’جان بچانے میں تو کامیاب ہو گئی لیکن عزت گنوا دی‘

انڈیا تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

'نریلا میں غیر قانونی شراب بیچنے والی خواتین نے مل کر اس عورت کو سڑک پر گھسیٹا اور پھر اس کے کپڑے تار تار کر دیے۔ ان کے اس قبیح فعل میں مردوں نے پورا ساتھ دیا اور اس واقعے کی ویڈیو بھی بنائی۔'

یہ الزامات دہلی کمیشن فار ویمن (ڈی سی ڈبلیو) کی سواتی مالیوال نے لگائے جنھوں نے اس واقعے میں شکار بننے والی خاتون کی ویڈیو اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر جاری کی جس میں انھوں نے پورے واقعے کی تفصیل روتے ہوئے بیان کی۔

انڈیا: گینگ ریپ کی شکایت پر پولیس کے غیرمہذب سوال

سواتی مالیوال کی شیئر کی گئی 57 سیکنڈ طویل ویڈیو میں ایک روتی ہوئی خاتون کو دیکھا جا سکتا ہے جو کہتی ہیں 'میں اپنی دوست کے ساتھ پولیس کے پاس جا رہی تھی لیکن کچھ لوگوں نے مجھے روکا اور ڈنڈوں سے مارنا شروع کر دیا اور میرے کپڑے پھاڑ دیے۔ میں نے اپنی جان بچانے کی اور بھاگنے کی کوشش کی۔ میں اپنی جان بچانے میں تو کامیاب ہوگئی لیکن عزت گنوا دی۔'

تشدد کا شکار ہونے والی خاتون اس وقت دہلی کے ایک ہسپتال میں داخل ہیں جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔ وہ شادی شدہ ہیں اور اپنے شوہر کے ساتھ دہلی کے نریلا علاقے کی رہائشی ہیں۔

کئی سالوں سے وہ اپنے علاقے میں منشیات کے خاتمے کے لیے کام کر رہی ہیں اور ’نشہ مکتی سانگھ‘ نامی جماعت سے وابستہ ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اصل کیس کیا ہے؟

ڈی سی ڈبلیو کی صدر سواتی مالیوال نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'چھ دسمبر کی شب مجھے شکایت ملی جس کے بعد میں منشیات اور شراب کی غیر قانونی فروخت کے مراکز پر چھاپہ مارنے نریلا اپنی ٹیم کے ساتھ گئی۔ تشدد کا شکار بننے والی خاتون اور دوسرے رضا کار ہمارے ساتھ تھے۔'

سواتی مالیوال نے کہا کہ دہلی پولیس نے ان کی بات کو سنجیدگی سے نہیں لیا جس کی وجہ سے یہ واقعہ پیش آیا۔

دوسری جانب دہلی پولیس کا موقف کچھ اور ہے۔ دہلی پولیس کے دیپندر پھاٹک نے کہا: 'تشدد کا شکار بننے والی خاتون کی کہانی میں جھول ہے۔ ان پر حملہ ضرور ہوا لیکن انھیں برہنہ کر کے سڑک پر گھسیٹا نہیں گیا۔ یہ الزام سراسر جھوٹ ہے۔'

دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کجریوال نے ہسپتال کا دورہ کیا جہاں انھوں نے تشدد کا شکار بننے والی خاتون سے ملاقات کی۔

اسی بارے میں