چاہ بہار بندرگاہ، انڈیا اور ایران کی قربت پر پاکستان کو تشویش

ایران، بندرگاہ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انڈیا نے گزشتہ ماہ ہی چاہ بہار کے راستے امداد کی شکل میں گندم کی ایک قسط افغانستان بھیجی ہے

ایران کے صدرحسن روحانی تین دسمبر کو چاہ بہار بندرگاہ ڈیویلپمنٹ منصوبے کے پہلے فیز کا افتتاح کریں گے۔

اطلاعات کے مطابق اس تقریب میں انڈیا اور افغانستان کے سینیئر وزراء بھی شریک ہوں گے۔

گذشتہ برس انڈیا، ایران اور افغانستان نے ایک بین الاقوامی راہداری قائم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

انڈیا اس راستے کو افغانستان تک رسائی حاصل کرنے کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے۔ لیکن اس منصوبے پر پاکستان کو تشویش ہے جس کا الزام ہے کہ انڈیا افغانستان کے امور میں مداخلت کر رہا ہے اور اس کی کوشش پاکستان کو دو سرحدوں پر گھیرنے کی ہے۔

ایران مسئلہ کشمیر پر ثالث کا کردار ادا کرنے کو تیار

پاکستانی آرمی چیف ایران کے دورے پر

انڈیا نے گذشتہ ماہ ہی چاہ بہار کے راستے امداد کی شکل میں گندم کی ایک قسط افغانستان بھیجی ہے۔ اس نے افغانستان کو 11 لاکھ ٹن گندم امداد کی شکل میں دینے کا وعدہ کیا ہے اور یہ بالکل فری ہے۔

یہ گندم سمندر کے راستے ایران کے چاہ بہار بندرگاہ پہنچائی جا رہی ہے اور وہاں سے اسے ٹرکوں میں لاد کر افغانستان لے جایا جائے گا۔

آسان راستہ تو پاکستان سے ہو کر جاتا ہے، لیکن دونوں ملکوں کے تعلقات کچھ اس نہج پر ہیں کہ اس کے دروازے فی الحال بند ہیں۔ اس لیے بحیرہ عرب کے راستے بائی پاس لینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

انڈیا ایران اور افغانستان نے مئی 2016 میں یہ بین الاقوامی راہ داری قائم کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور اس کے بعد سے ہی چاہ بہار بندرگاہ پر کام تیزی سے آگے بڑھایا گیا۔

انڈیا کے لیے یہ وسطی ایشیا، روس اور یہاں تک کہ یورپ تک رسائی حاصل کرنے کی ایک کوشش ہے۔ چاہ بہار بندرگاہ کو ریل نیٹ ورک سے جوڑنے کی بھی تجویز ہے اور اس میں بھی انڈیا مدد کرے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انڈیا ایران اور افغانستان نے مئی 2016 میں بین الاقوامی راہ داری چاہ بہار قائم کرنے کا فیصلہ کیا تھا

اس کے علاوہ چاہ بہار بندرگاہ کی گنجائش بھی بڑھائی جائے گی۔ لیکن اس پورے منصوبے پر پاکستان میں خدشات ہیں۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ انڈیا افغانستان میں مداخلت کر رہا ہے اور چاہتا ہے کہ افغانستان کی حکومت اس کے زیر اثر رہے تاکہ پاکستان کو دونوں سرحدوں پر گھیرا جا سکے۔ انڈیا کا موقف ہے کہ افغانستان سے اس کے تاریخی رشتے ہیں اور وہ صرف انسانی ہمدردی کی بنیاد پر وہاں امدادی کاموں میں حصہ لے رہا ہے۔

لیکن امریکہ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عہدہ سنبھالنے کے بعد سے بین الاقوامی راہداری کا منصوبہ کچھ خطرے کا شکار ہوا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے جوہری معاہدے کو منسوخ کرنا چاہتے ہیں اور اگر ایسا ہوا تو ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والی بین الاقوامی کمپنیاں پھر پابندیوں کی زد میں آ سکتی ہیں۔

اور ان کمپنیوں کے بغیر اس پراجیکٹ کو عملی شکل دینا مشکل ہو گا۔

اس لیے تجزیہ نگاروں کے مطابق غیر یقینی کے اس ماحول میں ایران چین کی طرف دیکھ رہا ہے، جو انڈیا کے لیے زیادہ اچھی خبر نہیں ہے۔

انڈیا کے لیے یہ لمحہ فکریہ ہے، اسے افغانستان پہنچنا ہے لیکن پاکستان ہو کر جا نہیں سکتے اور نئے راستے میں بھی دشواریاں آ سکتی ہیں۔

اسی بارے میں