'گجرات انڈیا کی پہلی ہندو ریاست '

انڈیا، احمد آباد

احمد آباد کے وسط میں واقع گلبرگ رہائشی کمپلکس ویران پڑا ہے۔ دو منزلہ خوبصورت مکانوں کے اطراف بڑی بڑی جھاڑیاں اُگ آئی ہیں۔ سوسائٹی کی مسجد کی مغربی دیوار کے پیچھے مقامی میونسپلٹی نے کوڑا پھینکنے کی جگہ بنا دی ہے۔

سنہ 2002 میں گودھرا میں مسلمانوں کے ہاتھوں 50 سے زیادہ کارسیوکوں کو زندہ جلائے جانے کے بعد مسلم مخالف فسادات میں یہاں 69 مسلمان مارے گئے تھے۔ تب سے یہ مکانات ویران پڑے ہیں۔ فسادات میں بچ جانے والے یہاں کے مکین یہاں کبھی واپس نہیں آئے۔

امتیاز پٹھان ان لوگوں میں تھے جو بلوائیوں سے کسی طرح بچ گئے تھے 'ان مکانوں سے خوفناک یادیں وابستہ ہیں۔ وہ منظر ہمارے ذہن میں ہے۔ اپنے رشتے داروں کی دردناک چیخیں ہمارے کانوں میں گونجتی ہیں یہاں کون رہ سکتا ہے۔؟'

یہ بھی پڑھیے

'ریاستی حکومت گجرات فسادات میں تباہ ہوئی مذہبی عمارتوں کا ہرجانہ دینے کی پابند نہیں'

'ڈرنے کی ضرورت نہیں، انشاءاللہ سب ٹھیک ہوگا'

گجرات کے مسلمانوں میں اب خود اعتمادی آرہی ہے

کیا گجرات کے مسلمان دوسرے درجے کے شہری ہیں؟

امتیاز کا گھر گلبرگ سوسائٹی میں ویران پڑا ہے ۔'وہ سابق رکن پارلیمان احسان جعفری کے گھر کی طرف اشارہ کر کے بتاتے ہیں 'میرے دادا، دادی، امی، چچا، بھتیجا، بھابھی سبھی نے یہاں پناہ لے رکھی تھی۔ میرے گھر کے دس لوگ مارے گئے تھے۔' امتیاز اب احمد آباد کے ایک مسلم علاقے میں رہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ سنہ 2002 کے بعد گجرات میں مسلمانوں کی زندگی 'بد سے بدتر' ہو گئی ہے۔

22 برس کے بی جے پی دور اقتدار میں گجرات کے معاشرے میں مسلمان پوری طرح الگ ہو کر رہ گئے ہیں۔ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینیجمنٹ کے محقق اعجاز شيخ کہتے ہیں ' چھوٹے کسان اور گاؤں میں رہنے والے مسلمان عدم تحفظ کے احساس سے بڑے بڑے شہروں کے مسلم علاقوں میں منقل ہو گئے۔ مسلمان معیشت سے غائب ہو چکے ہیں، سیاست میں کہیں نہیں ہیں اور ہندو معاشرے سے ان کا رابطہ پوری طرح ٹوٹا ہوا ہے۔'

گجرات میں مسلمانوں کی آبادی تقریبآ دس فی صد ہے۔ اسمبلی انتخابات کے دوران حکمراں بی جے پی اور اپوزیشن کانگریس دونوں ہی مسلمانوں کو نظر انداز کر رہی ہیں۔

پروفیسر گھنشیام شاہ کہتے ہیں کہ مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری بنانا بی جے پی اور آر ایس ایس کے ہندتوا کے نظریے کا اہم پہلو ہے۔

’میں کہوں گا کہ گجرات انڈیا کی پہلی ہندو ریاست بن چکا ہے۔ حکومت کی ترجیحات میں جس طرح ہندتوا شامل ہے اس سے یہ واضح ہے کہ یہ ایک مذہبی ریاست ہے۔ مسلمان یہاں رہیں لیکن انھیں یہ قبول کرنا پڑے گا کہ وہ دوسرے درجے کے شہری ہیں۔'

شمشاد پٹھان سنہ 2002 کے فسادات اور دہشت گردی کے الزامات میں مسلمانوں کے مقدمات کی پیروی کرتے رہے ہیں۔

ان کا خیال ہے کہ گجرات کے مسلمان اب شکست خوردگی اور بے بسی کے احساس سے گذر رہے ہیں۔ '

مسلمان اب اس حقیقت کو سمجھ چکا ہے کہ 10، 11 فی صد کی طاقت سے وہ ایسی سیاسی قوت نہیں بن سکتا جو بی جے پی کو چیلنج کر سکے۔ اب وہ سمھجلنے لگا ہے کہ وہ کسی کے ساتھ جائے اسے تو جھیلنا ہے۔'

بی جے پی کسی تفریق کے الزام سے انکار کرتی ہے۔

پارٹی کے ترجمان بھرت پانڈیا کہتے ہیں 'بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد تو مسلمان اصل دھارے میں آئے ہیں۔ ہندوتوا ہمارا فلسفہ ہے۔ اس میں کسی کے ساتھ تفریق نہیں برتی جاتی۔ جو سکیمیں اور پروگرام ہیں ان کا فائدہ مسلمانوں کو بھی ہو رہا ہے۔ منتخبہ اداروں میں سینکڑوں مسلمان بی جے پی کی طرف سے جیت کر آتے ہیں۔ تفریق کا الزام بی جے پی اور گجرات کو بدنام کرنے کی سازش ہے۔'

معیشت، سیاست اور تعلیم میں مسلمان پہلے ہی حاشیے پر آ چکے ہیں۔ انھیں لگتا ہے کہ ریاست میں کسی سیاسی تبدیلی کے بغیر ان کی حالت بدلنا مشکل ہے۔

پروفیسر گھنشیام شاہ کہتے ہیں 'گزرے 10، 12 سالوں میں ہندو قدریں اور اقلیت مخالف جذبات منظم ادارہ جاتی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ ایک رہنما اگر چلا بھی جائے تو جس طرح معاشرے میں ہندتوا کی قدریں داخل ہو چکی ہیں ان کا نکلنا اتنا آسان نہیں ہو گا۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان کا کینواس اور بھی وسیع ہو جائے۔‘

15 برس میں ریاست کے انتخابات میں میں پہلی بار بی جے پی کو اپوزیشن کانگریس کی طرف سے سیریس چیلنج کا سامنا ہے۔ بی جے پی کے کئی اہم روایتی سیاسی حلیف اس بار اس سے ناراض ہیں۔ بڑے نوٹوں پر پابندی اور جی ایس ٹی کے نئے سیلز ٹیکس نظام نے ریاست کے کاروباری حلقوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

نریندر مودی کے وزیراعظم بننے کے بعد ریاست میں ان جیسی کرشماتی اور طاقتور قیادت بھی نہیں ہے۔ بی جے پی اس بدلتی ہوئی فضا کو شدت سے محسوس کر رہی ہے۔ یہ انتخاب وزیر اعظم نریندر مودی کے سیاسی مستقبل اور مسلمان دونوں کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں