پاکستانی آرمی چیف ایران کے دورے پر

پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سرکاری دورے پر ایران میں سول اور ملٹری حکام سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔

احسن روحانی، قمر جاوید باجوہ

،تصویر کا ذریعہISPR

،تصویر کا کیپشن

ایران کے صدر حسن روحانی اور پاکستانی آرمی چیف کی ملاقات صدارتی محل میں ہوئی۔ صدر حسن روحانی نے کہا کہ دونوں ملکوں کی افواج بہت سے امور میں اپنا تعاون بڑھا سکتی ہیں جن میں مشترکہ فوجی مشقیں، ملٹری انڈسٹری اور اپنے تجربات کا تبادلہ کیا جانا شامل ہے

،تصویر کا ذریعہISPR

،تصویر کا کیپشن

ریڈیو پاکستان نے فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پر آر کے حوالے سے بتایا ہے کہ جنرل باجوہ کے دورے کے دوران ہونے والی ملاقاتوں کے دوران جغرافیائی صورتحال،دفاع، سلامتی اور معیشت میں دوطرفہ اور علاقائی سطح پر تعاون سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ پاکستان کے آرمی چیف قمر جاوید باجوہ اور ایرانی مسلح افواج کے سربراہ میجر جنرل محمد باقری مذاکرات کی قیادت کر رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہISPR

،تصویر کا کیپشن

ایرانی فوجی دستوں نے جنرل قمر جاوید باجوہ کو گارڈ آف آنر پیش کیا۔ ایران کی جانب سے پاکستان سے متصل سرحد پر شدت پسندی کے واقعات پر متعدد بار خدشات کا اظہار کیا جا چکا ہے

،تصویر کا ذریعہISPR

،تصویر کا کیپشن

ایرانی حکام نے دہشت گردی کےخلاف جنگ میں پاکستان کے کردار اور قربانیوں کو سراہا۔ دونوں ممالک کے درمیان مبینہ انڈین جاسوس لبھوشن یادو کی گرفتاری کے بعد تناؤ کا شکار ہوئے تھے۔ پاکستانی حکام کی جانب سے یہ کہا گیا تھا کہ کلبھوشن یادو ایران سے پاکستان میں داخل ہوئے

،تصویر کا ذریعہISPR

،تصویر کا کیپشن

ریڈیو پاکستان کے مطابق بری فوج کے سربراہ نے پاک ایران سرحد کوامن اور سلامتی کی سرحد قرار دیتے ہوئے اس کی بہتر سکیورٹی انتظام پر زور دیا کیونکہ اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ دہشت گرد اسے استعمال کرتے ہیں جو دونوں ملکوں کے مشترکہ دشمن ہیں

،تصویر کا ذریعہISPR

،تصویر کا کیپشن

پاکستانی آرمی چیف نے ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف سے بھی ون آن ون ملاقات کی۔ رواں برس مئی میں ایرانی مسلح افواج کے سربراہ نے خبردار کیا تھا کہ اگر پاکستان نے سرحد پار ایرانی علاقے میں حملے کرنے والے شدت پسندوں کے خلاف کارروائی نہ کی تو ایران پاکستان میں ان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنائے گا

،تصویر کا ذریعہISPR

،تصویر کا کیپشن

دونوں ممالک کے درمیان وفود کی سطح پر مذاکرات بھی ہوئے۔ مذاکرات میں افغانستان کی صورتحال، خطے میں دولتِ اسلامیہ کے بڑھتے ہوئے خطرات اور پاک ایران سرحد کی سکیورٹی سے متعلق معاملات بھی زیرغور آئے