک شیئر ہے۔ اس سے منسلک ساری معلومات میں نے سب کو دی دیا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں