ڈینگی کا علاج، ہسپتال کا بل 25 ہزار ڈالر

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ہسپتال کا دعویٰ ہے کہ بِل میں جو اخراجات شامل کیے گئے وہ درست ہیں۔

دہلی کے قریب ایک ہسپتال میں ڈینگی کے ہاتھوں ایک سات سالہ بچی کی موت کے بعد اس کے والدین کو 25 ہزار ڈالر (16 لاکھ روپے سے زیادہ) کا بِل دیے جانے پر سوشل میڈیا پر ہسپتال کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔

سوشل میڈیا پر اس مہم کے بعد انڈیا کے وزیر صحت نے اس معاملے کی تفتیش کا حکم دے دیا ہے۔

بچی کے والدین کا کہنا ہے کہ ہسپتال نے انھیں دو ہفتے کا جو بِل دیا ہے اس میں چھ سو سے زیادہ سرنجوں اور 16 سو دستانوں کی قیمت بھی شامل ہے۔

عام لوگوں کی نظر میں یہ معاملہ گزشتہ ہفتے اس وقت پیش آیا جب بچے کے والدین کے ایک دوست نے ہسپتال کے بِل کی تفصیلات ٹوئٹر پر شیئر کر دیں۔ اس کے جواب میں ایک ہزار سے زیادہ لوگوں نے ٹویٹ کیا اور شدید برہمی کا اظہار کیا۔

تاہم دلی کے قریبی علاقے گُڑگاؤں میں واقع ہسپتال کا کہنا تھا کہ انھوں نے بِل میں جو اخراجات شامل کیے وہ درست ہیں۔

ٹوئٹر پر ہسپتال کا جو بل شائع کیا گیا ہے وہ 20 صفحات پر متشمل ہے اور ہسپتال پر الزام لگایا گیا ہے کہ انھوں نے خون میں شوگر کی مقدار جانچنے کے لیے استعمال کی جانے والی کم قیمت سِٹرپ یا کاغذ کی کترن کی قیمت کئی گنا زیادہ لگائی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption تمام ضروری اقدامات اٹھائیں گے: وزیر صحت

لوگوں کی جانب سے فورٹس میموریل ہسپتال پر مسلسل تنقید کے بعد وزیر صحت جے پی نڈّا نے ٹوئٹر پر لکھا کہ ہم اس حوالے سے ’تمام ضروری اقدامات اٹھائیں گے۔‘

اس دوران ہسپتال نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ انھوں نے بچی کا وہی علاج کرنے کی کوشش کی جو کہ ڈینگی میں کیا جاتا ہے ۔ بیان کے مطابق ’انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں بچی کو جو ادویات وغیرہ دی گئی اس میں اسی معیار کو برقرار رکھا گیا جو کسی انفیکشن کے علاج کے لیے دنیا بھر میں رائج ہے۔‘

ڈینگی کا شکار ہونے والی بچی کا نام ادیا سنگھ بتایا جاتا ہے اور وہ ستمبر میں انتقال کر گئی تھی۔ اس پر ڈینگی کا حملہ اگست میں ہوا تھا اور پھر جب مہینے کے آخر میں اسے ہسپتال میں داخل کرایا گیا اس وقت تک اس کا مرض بڑھ چکا تھا۔

لڑکی کے والد جینت سنگھ نے مقامی ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ ان کی بیٹی کو ہسپتال میں داخل کرانے کے ایک دن بعد ہی وینٹی لیٹر پر ڈال دیا گیا تھا۔ ’ہمیں بتایا گیا تھا کہ ہو سکتا ہے کہ بچی کے دماغ پر اثر ہو گیا ہو‘ لیکن ہسپتال والوں نے اس کا کوئی ’ایم آر آئی` سکین نہیں کیا۔

ہسپتال کا کہنا ہے کہ جب بچی کو ہسپتال میں داخل کیا گیا تو ’ ڈینگی کا مرض بہت بڑھ چکا تھا اور وہ ڈینگی شاک سینڈروم کے درجے میں داخل ہو چکی تھی۔‘ ہسپتال کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے بچی کے والدین کو اس کی نازک صورت حال کے بارے میں باخِبر رکھا تھا۔

اسی بارے میں