ٹریننگ اتنی سخت کہ ماہواری آنا بند

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption 'فوج میں جنسی زیادتی پر خاموشی کی جڑیں شمالی کوریا کے مردانہ برتری والے معاشرے سے ملتی ہیں۔‘

دنیا کی چوتھی بڑی فوج کی ایک سابق اہلکار کا کہنا ہے کہ ایک عورت کے لیے اس فوج میں کام کرنا اتنا مشکل ہے کہ زیادہ تر عورتوں کو جلد ہی ماہواری آنا بند ہو جاتی ہے۔

شمالی کوریا کی فوج کی سابق اہلکار لی سو یون کا کہنا ہے کہ خواتین فوجیوں کے لیے ریپ ایک معمول کی بات ہے۔

لی سو یون تقریباً دس برس تک ایک ایسے کمرے میں سویا کرتی تھیں جہاں ان کے علاوہ دو درجن سے زیادہ خواتین رہتی تھیں۔ ہر خاتون اہلکار کو اپنے یونیفارم رکھنے کے لیے ایک چھوٹی سی الماری دی گئی تھی اور ہر الماری پر شمالی کوریا کے بانی کم ال سنگ اور ان کے بعد آنے والے رہنما کم جونگ اِل کی تصویریں فریم میں رکھی ہوئی تھیں۔

دس برس گزرنے کے باوجود لی سو یون کو ان بیرکوں کی بو اچھی طرح یاد ہے۔

'ہمیں بہت پسینہ آیا کرتا تھا'

'ہم چاول کے بھوسے سے بنے ہوئے بستر پر سویا کرتے تھے۔ جسم کی بو ان بستروں میں بس جاتی تھی۔ وہ روئی کے بستر تو تھے نہیں، وہ تو بھوسے کے تھے اس لیے ان میں ہر طرح کی بو بسی ہوا کرتی تھی۔ ہمیں بہت برا لگتا تھا۔

'’شمالی کوریا سے بھاگنے والے فوجی کے پیٹ میں بہت کیڑے ہیں‘

’ہمیں مت آزمائیں‘، ٹرمپ کی شمالی کوریا کو تنبیہ

لی سو یون کہتی ہیں کہ ایک عورت کی حیثیت سے جو بات مشکل ترین لگتی تھی وہ یہ کہ ہم مناسب طریقے سے نہا بھی نہیں سکتی تھیں۔

'گرم پانی کا انتظام نہیں تھا۔ وہ ایک پہاڑی چشمے سے پائپ کے ذریعے پانی مہیا کرتے تھے۔ کیونکہ پانی براہ راست چشمے سے آ رہا ہوتا تھا تو کبھی کبھی اس میں سانپ اور مینڈک بھی آ جاتے تھے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ SHUTTERSTOCK
Image caption شمالی کوریا کی فوج کا کہنا ہے کہ ریپ کا جرم ثابت ہونے کی صورت میں سات برس تک قید ہو سکتی ہے۔

سو یون اب 41 برس کی ہو چکی ہیں۔ وہ ایک یونیورسٹی کے پروفیسر کی بیٹی ہیں اور ملک کے شمالی علاقے میں پلی بڑھی ہیں۔ ان کے خاندان کے اکثر مرد فوج میں تھے۔ جب نوّے کی دہائی میں قحط کی وجہ سے ملک کا برا حال تھا تو انھوں نے بھی یہ سوچ کر رضا کارانہ طور پر فوج میں شمولیت اختیار کر لی کہ کم از کم روز کھانا تو ملے گا۔ ہزاروں خواتین نے یہی راستہ اختیار کیا۔

سترہ برس کی لی سو یون کے فوج میں ابتدائی دن اچھے گزرے کیونکہ شروع میں تو وہ حب الوطنی اور اجتماعیت کے جذبات سے بھری ہوئی تھیں۔ یہاں تک کہ وہ صرف ان کے استعمال کے لیے ہیئر ڈرائر دیے جانے سے بھی متاثر ہوئیں حالانکہ بجلی کی کمی کی وجہ سے اس کا استعمال کم ہی تھا۔

عورتوں اور مردوں کے روز مرہ کے کام تقریباً ایک جیسے تھے۔ عورتوں کے لیے ورزش کا وقت کم ہوتا تھا لیکن انھیں صفائی اور کھانا پکانے جیسے کام بھی کرنے ہوتے تھے جن سے ان کے مرد ساتھی مستثنیٰ تھے۔

شمالی کوریا کے بارے میں کتاب 'کوریا ان ہنڈرڈ کوئسچنز' (کوریا، سو سوالوں میں) کی مصنف جولیٹ موریلوٹ کے مطابق شمالی کوریا کے معاشرے میں مرد کو برتری حاصل ہے اور صنف کے لحاظ سے معاشرے میں مردوں اور عورتوں کے روایتی کردار متعین ہیں۔

سخت ٹریننگ اور کم خوراک نے سو یون اور ان کے ساتھیوں کے جسموں پر انتہائی برے اثرات ڈالے۔

'چھ ماہ سے ایک سال کی سروس کے بعد خوراک کی کمی اور مسلسل ذہنی دباؤ کے باعث ہمیں ماہواری آنا بعد ہو گئی۔'

خواتین فوجی کہتی تھیں کہ انھیں خوشی ہے کہ ماہواری آنا بند ہو گئی کیونکہ حالات انتے خراب تھے کہ ماہواری شروع ہونے کی وجہ سے زیادہ مسائل ہوتے۔

سو یون کہتی ہیں کہ جب وہ فوج میں کام کرتی تھیں تو وہاں اس بارے میں کوئی انتظام نہیں تھا اور انھیں اور ان کی ساتھیوں کے پاس استعمال شدہ سینیٹری پیڈ دوبارہ استعمال کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔

مصنف جولیٹ موریلوٹ جو حال ہی میں وہاں گئی تھیں اور جنھوں نے کئی خواتین فوجیوں سے بات کی، تصدیق کرتی ہیں کہ ان خواتین کو اکثر ماہواری نہیں آتی۔

'ایک 20 سال کی لڑکی سے میں نے بات کی تو اس نے مجھے بتایا کہ اس کی ٹریننگ اس قدر سخت تھی کہ اسے دو برس تک ماہواری نہیں آئی۔'

اس کے علاوہ جنسی طور پر ہراساں کرنا بھی عام ہے۔

موریلوٹ کے مطابق دور دراز علاقوں میں تعینات کی جانے والی خواتین اہلکاروں کے لیے الگ بیت الخلا کا انتظام نہیں ہوتا اور انھیں مردوں کے سامنے اس عمل سے گزرنا پڑتا ہے۔ اس وجہ سے یہ خواتین اپنے آپ کو بہت غیر محفوظ محسوس کرتی ہیں۔

موریلوٹ کہتی ہیں کہ جب انھوں نے خواتین فوجیوں سے ریپ کے بارے میں سوال کیا تو سب نے دوسروں کے بارے میں بتایا۔ کسی نے یہ نہیں کہا کہ ایسا اس کے ساتھ ہوا ہے۔

لی سو یون بھی کہتی ہیں کہ جب وہ 1992 سے 2001 تک شمالی کوریا کی فوج میں کام کرتی تھیں تو انھیں کبھی ریپ نہیں کیا گیا لیکن ان کی کئی ساتھیوں کے ساتھ ایسا ہوا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption شمالی کوریا کی فوج پر الزام ہے کہ وہاں خواتین فوجیوں کا ریپ معمول کی بات ہے

'کمپنی کمانڈر کام کے بعد کئی گھنٹے تک اپنے کمرے رکے رہتے اور اپنی ماتحت خواتین فوجیوں کو ریپ کرتے۔ یہ ایک نہ رکنے والا سلسلہ تھا۔'

تاہم شمالی کوریا کی فوج کا کہنا ہے کہ جنسی ذیادتی کو بہت سنجیدگی سے دیکھا جاتا ہے اور ریپ کا جرم ثابت ہونے کی صورت میں سات برس تک قید ہو سکتی ہے۔

لیکن موریلوٹ کے مطابق کوئی گواہی دینے کے لیے سامنے نہیں آتا لہذا اکثر مرد سزا سے بچ جاتے ہیں۔ 'فوج میں جنسی زیادتی پر خاموشی کی جڑیں شمالی کوریا کے مردانہ برتری والے معاشرے سے ملتی ہیں۔‘

لی سو یون نے شمالی کوریا کی فوج کے سگنل یونٹ میں سارجنٹ کی حیثیت سے کام کیا۔ انھوں نے 28 برس کی عمر میں فوج چھوڑ دی۔ انھیں اپنے خاندان کے ساتھ زیادہ وقت گزارنے کے لیے فوج سے رخصت کی اجازت دی گئی۔ لیکن وہ فوج سے باہر کی دنیا کے لیے تیار نہیں تھیں اور انھیں مالی مشکلات کا بھی سامنا رہا۔

انھوں نے 2008 میں جنوبی کوریا فرار ہونے کا فیصلہ کیا۔

اپنی پہلی کوشش میں وہ ناکام ہوئیں۔ وہ چین کی سرحد پر پکڑی گئیں اور انھیں ایک سال کے لیے جیل بھیج دیا گیا۔

جیل سے نکلنے کے فوراً بعد انھوں نے دوسری کوشش کی۔ انھوں نے دریائے ٹیومن کو تیر کر پار کیا اور چین پہنچ گئیں۔ وہاں سرحد پر وہ ایک بروکر کے ذریعے چین سے جنوبی کوریا میں داخل ہوئیں۔