دورانِ پرواز شوہر کی بے وفائی‘ پر بیوی کا ہنگامہ، مسافر طیارے کی ہنگامی لینڈنگ

قطر ائیرویز تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پرواز کے دوران طیارے میں سوار ایک خاتون کے غصے کے سامنے جہاز کا عملہ بے بس نظر آیا اور پرواز کو ہنگامی صورت حال میں انڈیا کے شہر چینئی میں اتارنا پڑا۔

یہ واقعہ اتوار کو پیش آیا جب دوحہ سے انڈونیشیا کے معروف شہر بالی جانے والی قطر ایئر ویز کی پرواز میں ایک ایرانی خاتون نے مبینہ طور پر اپنے شوہر کی بے وفائی کے شواہد دیکھے اور وہ خود کو نہ روک سکیں۔

انڈین میڈیا کے مطابق ایرانی خاتون، ان کے شوہر اور ان کے بیٹے چھٹیاں منانے بالی جا رہے تھے۔ دوران پرواز خاتون نے اپنے سوتے ہوئے شوہر کے فنگر پرنٹس سے ان کا فون کھول لیا اور انھیں اپنے شوہر کی بے وفائی کا علم ہو گیا اور اسی وقت جھگڑا شروع ہو گیا۔

٭ ’مشکوک گفتگو‘ پر طیارے کی ہنگامی لینڈنگ

٭ جہاز کا ’ایمرجنسی دروازہ‘ کھولنے کی کوشش، مسافر گرفتار

انھوں نے مبینہ طور پر اپنے شوہر سے ہاتھا پائی کی اور طیارے پر سوار 284 مسافروں کی پریشانی کا باعث بنیں۔

عملے نے بیچ بچاؤ کی کوشش کی لیکن خاتون کو کسی طرح قابو نہیں کیا جا سکا۔ پائلٹ اور دوسرے عملے نے جب معاملے کو قابو سے باہر ہوتے دیکھا تو انھوں نے طیارے کو قریبی چینئی ایئرپورٹ پر اتارنے کا فیصلہ کیا۔

جب دوحہ سے بالی جانے والی قطر ایئرویز پرواز نمبر کیو آر-962 کے عملے نے مداخلت کی کوشش کی تو خاتون نے انھیں بھگا دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption خاتون نے سوتے ہوئے شوہر کی انگلیوں کے نشان سے فون کو کھول لیا تھا

ایئرویز نے اس خاتون، ان کے شوہر اور ان کے بچے کو وہیں چینئی کے ایئرپورٹ پر اتار دیا اور پھر دو گھنٹے کی تاخیر کے بعد وہ طیارہ بالی کے لیے روانہ ہوا۔

چینئی ایئرپورٹ کے حکام نے انڈین میڈیا کو بتایا کہ ان ایرانی مسافروں کے پاس انڈیا کا ویزا نہیں تھا اس لیے انھیں حراست میں رکھا گیا اور دہلی میں ایرانی سفارتخانے سے رجوع کرنے کے بعد انھیں پیر کی رات گئے کوالالمپور کی پرواز میں روانہ کر دیا گیا جہاں سے انھیں دوحہ واپس روانہ کر دیا جائے گا۔

ایئرپورٹ کے اہلکار نے بتایا: 'اس فیملی کو جھگڑے فساد پر طیارے سے اتار دیا گيا لیکن ان کے خلاف کوئی ایف آر درج نہیں کی گئی۔ پھر انھیں باٹک ایئر کی پرواز نمبر 6019 سے کوالالمپور اور پھر دوحہ کے لیے روانہ کر دیا گیا۔'

قطر ایئرویز نے بعد میں ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گيا کہ 'مسافروں کی رازداری کے پیش نظر اہم اس طرح کے منفرد واقعات پر کوئی تبصرہ نہیں کرتے۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں