چینی جوڑے کے دستی سامان سے سینکڑوں لال بیگ برآمد

چین، کسٹم اہلکار تصویر کے کاپی رائٹ KANKAN NEWS
Image caption ’عملے کے ایک رکن نے سامان کھولا تو ایک لال بیگ رینگتا ہوا باہر آگیا۔ وہ تقریبا چیخ پڑیں۔'

چین میں کسٹم اہلکاروں کو اُس وقت ایک ناخوش گوار حیرانی ہوئی جب انھوں نے ایک جوڑے کا سامان کھولا اور اس میں سے سینکڑوں زندہ لال بیگ نکلے۔

بیجنگ یوتھ ڈیلی کے مطابق 25 نومبر کو جنوبی گوآن ڈونگ کے بائےیون انٹرنیشنل ائیرپورٹ کی سیکیورٹی نے ایک بزرگ جوڑے کے سامان میں اس وقت کچھ گڑبڑ محسوس کی جب انھوں نے اپنے بیگ ایکسرے مشین میں رکھے۔

سکیورٹی گارڈ ژو یویو نے کن کن نیوز ایجنسی کو بتایا کہ ’وہاں ایک سفید پلاسٹک کے بیگ میں بہت سی سیاہ اشیا گھوم رہی تھیں۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’عملے کے ایک رکن نے ان کا سامان کھولا اور ایک لال بیگ رینگتا ہوا باہر آگیا۔ وہ تقریباً چیخ پڑیں۔‘

’انڈین ٹرینوں کا کھانا استعمال کے قابل نہیں‘

’غیر معمولی داستانِ محبت‘ پر مبنی ڈرامہ بند

اس بزرگ جوڑے سے جب پوچھا گیا کہ وہ لال بیگ ساتھ لے کر کیوں سفر کر رہے تھے تو شوہر نے اہلکاروں کو بتایا کہ وہ ان کی بیوی کی جلد کا مرہم تھے۔'

انھوں نے وضاحت نہیں کی کہ ان کی بیوی کی کیا حالت ہے لیکن مس یو کہتی ہیں کہ حکام کو اس بارے میں آگاہ کردیا گیا ہے۔ ’وہ لال بیگ ایک حکیمی علاج کا حصہ تھے۔ آپ کچھ دواؤں کی کریم میں لال بیگ ملاتے ہیں اور اپنی جلد پر لگاتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ KANKAN NEWS
Image caption اب ان لال بیگوں کے ساتھ کیاکیا جائے گا یہ معلوم نہیں ہے۔

بیجنگ یوتھ ڈیلی کا کہنا ہے کہ چونکہ پرواز کے دوران دستی سامان میں زندہ حیاتیات لے جانے کی اجازت نہیں ہوتی اس لیے اس جوڑے نے لال بیگ سے بھرا تھیلا سکیورٹی عملے کے حوالے کردیا۔ اب ان لال بیگوں کے ساتھ کیا کیا جائے گا یہ معلوم نہیں ہے۔

واضح رہے کہ یہ پہلی بار نہیں ہے کہ ایکسرے چیک پوائنٹ پر متعین سکیورٹی اہلکاروں کو اس قسم کی ناخوش گوار حیرانی کا سامنا ہوا ہو۔

اس سال اگست میں سیکیورٹی حکام کو معلوم ہوا کہ ایک شخص دو انسانی بازوؤں کو منتقل کر رہا تھا کہ جسم کے یہ اعضا ایک بس سٹیشن کے ایکسرے سکینر پر دکھائی دیے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں