پاکستان سے ساز باز کا الزام: ’نریندر مودی سابق نائب صدر اور وزیر اعظم سے معافی مانگیں‘

نریندر مودی تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption گجرات میں دو مرحلوں میں انتخاب ہو رہے ہیں اور ووٹوں کی گنتی 18 دسمبر کو ہوگی

انڈیا کی حزب اختلاف کی جماعت کانگریس پارٹی نے وزیر اعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سابق وزیر اعظم من موہن سنگھ اور سابق نائب صدر حامد انصاری سے معافی مانگیں اور ان الزامات کو واپس لیں کہ وہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو گجرات کے انتخابات میں ہرانے کے لیے پاکستان سے ساز باز کر رہے ہیں۔

کانگریس کے ایک سینیئر ترجمان آنند شرما نے نریندر مودی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس طرح کے بیانات دے کر سیاسی بحث کو اتنی نچلی سطح پر لے گئے ہیں جو وزیر اعظم کے عہدے کو بھی بے توقیر کرنے کے مترادف ہے۔

انھوں نے کہا کہ مودی کو گجرات میں بی جے پی کی واضح شکست نظر آ رہی ہے جس سے مایوس ہو کر وہ بقول ان کے ’گندی زبان استعمال کر رہے ہیں اور جذبات بھڑکا رہے ہیں۔‘

کانگریس کے ترجمان نے مودی کے بیان کو لغو قرار دیتے ہوئے کہا کہ مودی کا تعلق ایک ایسی جماعت سے ہے جس کا انڈیا کی آزادی میں کوئی کردار نہیں ہے جبکہ کانگریس کی آزادی کی تحریک میں لمبی جدوجہد ہے۔

خود سابق وزیراعظم من موہن سنگھ نے بھی مسٹر مودی کے نام ایک خط تحریر کیا ہے جس میں کہا ہے کہ انہیں (نریندر مودی کو) گجرات میں شکست کا سامنا ہے اس لیے وہ جھوٹ کا سہارا لے رہے ہیں۔ اور یہ کہ وہ سابق وزیر اعظم اور آرمی چیف، ہر آئینی عہدے پر حملہ کرکے ایک خِطرناک مثال قائم کر رہے ہیں۔

مسٹر سنگھ نے کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ وزیر اعظم متانت کا مظاہرہ کرتے ہوئے قوم سے معافی مانگیں گےتاکہ اس عہدے کا وقار بحال کیا جاسکے جس پر وہ فائز ہیں۔

قبل ازیں انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے گجرات میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ پاکستان انڈیا کی مغربی ریاست گجرات میں جاری اسمبلی انتخابات کے نتائج پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہا ہے اور اس کوشش میں کانگریس پارٹی اس کے ساتھ ہے۔

نریندر مودی گجرات کے سابق وزیر اعلیٰ ہیں جہاں ان کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) 22 سال سے اقتدار میں ہے، لیکن اس مرتبہ اسے کانگریس سے سخت مقابلے کا سامنا ہے۔ کانگریس کی انتخابی مہم پارٹی کے نائب صدر راہل گاندھی نے سنبھال رکھی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

چوبیس سالہ جوان مودی کے لیے ’دردِ سر‘

’یا اللہ گجرات جتا دے‘

انڈین وزیر اعظم نے گذشتہ دو دنوں میں بار بار پاکستان کا ذکر کیا ہے۔ ان کا الزام ہے کہ دلّی میں مامور پاکستانی سفارتکاروں اور پاکستان کے سابق وزیرخارجہ خورشید محمود قصوری نے کانگریس کے (اب معطل) رہنما منی شنکر ایّر کے گھر پر سابق وزیراعظم من موہن سنگھ اور سابق نائب صدر حامد انصاری سے 'خفیہ' ملاقات کی تھی جس کا مقصد گجرات میں بی جے پی کو ہرانا تھا۔

وہ بظاہر ایک ٹی وی چینل کے ذریعہ نشر کی جانے والی ایک خبر کا ذکر کر رہے تھے۔

پاکستان نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اسے انڈیا کی داخلی سیاست میں نہ گھسیٹا جائے۔

ٹوئٹر پر پاکستان کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کیے جانے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ 'انتخابات اپنی طاقت کی بنیاد پر جیتے جائیں، فرضی اور بالکل بے بنیاد سازشوں کے سہارے نہیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/GETTY IMAGES
Image caption یہ انتخاب وزیر اعظم نریندر مودی کی ساکھ کے لیے انتہائی اہم ہے

کانگریس پارٹی نے نریندر مودی سے کہا ہے کہ اگر یہ الزام سچ ہے کہ پاکستانی سفارتکار داخلی سیاست میں مداخلت کر رہے ہیں تو دلی میں پاکستان کے ہائی کمشنر سہیل محمود کو واپس بھیج دیا جانا چاہیے۔

وزیر اعظم کا الزام ہے کہ اس مبینہ ملاقات کے بعد ہی منی شنکر ایّر نے انھیں 'نیچ' قرار دیا تھا۔ مسٹر ائر کے اس بیان نے ایک بڑے سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر لی ہے اور نریندر مودی نے بار بار اپنی انتخابی تقریروں میں اسے گجرات کے دلت عوام کی توہین سے تعبیر کیا ہے۔

اس بیان کے بعد گانگریس نے مسٹر ایّر کو پارٹی کی رکنیت سے معطل کر دیا تھا۔

وزیر اعظم کا یہ بھی الزام ہے کہ پاکستان کے ایک اعلی سابق فوجی افسر چاہتے ہیں کہ سونیا گاندھی کے سیاسی مشیر احمد پٹیل گجرات کے نئے وزیر اعلیٰ بنیں۔

ان کے مطابق پاکستانی فوج کے سابق افسر نے یہ بات ایک فیس بک پوسٹ میں کہی ہے۔ ان کے مطابق 'کیا یہ سب واقعات شبہات پیدا نہیں کرتے؟۔۔۔کانگریس کو جواب دینا چاہیے۔'

کانگریس نے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ 'جس طرح نریندر مودی افواہوں اور جھوٹ پر انحصار کر رہے ہیں، کیا وہ وزیر اعظم کے عہدے کے مطابق ہے؟'

اخبار انڈین ایکسپریس کے مطابق مسٹر مودی نے جس خفیہ ملاقات کا ذکر کیا ہے وہ در اصل ایک ڈنر پارٹی تھی جس میں انڈین فوج کے سابق سربراہ جنرل دیپک کپور بھی شریک تھے۔

اس ڈنر میں شریک ہونے والے مہمانوں نے اخبار کو بتایا ہے کہ مسٹر ایّر نے بنیادی طور پر ان لوگوں کو مدعو کیا تھا جو پاکستان میں سفارتکاری کے فرائض انجام دے چکے ہیں، اور کھانے سے پہلے انڈیا اور پاکستان کے رشتوں پر بات چیت ہوئی تھی۔

اس موقع پر سابق خارجہ سیکریٹری کے نٹور سنگھ اور سابق خارجہ سیکریٹری سلمان حیدر بھی شامل تھے۔ اخبار کے مطابق ڈنر میں سابق نائب صدر حامد انصاری اور سابق وزیر اعظم من موہن سنگھ بھی شریک ہوئے تھے۔

جنرل دیپک کپور نے اخبار کو 'آن ریکارڈ' بتایا کہ 'ہاں میں اس میٹنگ میں موجود تھا اور ہم نے انڈیا اور پاکستان کے رشتوں کے علاوہ کسی بارے میں کوئی بات نہیں کی تھی۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/GETTY IMAGES
Image caption منی شنکر ایّر کو وزیر اعظم کو 'نیچ' کہنے کے بیان کے لیے پارٹی سے نکال دیا گيا ہے

گجرات کے انتخابات وزیر اعظم کے لیے انتہائی اہم ہیں کیونکہ اگر بی جے پی وہاں ہار جاتی ہے تو 2019 کے پارلیمانی انتخابات سے پہلے ان کی پوزیشن کافی کمزور ہو جائے گی۔

انتخابی مہم کے دوران اب تک بحث کا معیار کافی خراب رہا ہے اور عام تاثر یہ ہے کہ بی جے پی کی جانب سے پاکستان، پاکستانی فوج اور کانگریس کو ایک ہی پلیٹ فارم پر کھڑا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

لیکن راہل گاندھی کا کہنا ہے کہ وہ اور ان کی پارٹی وزیر اعظم کے عہدے کے خلاف نازیبا زبان استعمال نہیں کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ 'یہ گاندھی کی پارٹی ہے، گاندھی نے دشمن کو پیار سے ہٹایا، گجرات میں ہم آپکو پیار سے ہٹانے جارہے ہیں۔'

انتخابات کے نتائج کا اعلان 18 دسمبر کو کیا جائے گا۔

اسی بارے میں