فضائی آلودگی کے باعث دلی میں پرائمری سکول بند

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

دلی میں فضائی آلودگی کی سنگین صورتحال کے پیش نظر ریاستی حکومت نے بدھ کو تمام پرائمری سکول بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

دلی کے نائب وزیر اعلیٰ منیش سسوڈیا نے ایک ہنگامی اجلاس کے بعد کہا کہ بدھ کو صورتحال کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا۔ سکولوں سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ بچوں کو باہر نہ کھیلنے دیں۔

دلی میں منگل کی صبح سے ہی دھند چھائی ہوئی ہے اور لوگ سانس لینے میں دقت اور آنکھوں میں جلن کی شکایت کر رہے ہیں۔

* پاکستان میں میڈ ان انڈیا سموگ

* ’انڈیا سے آنے والے دھوئیں کے بادل سموگ کی ایک وجہ ہے‘

دلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ہر سال دلی اس موسم میں ایک مہینے کے لیے گیس چیمبر میں تبدیل ہوجاتی ہے اور ہم سب کو مل کر اس کا کوئی حل تلاش کرنا ہوگا۔

انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن نے ایک خبر رساں ارارے کو بتایا کہ دلی میں آلودگی کی سطح کے پیش نظر پبلگ ہیلتھ ایمرجنسی کا اعلان گیا گیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ لوگوں کو خاص طور پر صبح کے وقت ٹہلنے سے گریزکرنا چاہیے کیونکہ اس وقت ہوا سب سے زیادہ آلودہ ہوتی ہے۔ بہت سے لوگ آنکھوں میں جلن اور گلے میں خراش کی شکایت کر رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

سب سے زیادہ مشکل بچوں اور بزرگوں کے لیے ہے۔ ماہرین کا کہنا ہےکہ جہاں تک ممکن ہو لوگوں کو ماسک کا استعمال کرنا چاہیے۔

نینشنل گرین ٹریبیونل نے یو پی، پنجاب اور ہریانہ کی حکومتوں سے پوچھا ہے کہ انھوں نے صورتحال کو خراب ہونے سے بچانے کے لیے کیا اقدامات کیے تھے۔

دھند کی وجہ سے دلی ائر پورٹ پر کئی پروازوں میں تاخیر ہوئی ہے اور شمالی ہندوستان میں کئی ریل گاڑیں بھی تاخیر سے چل رہی ہیں۔

گذشتہ برس بھی دلی میں صورتحال اتنی خراب ہوگئی تھی کہ سانس لینا مشکل ہوگیا تھا۔ اس وقت کہا گیا تھا کہ یہ صورتحال دیوالی کے موقع پر پٹاخوں کے استعمال اور ہریانہ پنجاب میں کھیتوں میں آگ لگائے جانے کی وجہ سے ہوئی تھی۔

اس کے بعد سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا کہ حکومت ہوا کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے منصوبہ تیار کرے لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ تمام اقدامات ہوا خراب ہونے کے بعد کیے جاتے ہیں، اسے خراب ہونے سے روکنے کے لیے نہیں۔

اسی بارے میں