راجستھان: خواتین کو فٹ رہنے کے لیے انوکھے مشوروں پر تنازع

صفائی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انڈیا کے گھروں میں عام طور پر صاف صفائی کا کام خواتین ہی انجام دیتی ہیں

کہتے ہیں کہ صحت ہزار نعمت ہے لیکن انڈیا کی مغربی ریاست راجستھان میں صحت سے متعلق چند مشورے تنازعے کا باعث ہیں۔

راجستھان حکومت میں شعبۂ تعلیم سے شائع ہونے والے ہندی زبان کے ماہنامہ 'شِویرا' میں تندرست اور چست رہنے کے چند پرانے نسخے بتائے گئے ہیں جن میں خواتین کو جھاڑو دینے، پوچھا لگانے اور پانی بھرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

صحت کے لیے لوگ نہ جانے کیا کیا جتن کرتے ہیں لیکن ان نسخوں کی اشاعت سے تنازع پیدا ہو گیا ہے۔

کوئی اسے خواتین مخالف کہہ رہا ہے تو کوئی اسے جنسی تفریق پر مبنی اور کوئی اسے خواتین کو 18ویں صدی میں واپس لے جانے کی سازش۔

یہ ماہنامہ آن لائن ڈاؤن لوڈ کیا جا سکتا ہے جس کے صفحہ نمبر 32 پر 'تندرست رہنے کے آسان طریقے' کے عنوان کے تحت 14 نکات پیش کیے گئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption صحت مند رہنے کے لیے راجستھان کے شعبۂ تعلیم نے خواتین کے لیے مخصوص نسخے تجویز کی ہے۔

ان میں تیسرے نمبر پر یہ درج ہے: 'ٹہلنے کے علاوہ، دوڑنا، سائیکل چلانا، گھڑسواری، تیرنا، یا کوئی بھی کھیل کود اور ورزش اچھے طریقے ہیں۔

'خواتین چکی پیسنے، پونچھا لگانے، رسی کودنا، پانی بھرنا سمیت گھر کے دیگر کاموں میں اچھی ورزش کر سکتی ہیں۔ روزانہ تھوڑی دیر بچوں کے ساتھ کھیلنا، دس پندرہ منٹ تک کھل کر ہنسنا بھی ورزش کے اچھے طریقے ہیں۔'

انڈین میڈیا میں شائع خبروں کے مطابق راجستھان میں اساتذہ کی انجمن نے اس کی مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ اس کے خراب اثرات مرتب ہوں گے۔

ان کے مطابق یہ ماہنامہ ریاست میں وسیع پیمانے پر ہر سکول میں پہنچتا ہے اور اسے فوراً واپس لینا چاہیے۔

ٹائمز آف انڈیا کے مطابق ریاست بھر میں اس کی تقریباً 30 ہزار کاپیاں تقسیم ہوتی ہیں اور اساتذہ اور سکول کے پرنسپلز میں اس کی خاصی اہمیت ہے کہ وہ اسے سرکاری نقطہ نظر کا حامل تصور کرتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ SHIVIRA
Image caption یہ ماہنامہ 52 صفحات پر مشتمل ہے جس کے صفحہ 32 پر یہ صحت مند رہنے کے آسان طریقے بتائے گئے ہیں

اخبار کے مطابق وزیر تعلیم واسودیو دیونانی نے کہا کہ وہ 'اس معاملے پر کچھ کہنے سے پہلے اس کی جانچ کرنا چاہیں گے۔'

مانگے رام 0154 نامی ٹوئٹر ہینڈل سے لکھا گیا ہے کہ 'کیا راجستھان کی وزیر اعلیٰ فٹ رہنے کے گھریلو کام کاج کے ان نکات پر عمل کرتی ہیں؟'

یہ بھی پڑھیں

٭ ’گائے کو قومی جانور قرار دیا جائے‘

٭ 'رانا پرتاپ کو نہیں اکبر کو شکست ہوئی‘

٭ یہ دل مانگے مور!

خیال رہے کہ راجستھان میں بی جے پی کی حکومت ہے اور وہاں ایک خاتون وجے راجے سندھیا دوسری بار وزیر اعلی ہیں۔

راجن مہاجن نامی ٹوئٹر ہینڈل سے لکھا گیا: 'راجستھان کی خواتین کے لیے کیسے نسخے بتائے جا رہے ہیں اور وہ اس وقت جب فلم 'پدماوتی' پر خواتین کے وقار کو پامال کیے جانے پر تنازع جاری ہے۔ حیرت ہے کہ وہی نسخے مردوں کےلیے کیوں نہیں؟ کیا راجستھان میں ہم مرد غیر تندرست اور توند کے ساتھ ہی اچھے ہیں؟'

پترلیکھا چیٹرجی نے راجستھان اور اس کے باہر بی جے پی کی حمایت کرنے والوں کو فٹ رہنے کے لیے چکی پیسنے اور پانی بھرنے کا مشورہ دے ڈالا۔

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER
Image caption بعض ٹوئٹر صارفین نے حکومت کی دوہری پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنایا

بوسکو ان چینجڈ نامی ہینڈل سے مزاحیہ انداز میں لکھا گیا کہ 'تمام جم میں فٹنس کے لیے چکی پیسنا اور جھاڑو لگانا شامل کرنا چاہیے۔'

یہ بھی پڑھیں

٭ انڈیا: ’ماہواری کی جانچ کے لیے 70 طالبات بے لباس‘

٭ رفع حاجت کے خلاف 'ہلہ بول، لنگی کھول' مہم

٭ اب چادریں بھی مذہبی شخصیات سے منسوب

ان 14 نکات میں جہاں اچھی غذائیت کے لیے پھل اور تازہ سبزیاں کھانے کی بات کی گئی ہے وہیں شراب اور تمباکو نوشی ترک کرنے اور سافٹ ڈرنک سے پرہیز بھی بتایا گيا ہے لیکن اس ضمن میں خاص طور پر کوکا کولا اور پیپسی کانام لیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption گھریلو کام کو خواتین کے لیے ورزش بتانے پر میگزن کو تنقید کا سامنا ہے

ہندوستان ٹائمز کے مطابق شہری حقوق کے لیے پیپلز یونین کی نیشنل سیکریٹری کویتا شریواستو نے کہا: 'یہ بہت ہی شرمناک ہے کہ شعبۂ تعلیم انھی فرسودہ روایات کو از سر نا‌فذ کر رہی ہے جن سے تعلیم ہمیں آزادی دیتی ہے۔'

خیال رہے کہ راجستھان گذشتہ دنوں تاریخ کو از سر نو لکھنے کے معاملے میں سرخیوں میں رہا تھا جس میں اب یہ پڑھایا جا سکتا ہے کہ ہلدی گھاٹی کی جنگ میں 'رانا پڑتاپ کے بجائے اکبر کو شکست ہوئی تھی۔'

'گائے کو قومی جانور' بنائے جانے کا مطالبہ بھی وہاں سے ہوا تھا اور مور کے بارے میں راجستھان ہائی کورٹ کے ایک جج نے ہی کہا تھا کہ وہ سیکس نہیں کرتا۔

اسی بارے میں