اسرائیل سے دوستی چھوڑ دیں، سعودی عرب کے لیے ایران کی شرط

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سعودی عرب اسرائیل کی طرح ایران کے جوہری معاہدے کے سخت خلاف تھا

ایران کے صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ وہ سعودی عرب سے اپنے تعلقات بہتر کر سکتے ہیں اگر وہ اسرائیل کے ساتھ دوستی چھوڑ دے اور یمن میں بمباری کو بند کر دے۔

ایران کے صدر نے یہ بات اتوار کو پارلیمنٹ سے خطاب کے دوران کہی۔

ان کا کہنا تھا کہ 'پہلے صیہونیوں سے غلط دوستی ترک کریں اور دوسرے یمن پر غیر انسانی بمباری بند کرے۔ ایسے میں ہمیں سعودی عرب سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ ہم سعودی عرب سے اپنے تعلقات بحال کر سکتے ہیں اور ان سے اچھا رشتہ رکھ سکتے ہیں۔'

ایران اور سعودی عرب دست و گریباں کیوں؟

ایک سالہ پابندی کے بعد ایرانی شہریوں کو حج کی اجازت

حزب اللہ پر حملہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے: اسرائیل

ایران یمن میں قیامِ امن میں ناکامی کا ذمہ دار: سعودی عرب

صدر روحانی کی یہ تقریر آئندہ مالی سال کے بجٹ سے متعلق تھی اور اسے سرکاری ٹی وی پر نشر کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران صدر ٹرمپ کی جانب سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیے جانے کے معاملے پر خاموش نہیں رہے گا اور اس ضمن میں کوئی بھی قدم اٹھائے گا۔

'ہم بڑی طاقتوں کی سازشوں، امریکہ اور صیہونی تکبر کے سامنے نہ کبھی خاموش رہے ہیں اور نہ رہیں گے۔ اور ہم اپنی طاقت کےمطابق فلسطینی قوم کی مدد کے لیے اور بیت المقدس کے مقام کے لیے ہر قدم اٹھائیں گے اور مدد کریں گے کیونکہ یہ مسلمانوں کی سرزمین ہے۔'

اس موقع پر انھوں نے شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے خلاف لڑنے والے مسلمان گروہوں کو خراج تحسین بھی پیش کیا اور کہا کہ یمن میں بھی وہ سرخرو ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ اسلام کے لیے لڑنے والوں نے شام، عراق اور لبنان کو محفوظ بنایا ہے اور خدا کی مرضی سے یمن بھی محفوظ ہو گا۔

خیال رہے کہ گذشتہ سال جنوری میں تہران میں سعودی سفارتخانے پر مظاہرین کے حملے کے بعد سے ایران اور سعودی عرب کے تعلقات میں مزید کشیدگی پیدا ہو گئی تھی۔

سعودی عرب اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف کارروائی کر رہا ہے اور اس کا الزام ہے کہ ایران درپردہ حوثی باغیوں کی حمایت کر رہا ہے۔

اسرائیل اور سعودی عرب ہی وہ دو ملک تھے جنھوں نے 2015 میں ایران کے ایٹمی پروگرام پر طے پانے والے بین الاقوامی معاہدے کی شدت سے مخالفت کی تھی۔ ان کا اصرار تھا کہ معاہدہ ناکافی ہے۔

اسی بارے میں