سیاست کے لیے موٹی چمڑی ضروری ہے: اندرا گاندھی

اندرا گاندھی تصویر کے کاپی رائٹ STF/AFP/GETTY IMAGES

اندرا گاندھی کو زیادہ تر ایک سخت مزاج شخصیت کے طور پر دکھایا جاتا رہا ہے۔ ان کی شخصیت کے خوش دل اور ہمدرد پہلو عام طور پر نظروں سے اوجھل ہی رہے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ وہ عمدہ مقرر تھیں اور سیاست سے باہر کی چیزوں میں بھی دلچسپی رکھتی تھیں۔ وہ باغ و بہار شخصیت کی مالکہ تھیں اور ان کے حلقے میں فنکار، مصنف، مصور اور دوسرے باصلاحیت افراد شامل تھے۔

31 اکتوبر 1984 کو جب انھیں قتل کیا گیا تھا، تو میری زندگی سے جیسے موسم بہار ہمیشہ کے لیے چلا گیا۔ انھوں نے میری حوصلہ افزائی کی کہ میں ہمیشہ ہر ایک کا احترام کروں۔

میں ان کا شکر گزار ہوں، انھوں نے مجھے جو سکھایا ہے وہ میں الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا۔ شاید جو میں جانتا ہوں، انھوں نے اس سے کہیں زیادہ مجھے دیا ہے۔

وہ ان لوگوں سے قدرے کم ہمدردی رکھتی تھیں جو اپنی زندگی کے بارے کچھ زیادہ ہی سوچ بچار سے کام لیتے تھے، یا مسائل کا سامنا کرنے سے پیچھے ہٹ جاتے تھے۔

جو لوگ دکھلاوا کرتے تھے انھیں ان کی ایک تیکھی نظر چاروں شانے چت کر دیتی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ PRAKASH SINGH/AFP/GETTY IMAGES

انھوں نے بہت سے سماجی اور سیاسی بندھنوں کو توڑا۔ یہ آزادی کے جھونکے کی طرح تھیں جو طاقت سے بھرپور تھا۔

28 اگست 1968 میں انھوں نے اپنے ہاتھ سے مجھے خط لکھا۔ یہ ان کا میرے نام پہلا خط تھا جسے انھوں نے میرے بیٹے جگت کی پیدائش پر لکھا تھا۔

پیارے نٹور:

جب میرے سیکریٹری نے مجھے یہ خوش خبری سنائی تو میں نے آپ سے بات کرنے کی کوشش کی، لیکن کسی وجہ سے میں بات نہیں کر پائی۔

آپ کے گھر میں ننھے مہمان کی آمد پر میں آپ کو تہہ دل سے مبارکباد دیتی ہوں۔ خدا کرے وہ آپ کے لیے خوشیاں لے کر آئے اور بڑے ہونے پر آپ کے لیے فخر کا باعث ہو۔

آپ کی مخلص،

اندرا گاندھی

تصویر کے کاپی رائٹ GETTY IMAGES

جب یاسر عرفات ناراض ہو گئے

غیر وابستہ تحریک کی ساتویں کانفرنس سات مارچ، 1983 کو منعقد کی جا رہی تھی۔ یہ کانفرنس، نئی دہلی کے وگیان بھون میں منعقد ہوئی۔ میں اس وقت سیکریٹری جنرل تھا۔

کانفرنس کے پہلے دن ہمیں ایک بڑی الجھن کا سامنا کرنا پڑا کہ فلسطینی لبریشن آرگنائزیشن (پی ایل او) کے چیئرمین یاسر عرفات کی ناراضی کیسے دور کی جائے۔ ان کی تقریر سے پہلے اردن کے بادشاہ کو بولنا تھا، اور وہ اسے اپنی توہین سمجھ بیٹھے۔

انھوں نے فیصلہ کیا کہ دوپہر کے کھانے کے بعد وہ دہلی سے لوٹ جائیں گے۔ میں نے وزیر اعظم اندرا گاندھی سے پوچھا کہ کیا وہ فوری طور پر وگیان بھون آ سکتی ہیں؟ میں نے ان سے کہا کہ وہ کیوبا کے صدر فیدل کاسٹرو کو بھی ساتھ لے آئیں۔ انھوں نے کاسترو کو سارا معاملہ سمجھا دیا۔ کاسترو نے فوری طور پر عرفات کو ایک پیغام بھیجا۔

کاسترو نے عرفات سے پوچھا: 'کیا آپ اندرا گاندھی کے دوست ہیں؟' عرفات نے کہا: 'دوست، وہ میری بڑی بہن ہے، میں ان کے لیے کچھ بھی کر سکتا ہوں۔'

کاسترو پلٹ کر کہا: 'پھر چھوٹے بھائی کی طرح پیش آنا اور دوپہر کے سیشن میں حصہ لینا۔'

اس کے بعد عرفات نے کانفرنس میں حصہ لیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ KEYSTONE/HULTON ARCHIVE/GETTY IMAGES

ملکہ کی ناراضی

نومبر 1983 میں نئی دہلی میں دولتِ مشترکہ کا اجلاس منعقد ہوا۔ میں اس اجلاس کے منتظمین میں شامل تھا۔

کانفرنس کے دوسرے ہی دن ایک بڑا مسئلہ کھڑا ہو گیا۔ اندرا گاندھی کو پتہ چلا کہ ملکہ الزبیتھ ایوانِ صدر میں مدر ٹریسا کو میرٹ آرڈر دینے کے لیے تقریب منعقد کر رہی ہیں۔

وزیر اعظم گاندھی نے مجھے تحقیقات کا حکم دیا۔ پتہ چلا کہ واقعی ایسی تقریب منعقد کی جا رہی ہے۔ لیکن مسئلہ یہ تھا کہ ایوانِ صدر میں خود صدر کے علاوہ کوئی اور تقریب منعقد نہیں کر سکتا۔

وزیر اعظم نے مجھے بتایا کہ میں برطانوی وزیراعظم مارگریٹ تھیچر کو بتاؤں کہ ملکہ برطانیہ کو ایوانِ صدر میں تقریب کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

جب میں نے مسز تھیچر سے بات کی تو انھوں نے کہا کہ جگہ تبدیل کرنے کے لیے بہت دیر ہو چکی ہے اور اب ایسا کرنے سے ملکہ ناراض ہو جائیں گی۔ میں نے اندرا جی کو بتایا۔

تصویر کے کاپی رائٹ JOHN MINIHAN/EVENING STANDARD/GETTY IMAGES

وہ یہ سن کر ناراض ہو گئیں اور مجھے دوبارہ مسز تھیچر سے بات کرنے کے لیے کہا اور کہا کہ دوسرے روز یہ معاملہ پارلیمان میں اٹھے گا اور ملکہ کو تنقید کا نشانہ بنایا جائے گا۔

اس بات نے مسئلہ حل کر دیا اور ملکہ نے ایوانِ صدر کے باغیچے میں مدر ٹریسا کو اعزاز سے نوازا۔

دلچسپ بات یہ تھی کہ مدر ٹریسا کو اس بارے میں کوئی علم نہیں تھا۔

موٹی چمڑی

دولتِ مشترکہ کے اجلاس کے آخری دن میں نے وزیر اعظم اندرا گاندھی سے ملاقات کی اجازت کی۔ میں ان سے کہا کہ میں 31 سال تک انڈین خارجہ سروس کا حصہ رہا ہوں اور اب میں اس کام کو الوداع کہنا چاہتا ہوں۔ میں نے کہا کہ اگر وہ اجازت دے تو میں سیاست میں قدم رکھنا چاہتا ہوں۔ انھوں نے مجھے اجازت دی۔

میری 28 نومبر کو جنوبی بلاک میں ان سے ملاقات ہوئی۔ میں نے انھیں بتایا کہ ایک یا دو دن میں بھرت پور چلا جاؤں گا اور سیاسی زندگی کے لیے میری پہلی ترجیح اپنے لیے نئے کپڑے یعنی کرتا پاجامہ خریدنا ہے۔

انھوں نے کہا، "اب آپ سیاست میں قدم رکھ رہے ہیں، اس کے لیے موٹی چمڑی کا ہونا بہت فائدہ مند ہوتا ہے۔'

کانگریس کے رہنما نٹور سنگھ سابق انڈین وزیرِ خارجہ ہیں۔ انھوں نے اپنی آپ بیتی 'ون لائف از ناٹ انف' میں اندرا گاندھی اور ان کے خاندان کے بارے میں لکھا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں