’جب مجھے اپنے ہندو ہونے پر شرم محسوس ہوئی‘

تصویر کے کاپی رائٹ PRAVEEN JAIN
Image caption بابری مسجد کے واقع کو پچس سال بعد بھی کسی کو سزا نہیں دی گئی

انڈیا کے مقدس شہر ایودھیا میں چھ دسمبر سنہ 1992 میں ہندوؤں کے ایک مشتعل ہجوم نے سولہویں صدی عیسوی میں تعمیر کی گئی تاریخی بابری مسجد کو مسمار کر دیا تھا۔اس سانحے کے بعد فسادات میں دو ہزار افراد لقمۂ اجل بن گئے تھے۔ اس واقع سے ایک دن قبل فوٹوگرافر پروین جین ہندو کار سیوکوں یا رضاکاروں میں شامل ہو گئے تھے۔ اس دن کو بابری مسجد کو مسمار کرنے کی مشق قرار دیا گیا تھا۔ پروین جین نے اس مشق کی تصاویر کے ساتھ اس روز کی روداد بیان کی ہے۔

اس بارے میں مزید خبریں

٭بابری مسجد مقدمہ: ہندو فتح کے، مسلمان انصاف کے منتظر

٭’صرف بابری مسجد ہی نہیں بلکہ بہت کچھ ٹوٹا‘

٭جب مسلمانوں کے پیروں سے زمین کھسگ گئی

’میں چار دسمبر 1992 کی دھند میں لپٹی صبح ایودھیا شہر پہنچا۔

مجھے 'دی پائنیر' اخبار کی طرف سے ایودھیا شہر میں جمع ہونے والے کار سیوکوں اور انتہا پسند ہندو رہنماؤں اور ان کی کارروائیوں کی تصاویر لینے کے لیے مقرر کیا گیا تھا۔

ہندو قوم پرست جماعت راہشٹریا سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے ہزاروں کارکن پہلے ہی شہر میں جمع ہو چکے تھے۔ آر ایس ایس کو ہندو کٹر یا انتہا پسندوں گروپوں کا منبع تصور کیا جاتا ہے اور بھارتیہ جنتا پارٹی نے بھی اسی ہی کے نظریے کے بطن سے جنم لیا ہے۔

اُنھوں نے بابری مسجد کی جگہ جسے وہ ہندوؤں کے دیوتا رام کی جنم بھومی یا جائے پیدائش تصور کرتے ہیں وہاں ایک مندر تعمیر کرنے کا منصوبہ بنا لیا تھا۔ انھوں نے یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ بابری مسجد کو ہاتھ نہیں لگائیں گے اور رام مندر کی تعمیر شروع ہونے کی علامت کے طور پر ایک مذہبی تقریب منعقد کریں گے جس میں صرف ایک اینٹ لگائی جائے گی۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک رکن پارلیمان جس سے میں رابطے میں تھا اس نے مجھے بتایا کہ پانچ دسمبر کی صبح بابری مسجد کو مسمار کرنے کی مشق کی جائے گی۔

پروین جین کے مطابق بی جے پی کے رکن پارلیمان نے مجھ سے کہا کہ پارٹی کی اعلیٰ قیادت کی طرف سے انھیں واضح احکامات ہیں کہ کسی بھی صحافی یا ذرائع ابلاغ کے نمائندے کو قریب نہ آنے دیا جائے لیکن' کیونکہ آپ سے ہماری دوستی ہے اس لیے میں آپ کو یہ جانکاری (معلومات) دے رہا ہوں۔'

زعفرانی رنگ کا گمچھا یا سر پر ڈالنے والے رومال اوڑھے اور سینے پر خصوصی پاس (اجازت نامہ) سجائے، ایک کار سیوک کے روپ میں مجھے بابری مسجد کے قریب فٹ بال گراؤنڈ کے برابر ایک میدان میں لے جایا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ PRAVEEN JAIN
Image caption مسجد پر حملے سے ایک دن قبل اس کو گرانے کی باقاعدہ مشق کی گئی

سروں اور کندھوں پر زعفرانی رنگ کے رومال باندھے ہزاروں کی تعداد میں کار سیوک پہلے ہی میدان میں موجود تھے۔ اس پورے علاقے کو آر ایس ایس کے رضاکاروں نے گھیرے میں لیا ہوا تھا۔

میں جس شخص کے ساتھ تھا اس نے مجھے سخت الفاظ میں ہدایت کی کہ مجھے ہر وقت اس کے قریب رہنا ہے اور وقتاً فوقتاً میدان میں لگائے جانے والوں کے نعروں کا جواب بھی دیتے رہنا ہے اور اس دوران جتنا ممکن ہو بچا بچا کر اپنا کام بھی کرتے رہنا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PRAVEEN JAIN
Image caption اس مشق میں جو لوگ شامل تھے وہ تجربہ کار مزدور نظر آتے تھے

ہجوم میں ایک ہٹا کٹا آدمی یک دم میرے سامنے آ گیا اور اس نے تحکمانہ انداز میں مجھے اشارہ کیا کہ میں اپنا کیمرہ بند کر دوں۔ میں نے اپنے سینے پر لگے پاس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ہجوم کی طرف سے لگائے نعرے کا زور دار انداز میں جواب دیا۔ جواب میں اس شخص نے معنی خیز انداز میں سر ہلاتے ہوئے مجھے ایک کونے میں کھڑے کچھ لوگوں کی طرف جانے کو کہا۔

میں نے اپنے کیمرے کے لیز پر مٹی صاف کی اور ان حیران کن منظر کی تصاویر اتارنا شروع کر دیں۔

ہتھوڑوں، کھدالوں، بیلچوں اور مختلف اوزاروں سے لیس اس ہجوم نے ایک مٹی کے بہت بڑے تودے کو کھودنا شروع کر دیا۔

یہ ساری مشق بڑی مہارت سے کی جا رہی تھی اور صاف نظر آ رہا تھا کہ یہ عام لوگ نہیں بلکہ عمارتیں مسمار کرنے کا تجربہ رکھنے والے مزدور ہیں۔

بابری مسجد کو منہدم کرنے کے واقع پر رپورٹ مرتب کرنے والے سرکاری کمیشن لبرہان کمیشن نے سنہ 2009 میں پیش کی گئی اپنی رپورٹ میں یہ بات کہی کہ: 'کمیشن کے آگے یہ حقائق پیش کیے گئے کہ یہ مشق بابری مسجد کو گرانے کے لیے کی گئی تھی۔ کمشین کے سامنے اس کے تصاویری شواہد بھی پیش کیے گئے۔ تاہم ٹھوس شواہد کی عدم موجودگی میں حتمی طور پر یہ کہنا درست نہیں ہو گا کہ کار سیوک تربیت یافتہ یا تجربہ کار مزدور تھے گو کہ کچھ بیانات اور واقعاتی شواہد اس طرف اشارہ کرتے ہیں۔'

میں نے ایک ایسے شخص کی تصویر بنائی جس نے منہ پر رومال باندھا ہوا تھا اور وہ چینخ چینخ کر مٹی کے تودے کو رسیوں اور جال ڈال کر گرانے والے کارسیوکوں کو ہدایات دے رہا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ PRAVEEN JAIN
Image caption ان مزدوروں کے پاس تمام ضروری اوزار موجود تھے

وہ دائیں بازو کی کٹر تنظیم آر ایس ایس کا کوئی خاص رہنما لگ رہا تھا اور شاید اس ہی لیے اس نے اپنا چہرہ چھپا رکھا تھا۔

اس تودے کو آخر کار نعروں کی گونج میں کامیابی سے گرا لیا گیا۔

میں نے اپنی جیکٹ میں کیمرہ چھپا کر باہر جانے کی راہ لی اور ساتھ ساتھ اس ہجوم کے نعروں کا جواب بھی دیتا رہا۔ میں یہ سوچ کر انتہائی خوش تھا کہ میں ان تاریخ ساز مناظر کی تصاویر بنانے والا واحد صحافی ہوں۔

اس کے اگلے روز میں دوسرے صحافیوں کے ساتھ ایک چار منزلہ عمارت کی چھت پر موجود تھا جہاں سے بابری مسجد اور اس کے قریب لگائے گئے سیٹج کو صاف طور پر دیکھا جا سکتا تھا جہاں سے وشوا ہندو پریشد (وی ایچ پی) اور بی جے پی کے رہنما ڈیڑھ لاکھ کے قریب کارکنوں اور لوگوں سے خطاب کر رہے تھے۔

یہاں پر موجود پولیس اہلکار بھی ہجوم کے نعروں کا جواب دے رہے تھے۔ دوپہر کے وقت ہجوم اس قدر مشتعل ہو گیا کہ اس نے مسجد کی حفاظت پر معمور پولیس اہلکاروں اور رضاکاروں پر دھاوا بول دیا۔ اور چند گھنٹوں میں مسجد کی عمارت ملبے کا ڈھیر بن گئی۔

میں جتنی تیز دوڑ سکتا تھا اسی تیزی سے اپنے ہوٹل کی طرف دوڑا۔

تصویر کے کاپی رائٹ PRAVEEN JAIN
Image caption آر ایس ایس کے کارکنوں کو جسمانی تربیت بھی دی جاتی ہے

فساد شروع ہو چکے تھے۔ میں نے اپنے اردگر نظر ڈالی کہ پولیس یا کسی اور مدد کرنے والے کو تلاش کر سکوں لیکن لوگ دکانیں اور گھروں کے دروازے اور کھڑکیاں بند کر رہے تھے۔

جس دن مسجد کو گرایا گیا اس دن مجھے اپنے ہندو ہونے پر شرم محسوس ہوئی۔

میں لبرہان کمیش کے سامنے عینی گواہ کے طور پر پیش ہوا اور اس کے بعد متعدد مرتبہ سینٹرل بیورو فار انویسٹیگشن (سی بی آئی) کے حکم پر ایک خصوصی عدالت کے سامنے بھی گواہی کے لیے بلایا جاتا رہا جو اس واقع کی تحقیقات کر رہی تھی۔

اس واقع کو پیش آئے پچیس سال بیت چکے ہیں لیکن اس کے ذمہ دار ایک بھی شخص کو سزا نہیں سنائی گئی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں