دہلی میں شاہی ضیافتوں سے محظوظ ہونے کا سامان

تصویر کے کاپی رائٹ Salma Hussain
Image caption شاہی ضیافت کا اہتمام گذشتہ ماہ کے اخیر میں دہلی میں ہوا تھا

ہندوستان کے راجہ مہا راجہ اور نوابوں کے دسترخوان پربہار ہوا کرتے تھے۔ ہر ایک کے دسترخوان کا الگ مزاج تھا۔

مشرق سے مغرب اور شمال سے جنوب ہر چھوٹا بڑا راجہ اور نواب اپنے دسترخوان پر فخر کرتا نظر آتا تھا۔ ہر ایک کے دسترخوان کی دو تین چیزیں اپنی مثال آپ ہوتی تھیں جن کے لیے وہ دسترخوان مشہور ہوتا تھا۔

دسترخوان کی یہ خصوصیت پشت در پشت برقرار رکھی جاتی۔ ان کے مطبخ کا ہر باورچی نئے نئے پہلو نکال کر انواع و اقسام کے کھانے تیار کرتا تھا۔

راجاؤں اور نوابوں کی سرپرستی اور قدر دانی کی بدولت بہترین باورچی پیدا ہوتے رہتے تھے لیکن کچھ ہی مدت بعد زمانہ ایسا بدلا کہ نہ وہ راجواڑے رہے اور نہ اب ہنرمند باورچیوں کا نشان باقی ہے۔

'ڈائن ود رائلٹی' کی بانی سونل سکسینہ کی ان تھک محنت نے ہندوستان کے ہر حصے سے چھوٹے بڑے تقریباً دو درجن شاہی خاندانوں کو حال ہی میں دہلی میں یکجا کیا کہ وہ اپنے روایتی کھانوں کو ان لوگوں تک پہنچائيں جو نفیس اور لذیذ کھانوں کا ذوق رکھتے ہیں۔

دارالحکومت دہلی میں بیلجیئم کے سفارت خانے کے وسیع لان میں ہر شاہی خاندان کے لیے الگ الگ خیمے لگوائے گئے جن کی سجاوٹ انھی کے ذوق کے مطابق عمل میں آئی۔ ہر خیمے کے متصل باورچی خانے کا انتظام تھا جہاں شاہی خاندان کے موجودہ باورچیوں نے اپنی ہنرمندی کے نمونے پیش کیے۔

شاہی دعوت کے آغاز سے پہلے شاہی خاندان کے افراد نے پیش کیے جانے والے اپنے کھانوں کا مفصل ذکر کیا جن میں کھانوں کی تاریخی روایات، جغرافیائی محل وقوع، خارجی اثرات وغیرہ کا ذکر شامل تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Salma Hussain

کئی ایک ایسے بھی گمنام شاہی خاندان تھے جن کے بارے میں جان کر ہمیں دلی مسرت ہوئی۔ ہندوستان کی وسیع و عریض مملکت ہے اور اس کے ہر گوشے و کنار میں کئی شاہی ریاستیں سالہا سال سے وجود رکھتی تھیں جو وقت کے ساتھ اب گمنام ہو چکی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

٭ لنگر جہاں ذات پات،رنگ و نسل کی قید نہیں

٭ ’آج کی رات یہ لگتا ہے پری آئے گی‘

چار روزہ جشن کا لب لباب یہ رہا کہ اگلے وقتوں کے باورچی خانے وسیع ہوا کرتے تھے۔ شاہی دعوتوں کا سلسلہ شب و روز جاری رہتا تھا۔ باورچیوں کی تعداد کثیر ہوا کرتی تھی۔ باورچی خانہ کئی محکموں میں منقسم ہوا کرتا تھا۔ ان کا نگراں ایک تجربہ کار شخص ہوتا تھا جو داروغۂ باورچی کہلاتا۔ ہر باورچی اپنے فن میں ماہر ہوتا تھا کیونکہ نفیس غذاؤں کے ساتھ اچھا پکانے کے ہرنے واقفیت کا ہونا ضروری تھا۔ صفائی اور پاکیزگی کا بہت خیال رکھا جاتا تھا۔

سفارت خانے کے وسیع و عریض لان میں ہندوستان کے راجہ اپنی اپنی رانیوں، شاہزادوں اور شہزادیوں کے ہمراہ براجمان تھے اور آزاد ہند کی تاریخ میں یہ نادر موقع تھا۔

شاہی ضیافت تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

رام پور کے نواب کاظم علی خان اپنے روایتی شاندار لباس میں مہمانوں کی پذیرائی میں مصروف تھے۔ کوٹوارا کے راجہ سید مظفر علی اور رانی میرا، بھوپال کے نواب زادہ راشد علی خاں اور عائشہ علی خاں، راجستھان کے راجہ تیج سنگھ، پنجاب کے راجہ، محمود آباد، کانگڑہ، کشن گڑھ وغیرہ کے نوابوں اور راجاؤں نے اس میں شرکت کی۔

اس بارے میں مزید

٭ رئیس جمہور کی ضیافتیں

٭ ہندوستان کے شاہی باورچی خانے

جشن صرف کھانے کے متعلق بات چیت اور مہمان نوازی پر مشتمل نہیں تھا بلکہ موسیقی اور جام نے محفل کو اپنے رنگ میں شرابور کر رکھا تھا۔

سونل کی اس کوشش سے نہ صرف بہت سی ریاستیں ایک بار پھر سے روشنی میں آئیں بلکہ ان کے خاندانی باورچیوں کی ہمت افزائی بھی ہوئي جنھوں نے اپنی میراث کو آگے بڑھانے میں حصہ بھی لیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ان کی کوششوں سے شاید علاقائی روایتی کھانے ناپید ہونے سے بچ جائیں۔ بیلجیئم کے سفیر جون لولک اور ان کی اہلیہ بيگم راکا سنگھ نے مہمانوں کا پرجوش استقبال کیا اور جشن میں شرکت کی۔

اس موقعے پر یہ بات سامنے آئی کہ علاقائی کھانوں کی حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے۔ اکثر ہم شمالی ہند کے ذائقوں کا لطف اٹھاتے ہیں اور ملک کے بقیہ حصے نظرانداز ہو جاتے ہیں۔ اس طرح کی تقریبات معلومات کے وہ خزانے پیش کرتے ہیں جن سے ہم عام طور پر نابلد رہتے ہیں۔

٭ سلمیٰ حسین کھانا پکانے کی شوقین، ماہر طباخ اورکھانوں کی تاریخ نویس ہیں۔ ان کی فارسی زباندانی نے عہد وسطی کے مغل کھانوں کی تاریخ کے اسرار و رموز ان پر کھولے۔ انھوں نے کئی کتابیں بھی لکھی ہیں اور بڑے ہوٹلوں کے ساتھ فوڈ کنسلٹنٹ کے طور پر بھی کام کرتی ہیں۔ سلمیٰ حسین ہمارے لیے مضامین کی ایک سیریز لکھ رہی ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں