کیا بورس جانسن نازنین زاغری کو رہا کرا پائیں گے ؟

نازنین زاغری ریڈکلف تصویر کے کاپی رائٹ NAZANIN ZAGHARI-RATCLIFFE
Image caption نازنین زاغری ریڈکلف‎‎ اپریل 2016 سے ایران میں جاسوسی کے الزام میں زیرحراست ہیں

برطانوی سیکریٹری خارجہ بورنس جانسن ایران پہنچ گئے ہیں جہاں وہ ایرانی نژاد برطانوی شہری نازنین زاغری ریڈکلف‎‎ کی گرفتاری پر ’شدید خدشات‘ کا اظہار کریں گے۔

برطانوی سیکریٹری خارجہ 37 سالہ نازنین سمیت دیگر دوہری شہریت رکھنے والے افراد کی انسانی بنیادوں پر رہائی کا مطالبہ کریں گے۔

نازنین زاغری ریڈکلف‎‎ اپریل 2016 سے ایران میں جاسوسی کے الزام میں زیرحراست ہیں تاہم وہ اس الزام کی تردید کرتی ہیں۔

بورس جانسن ایک ایسے وقت میں ایران کا دورہ کر رہے ہیں جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھ رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے!

نازنین زغاری کو’ سفارتی تحفظ‘ دینے پر غور

برطانوی وزیر خارجہ کا بیان ایرانی قیدی کو مہنگا پڑگیا

اس دورے کے دوران وہ خطے کے تںازعات، بالخصوص شام اور یمن، میں ایرانی مداخلت پر برطانوی خدشات کے بارے میں بات چیت کریں گے۔

بی بی سی کے سفارتی نامہ نگار جیمز روبنز کا کہنا ہے کہ بورس جانسن کا دورہ تہران سنہ 2003 کے بعد برطانیہ کے کسی سیکریٹری خارجہ کا تیسرا دورہ ہے اور ’اس سے مزید اہم نہیں ہو سکتا۔‘

نامہ نگار کے مطابق بورس جانسن کو نازنین زاغری ریڈکلف کی رہائی کے امیدیں کم رکھنی چاہییں کیونکہ ایسے معاملات بہت مشکل ہوتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption روال سال کے اوائل میں بورس جانسن نے اس معاملے پر نازنین کے شوہر رچرڈ ریڈکلف سے بات چیت کی تھی

نازنین زاغری ریڈکلف کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ اپنی بیٹی گیبریلا کو چھٹیوں پر اپنے والدین سے ملوانے گئی تھیں۔

گرفتاری کے بعد ان کی بیٹی کا پاسپورٹ ضبط کر لیا گیا اور وہ گذشتہ 20 ماہ سے اپنے نانا نانی کے ساتھ ایران میں رہ رہی ہیں۔

پارلیمانی کیمیٹی کے سامنے یورس جانسن کے اس بیان کہ نازنین ایران میں صحافیوں کو تربیت دینے کے لیے گئی تھیں، سے نازنین کی پریشانیاں بڑھ گئی ہیں اور خدشہ پیدا ہو چکا ہے کہ ان کی سزا میں مزید پانچ سال قید کا اضافہ ہو سکتا ہے۔

نومبر میں انھوں نے دارالعوام میں معذرت کی تھی اور اس بیان کو واپس لے لیا تھا کہ وہ 'ایران کسی بھی پیشہ وارانہ سلسلے میں گئی تھیں۔'

بورس جانسن نے اس معاملے پر اس وقت ان کے شوہر رچرڈ ریڈکلف سے بات چیت کی تھی اورسفارتی تحفظ فراہم کرنے کا بھی مطالبہ کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption نازنین زاغری ریڈکلف کو تہران میں اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ اپنی بیٹی گیبریلا کو چھٹیوں پر اپنے والدین سے ملوانے گئی تھیں

نازنین زاغری ریڈکلف کی صحت کے حوالے سے بھی خدشات پائے جاتے ہیں۔

ہیمپسٹیڈ اینڈ کلبرن سے رکن پارلیمان ٹیولپ صدیق کا کہنا تھا کہ انھیں دفتر خارجہ نے بتایا کہ ہے کہ بورس جانسن کی فوری رہائی نہیں کروا سکیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ واضح کر دیا گیا تھا ہم کسی معجزے کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔‘

بورس جانسن نے کسی کا نام ظاہر نہیں کیا لیکن ان کا کہنا تھا کہ ’میں دوہری شہریت کے حامل معاملوں پر اپنے شدید خدشات کا اظہار کروں گا اور ان انسانی بنیادوں پر ان کی رہائی کے لیے دباو ڈالوں گا۔‘

دفتر خارجہ نے ایران میں قید ایسے افراد نے ناموں اور تعداد کی تصدیق نہیں کی اور کہا ہے کہ ان کے خاندانوں نے کہا ہے یہ معاملات عوام کے سامنے نہ لائے جائیں۔

اسی بارے میں