انڈین وزیر کے سرطان کو ’خدائی انصاف‘ قرار دینے پر غم و غصہ

ہیمانتا بسوا شرما انڈیا تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ہیمانتا بسوا شرما انڈیا کی حکمراں جماعت بھاتیہ جنتا پارٹی کے رکن ہیں

انڈیا کی ریاست آسام کے وزیرِ صحت کی جانب سے سرطان کے مرض کو 'ماضی کے گناہوں' کی وجہ سے ملنے والا 'خدائی انصاف' قرار دیے جانے کے بعد غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

وزیرِ صحت ہیمانتا بسوا شرما کا کہنا تھا کہ لوگوں کو سرطان جیسی بیماریاں 'ان کے والدین کے گناہوں' کی وجہ سے لاحق ہو سکتی ہیں۔

انڈیا میں سرطان کے مریضوں اور ان کے رشتے داروں نے کہا ہے کہ انھیں وزیر کے بیان سے صدمہ پہنچا ہے۔

جبکہ حزب مخالف جماعتوں نے ہیمانتا بسوا شرما کے بیان کو 'بدقسمتی' قرار دیتے ہوئے ان سے عام معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔

آسام کی حزب مخالف جماعت آل انڈیا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ کا کہنا ہے 'وزیرِ صحت نے ریاست میں سرطان کے پھیلاؤ کو روکنے میں اپنی ناکامی کو چھپانے کے بعد یہ بیان دیا ہے۔'

وزیر صحت نے یہ بیان بدھ کو گواہاٹی میں ایک عوامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے دیا تھا۔

اخبار ٹائمز آف انڈیا کے مطابق انھوں نے کہا کہ'جب ہم گناہ کرتے ہیں تو خدا ہمیں تکلیف پہنچاتا ہے۔ بعض اوقات ہمارا سامنا ایسے نوجوانوں سے ہوتا ہے جو سرطان کے مرض میں مبتلا ہوتے ہیں یا جوان آدمیوں کو حادثات کا سامنا ہوتا۔ اگر آپ پس منظر کا مشاہدہ کریں تو آپ کو معلوم ہو گا کہ یہ خدا کا انصاف ہے۔ اور کچھ نہیں۔ ہمیں اس خدائی انصاف کا سامنا کرنا ہے۔'

وزیرِ صحت کے اس بیان پر بہت سارے افراد نے ٹوئٹر پر غم و غصے کا اظہار کیا۔

ہیمانتا بسوا شرما انڈیا کی حکمراں جماعت بھاتیہ جنتا پارٹی کے رکن ہیں اور بعدازاں انھوں نے ایک وضاحتی ٹویٹ بھی کیا جس سے لوگوں میں مزید برہمی پیدا ہوئی۔

انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ کی ایک تحقیق کے مطابق آگہی اور تشخیص کے فقدان کا مطلب یہ ہے کہ اس مرض کے ابتدائی مراحل میں علاج کے صرف 12.4 فیصد افراد آتے ہیں۔

اس رپورٹ کے مطابق ملک میں سرطان کے نیے کیسز اور اس کے مریضوں کی تعداد میں 2020 تک 25 فیصد اضافہ ہو جائے گا۔

اسی بارے میں