ایران کا اعلان: ’شام اور عراق میں دولت اسلامیہ کو ختم کر دیا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ایران کے صدر حسن روحانی نے اپنے آپ کو دولت اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم کے خاتمے کا اعلان کیا ہے جبکہ سینییر فوجی کمانڈر نے شام اور عراق میں شدت پسند تنظیم کے خلاف ایرانی کارروائیوں میں لڑتے ہوئے مارے جانے والوں کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔

ٹی وی پر خطاب کرتے ہوئے ایرانی صدر نے کہا کہ 'خطے کے سروں سے اس شیطان کا خطرہ ہٹ گیا ہے یا پھر یہ بہت ہی زیادہ پسپائی میں چلا گیا ہے۔ بے شک بچے کچھے عناصر رہیں گے لیکن اس کی بنیاد اور جڑیں تباہ کر دی گئی ہیں۔'

’شام اور فلسطینیوں کو اسلحہ فراہم کیا، حوثیوں کو نہیں‘

لبنانی وزیراعظم سعد حریری سعودی عرب سے فرانس پہنچ گئے

حزب اللہ پر حملہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے: اسرائیل

’سعودی عرب نے لبنانی وزیر اعظم کو قید کر رکھا ہے‘

اپنی لڑائی میں لبنان کو استعمال نہ کریں: امریکہ

ایران کی سعودی عرب کو تنبیہ،’پہلے اپنے مسائل حل کریں‘

دوسری جانب پاسداران انقلاب کے کمانڈر میجر جنرل قاسم سلیمانی نے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کو ایک خط میں دولت اسلامیہ کی شکست کے بارے میں مطلع کیا ہے۔

رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای نے میجر جنرل قاسم سلیمانی کو دولت اسلامیہ کو شکست دینے پر مبارکباد دی اور کہا کہ یہ اسرائیل، امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے بڑا دھچکہ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

آیت اللہ خامنہ ای کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ 'یہ امریکہ کی ماضی اور حالیہ حکومتوں اور ان حکومتوں جنھوں نے اس گروہ کو بنایا اور ہر ممکن مدد کی کہ مغربی ایشیا میں اپنا اثر و رسوخ بڑھا سکیں کے لیے بڑا دھچکہ ہے۔'

واضح رہے کہ شام میں جاری مسلح تصادم ایک نئے باب میں داخل ہو گیا ہے جب حکومتی فوج نے البو کمال پر قبضہ کیا۔ البو کمال آخری اہم قصبہ تھا جو دولت اسلامیہ کے کنٹرول میں تھا۔

البو کمال پر قبضے کے بعد ایرانی میڈیا نے جنرل سلیمانی کی اس علاقے میں تصاویر شائع کی ہیں۔

دوسری جانب عراقی سکیورٹی فورسز نے عراق میں دولت اسلامیہ کے زیر کنٹرول سرحدی علاقے راوہ کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

'مزار کے محافط'

میجر جنرل سلیمانی نے ایران کی قائم کی گئی کثیر القومی فورس کا اعتراف کیا جس کو 'مزار کے محافط' کہا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

جنرل سلیمانی نے اس فورس کے مارے جانے والے اور زخمی ہونے والے ہزاروں ایرانیوں، عراقیوں، شامی، افغان اور پاکستانیوں کو خراج تحسین پیش کیا۔

پاسداران انقلاب کے کمانڈر نے مزید کہا کہ حزب اللہ اور سید حسن نصر اللہ نے اہم کردار کیا۔

پاسداران انقلاب کی ویب سائٹ پر جو افراد شام اور عراق میں مارے گئے ان کو اہلِ تشیع کے مقدس مقامات کے محافظوں کے طور پر خراج تحسین پیش کیا گیا ہے اور ان کو 'مزار کے محافطوں' کا نام دیا گیا ہے۔

عرب لیگ پر تنقید

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ایران کے صدر حسن روحانی نے عرب لیگ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انھوں نے عرب لیگ کے مقصد پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا 'عرب لیگ کہاں تھی جب عراق کی عوام کو دولت اسلامیہ کا سامنا تھا؟ عرب لیگ اس وقت کہاں تھی جب دولت اسلامیہ شامیوں کو حلب اور دیر الزور میں قتل کر رہی تھی؟'

انھوں نے عرب لیگ کی ترجیحات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جب خطے کے لوگوں نے بڑی کامیابی حاصل کی ہے تو عرب لیگ نے اپنی توجہ کہیں اور کر لی ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہ امر افسوسناک ہے کہ پرانی اور ناکارہ تنظیم جسے عرب لیگ کہتے ہیں کو تشویش ہے کہ یمن نے سعودی عرب کی جانب سے فضائی حملوں کے جواب میں ریاض پر بیلسٹک میزائل داغا۔

دوسری جانب عراقی وزیر اعظم حیدر العبادی نے کہا ہے کہ دولت اسلامیہ کو فوجی حد تک شکست ہو گئی ہے لیکن وہ دولت اسلامیہ کے خلاف حتمی فتح کا اعلان اس وقت کریں گے جب ریگستان میں بھی اس کو تباہ کر دیا جائے گا۔

اسی بارے میں