راہبہ ریپ کیس میں بنگلہ دیشی شخص کو عمر قید کی سزا

انڈیا تصویر کے کاپی رائٹ AFP

انڈیا کے شہر کولکتہ کی ایک عدالت نے بنگلہ دیش کے ایک شخص کو ایک بوڑھی راہبہ کا ریپ کرنے کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی ہے۔

کولکتہ کی عدالت نے ملزم نذر الاسلام کو ریپ اور اقدامِ قتل کا قصور وار قرار دیا ہے۔

جج کم کم سنہا نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ’بوڑھی راہبہ کو ریپ کرنا مغربی بنگال کی وراثت پر دھبہ ہے اور یہ وہ جگہ ہے جہاں مدر ٹریسا نے غریب افراد کے لیے کام کیا۔‘

یہ بھی پڑھیے

انڈیا میں ریپ کے بڑھتے واقعات

انڈیا: راہبہ ریپ کیس میں پہلی گرفتاری

بوڑھی نن سے اجتماعی جنسی زیادتی کے الزام میں گرفتاریاں

بھارت میں بوڑھی نن کے ساتھ اجتماعی جنسی زیادتی

بوڑھی راہبہ کا نام قانونی وجوہات کی وجہ سے ظاہر نہیں کیا گیا۔ ان پر اس وقت حملہ کیا گیا جب وہ کانونٹ آف جیززس اینڈ میری' نامی ایک خانقاہ میں موجود تھیں۔

اس حملے کے بعد ان کی سرجری کی گئی تھی اور بعد میں وہ مغربی بنگال سے منتقل ہو گئیں تھیں۔

عدالت نے مغربی بنگال کے علاقے رانا گھاٹ میں ایک خانقاہ پر حملہ کرنے والے پانچ دیگر افراد کو چوری کرنے کے جرم میں دس سال کے لیے جیل بھیج دیا جبکہ چھٹے شخص کو حملہ آوروں کو پناہ دینے کے جرم میں سات سال کی سزا سنائی۔

واضح رہے کہ اس واقعے میں حملہ آوروں نے خانقاہ کی طرح تلاشی لی، توڑ پھوڑ کی اور وہاں سے پیسے بھی چرائے تھے۔

راہبہ کے ریپ کے واقعے کے بعد انڈیا میں غم و غصے کی ایک لہر دوڑ گئی اور کئی شہروں میں احتجاجی جلوس بھی نکالے گئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption راہبہ کے ریپ کے واقعے کے بعد پورے انڈیا میں مظاہرے کیے گئے

خیال رہے کہ حالیہ مہینوں میں انڈیا میں کلیساؤں اور عیسائی اداروں پر متعدد حملے کیے جا چکے ہیں جس کی وجہ سے عیسائی برادری میں تشویش پائی جاتی ہے۔

انڈیا کے دارلحکومت نئی دہلی میں دسمبر سنہ 2012 چلتی بس کے ایک طالبہ کے گینگ ریپ نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔

اس کے بعد ریپ کے خلاف جگہ جگہ مظاہرے ہوئے تھے اور اس ضمن میں قانون سازی بھی کی گئی تھی۔

متعلقہ عنوانات