چین کا جزیرے بنانے والا جہاز متعارف

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اس بحری جہاز کا نام ہے ٹیان کن ہاؤ۔ جسے چینی روایات میں ایک دیو ہیکل مچھلی سمجھا جاتا ہے جو کہ ایک پرندے میں بھی تبدیل ہوجاتی ہے۔

چین نے ایک نیا جہاز متعارف کروایا ہے جو کہ اس طرز کے جزیرے بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے جو چین نے ساؤتھ چائنا سی یعنی جنوبی بحیرۂ چین میں بنائے ہیں۔

جس ادارے نے اس جہاز کو بنایا ہے اس نے اسے 'جادوئی جزیرے بنانے والا جہاز' کا نام بھی دیا ہے۔

چین پر اسے سے پہلے الزام عائد کیا گیا ہے کہ اس نے جنوبی بحیرۂ چین میں مصنوعی جزیرے اس لیے بنائے ہیں کہ وہ ان متنازع پانیوں پر اپنا اثرورسوخ بڑھا سکے۔

خیال رہے کہ چین نہ صرف لگ بھگ سارے ہی جنوبی بحیرۂ چین پر ملکیت کا دعویٰ کرتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ایسے جزیروں پر بھی جن پر کئی دوسرے ملک بھی ملکیت کا دعویٰ کرتے ہیں۔ اس کے بعد خطے میں کافی مایوسی پھیلی جب چین نے یہاں مصنوعی جزیرے بنائے اور ان تک رسائی کو محدود کیا۔

یہاں ویتنام، فلپائن، تائیون، ملائیشیا اور برونائی بھی ملکیت کے دعوے دار ہیں۔

اہم معلومات

اس بحری جہاز کا نام ہے ٹیان کن ہاؤ۔ جسے چینی روایات میں ایک دیو ہیکل مچھلی سمجھا جاتا ہے جو کہ ایک پرندے میں بھی تبدیل ہوجاتی ہے۔

اس بحری جہاز کی لمبائی 140 میٹر ہے اور چین میں اپنی نوعیت کا سب سے بڑا جہاز ہے۔

یہ چین کے سمندر کی صفائی کرنے والے دوسرے جہازوں سے کہیں زیادہ طاقت ور ہے اور یہ چھ ہزار کیوبک میٹر کی گہرائی تک کھدائی کرسکتا ہے۔ جو کہ تین اولمپک سوئمنگ پول کے برابر ہے۔

یہ جہاز سمندر کی تہہ سے ریت، مٹی اور سمندری پودوں کو باہر نکال کر اسے پندرہ کلومیٹر دور زمین پر پہنچاتا ہے۔

اسی طرح کے جہاز 2013 میں ساؤتھ چائنا سی میں چینی جزیروں کو بنانے میں استعمال ہوئے تاہم وہ سائز میں ٹیان کن ہاؤ سے چھوٹے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption یہ جہاز سمندر کی طہہ سے ریت، مٹی اور سمندری پودوں کو باہر نکال کر اسے پندرہ کلومیٹر دور زمین پر پہنچاتا ہے۔

اس کی اہمیت کیوں ہے؟

انٹرنیشنل انسٹیئوٹ فار سٹریٹیجک سٹڈیز کے ایلکس نیل کہتے ہیں کہ اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ یہ جہاز جنوبی بحیرۂ چین میں تعینات کیا جاسکتا ہے جس سے چین کے اس علاقے پر وعدے اور مضبوط ہو جائیں گے۔

اس جہاز کی رونمائی اس وقت کی گئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایشیا کہ دورے پر ہیں۔

ایلکس نیل کہتے ہیں کہ یہ ایک اتفاق ہوسکتا ہے۔ لیکن یہاں یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ جنوبی بحیرۂ چین کا معاملہ کشیدگی پیدا کرسکتا ہے۔

امریکہ نے روایتی طور پر اس علاقائی تنازعے پر کوئی مخصوص موقف اختیار نہیں کیا۔ تاہم وہ 'فریڈم آف نیویگیشن' یا جہاز رانی کی آزادی پر زور دیتا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ کسی بھی وقت اس علاقے سے بذریعہ سمندر یا فضا گزر سکتا ہے، جس پر چین برہم ہوتا ہے۔

یاد رہے کہ اس سمندر میں امریکی بحریہ کی نقل و حرکت کوئی اتنی غیر معمولی بات بھی نہیں ہے۔ ایک سال قبل یو ایس ایس جان سی سٹینس نے اس طرح کا چکر لگایا تھا۔ کارل ولس اس سے قبل 2015 میں بھی اس خطے میں آ چکا ہے۔ 35 سال قبل امریکی بحریہ میں شامل کیے جانے کے بعد سے اب تک یہ جہاز اس خطے میں 16 آپریشن کر چکا ہے۔

اس کے علاوہ اس سال فروری میں ایک لڑاکا بحری جہاز یو ایس ایس کوروناڈو جو عارضی طور پر سنگاپور میں لنگر انداز ہے اس نے بھی ساؤتھ چائنا سی کے اسی علاقے میں تربیتی آپریشن کیے تھے۔

اسی بارے میں