حکومت پاکستان کلبھوشن کی اہلیہ، والدہ کی سکیورٹی کی ضمانت دے: انڈیا

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

انڈیا نے پاکستان سے کہا ہے کہ انڈین جاسوس کلبھوشن جادھو سے ملاقات کے لیے ان کی اہلیہ اور والدہ صرف اس وقت آئیں گی جب پاکستان ان کی حفاظت کی ضمانت دے۔

انڈیا کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ انڈیا نے پاکستان کو خط لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کلبھوشن کی اہلیےہ اور والدہ کے ہمراہ اسلام آباد میں انڈین ہائی کمیشن کا ایک آفیشل بھی موجود ہو گا۔

کلبھوشن کی اہلیہ سے ملاقات کرانے کی پاکستان کی پیشکش

’انڈین جاسوس کلبھوشن یادیو نے مزید انکشافات کیے ہیں‘

بریفنگ میں ترجمان روایش کمار نے کہا 'ہم نے پاکستان سے کہا ہے کہ کلبھوشن کی اہلیہ اور اپنی ساس کے ہمراہ ملاقات کے لیے آنا چاہتی ہیں۔'

تاہم انھوں نے کہا کہ انڈیا نے کلبھوشن کی اہلیہ اور والدہ کے پاکستان جانے کے حوالے سے تین شرائط رکھی ہیں۔

'انڈیا نے حکومت پاکستان ان دونوں کی پاکستان میں حفاظت اور سکیورٹی کی ضمانت دے۔ اور ان دونوں کے پاکستان میں رہنے کے دوران ان سے نہ پوچھ گچھ کی جائے گی اور نہ ہی ہراساں کیا جائے گا۔ اور ہم نے مزید کہا ہے کہ انڈین ہائی کمیشن سے ایک سفارتکار کو اجازت دی جائے کہ وہ ہر وقت ان دونوں کے ہمراہ رہے بشمول ملاقات کے۔'

ترجمان نے مزید کہا کہ کلبھوشن اور ان کے خاندان کے درمیان ملاقات سے پاکستان ویانا کنونشن کی خلاف ورزی سے مستثنیٰ قرار نہیں دیا جا سکتا۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
’کلبھوشن یادو کے معاملے پر انڈیا نےعدم تعاون کا مظاہرہ کیا‘

واضح رہے کہ 10 نومبر کو پاکستان نے انڈیا کو انسانی بنیادوں پر انڈین جاسوس کلبھوشن جادھو کی ملاقات ان کی اہلیہ سے کرانے کی پیشکش کی تھی۔

پاکستان کے دفتر خارجہ نے کہا تھا کہ حکومت پاکستان نے فیصلہ کیا ہے کہ صرف اور صرف انسانی بنیادوں پر 'انڈین جاسوس کمانڈر کلبھوشن جادھو کی ملاقات ان کی اہلیہ سے کرائی جائے۔'

واضح رہے کہ اس سے قبل انڈیا کئی بار کلبھوشن تک قونصلر رسائی دینے کی درخواست کر چکا ہے۔ اور ہر بار پاکستان نے یہ درخواست مسترد کی ہے۔

کلبھوشن جادھو کیس، کب کیا ہوا:

3 مارچ: بھارتی شہری کلبھوشن جادھو کو پاکستان ایران سرحدی علاقے سے گرفتار کیا گیا۔

24 مارچ: پاکستانی فوج نے دعویٰ کیا کہ کلبھوشن بھارتی بحریہ کے افسر اور بھارتی انٹیلی جنس ادارے را کے ایجنٹ ہیں اور انہیں پاکستان اور ایران کے سرحدی علاقے سراوان سے گرفتار کیا گیا۔

26 مارچ: حکومت پاکستان نے بھارتی سفیر کو طلب کر کے بھارتی جاسوس کے غیر قانونی طور پر پاکستان میں داخلے اور کراچی اور بلوچستان میں دہشت گردی میں ملوث ہونے پر باضابطہ احتجاج کیا۔

29 مارچ: کلبھوشن جادھو کے مبینہ اعترافی بیان کی ویڈیو جاری کی گئی۔اپریل: کلبھوشن کے خلاف بلوچستان کی حکومت نے دہشت گردی کی دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کروا دی۔

10 اپریل: کلبھوشن جادھو کو فوجی عدالت نے ملک میں دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا مجرم قرار دیتے ہوئے سزائے موت سنا دی۔

10 مئی: بھارت نے کلبھوشن جادھو کی پھانسی کی سزا پر عمل رکوانے کے لیے عالمی عدالت انصاف میں درخواست دائر کر دی۔

15 مئی: عالمی عدالت میں بھارتی درخواست کی سماعت ہوئی۔ دونوں جانب کا مؤقف سننے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔

18 مئی: عالمی عدالت نے اپنے فیصلے میں پاکستان کو ہدایت دی کہ مقدمے کا حتمی فیصلہ آنے تک کلبھوشن جادھو کو پھانسی نہ دی جائے۔

کلبھوشن جادھو کو سزائے موت سنائے جانے پر انڈیا میں شدید رد عمل سامنے آیا تھا۔ حزب اقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی کے ارکان نے دھمکی آمیز لہجہ اختیار کر لیا تھا۔

بی جے پی کے سوامی سبرامینیم کی ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ اگر پاکستان نے اس کے بعد بھی کوئی ایسی حرکت کی تو سندھ پاکستان سے علیحدہ ہو جائے گا۔

’حتمی فیصلے تک کلبھوشن کو سزائے موت نہ دی جائے‘

کلبھوشن جادھو کیس، کب کیا ہوا

انڈیا کی وزیر خارجہ سشما سوراج نے کلبھوشن کو 'انڈیا کا فرزند' قرار دیا تھا اور پاکستان کی حکومت کو خبردار کیا کہ اگر کلبھوشن کی سزا پر عمل درآمد کیا گیا تو پاکستان کو باہمی تعلقات پر پڑنے والے اثرات کے بارے میں سوچ لینا چاہیے۔

انڈین پارلیمان میں وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ کلبھوشن کے پاس ویزا تھا اور انھیں جاسوس قرار نہیں دیا جا سکتا۔

کلبھوشن کے بارے میں انڈیا کا موقف یہ ہے کہ وہ ایک ریٹائرڈ نیوی افسر ہیں جو ایران میں اپنے کاروبار کے سلسلے میں موجود تھے جہاں سے انھیں اغوا کر کے پاکستان لایا گیا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں