انڈیا کی ریاست ہریانہ میں لڑکی کو گھر سے اٹھا کر ریپ اور قتل کر دیا گیا

تصویر کے کاپی رائٹ Manoj Dhaka
Image caption ابتدائی طور پر خاندان نے قاتلوں کی گرفتاری تک اس کی آخری رسومات ادا کرنے سے انکار کردیا تھا

انڈیا کی ریاست ہریانہ میں پولیس ایک چھ سالہ بچی کے ریپ اور قتل میں ملوث ہونے کے شبہے میں کئی افراد سے تفتیش کر رہی ہے۔

اس بچی کی لاش اتوار کو اس کے گھر کے قریب سے برآمد ہوئی جہاں سے مبینہ طور پر اسے آٹھ دسمبر کی رات اغوا کیا گیا تھا۔ بچی کے جسم پر شدید زخموں کے بھی نشان ہیں ۔ کئی افراد اس کا موازنہ 2012 میں دہلی میں ہونے والے بس ریپ واقعے سے کررہے ہیں جس نے پورے ملک کو دہلا کے رکھ دیا تھا اور اس واقعے پر بڑے پیمانے پر غم و غصہ دیکھا گیا تھا۔

اس بچی کی ماں نے بی بی سی ہندی کے منوج ڈھاکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انھیں انصاف چاہیئے۔ انھوں نے کہا کہ' 24 گھنٹے ہوگئے ہیں اور ابھی تک پولیس نے کسی کو نہیں پکڑا۔'

پولیس نے تفتیش کے لیے ان کے شوہر کے تین رشتے داروں کو زیرِ حراست لیا ہے لیکن اب تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی اور نہ ہی کوئی تفصیلات جاری کی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

’ریپ کرنے والے کو اتنا مارو کہ کھال اتر جائِے‘

انڈیا: گینگ ریپ کی شکایت پر پولیس کے غیرمہذب سوال

انڈیا میں ریپ کے بڑھتے واقعات

ضلعی سطح کےسیاسی رہنماؤں اور سرگرم کارکنوں سمیت مقامی افراد نے اس گاؤں میں جمع ہو کر واقعے کےخلاف احتجاج کیا ہے۔ اس واقعے کے ذمہ داروں کی گرفتاری کے لیے عوامی دباؤ بڑھنے کے بعد حکومت نے ایک خصوصی تفتیشی ٹیم بھی تشکیل دے دی ہے۔

بچی کے خاندان نے وفاقی پولیس کی جانب سے تحقیقات کا مطالبہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انھیں مقامی پولیس پر بھروسہ نہیں ہے۔

مقتول بچی کے والد ردی کاغذ چنتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جس رات ان کی بیٹی اغوا ہوئی وہ کام پہ گھر سے باہر تھے۔ اگلی صبح جب ان کی بیوی جاگیں تو انھیں احساس ہوا کہ ان کی بیٹیوں میں سے ایک غائب ہے۔

اس جوڑے کے تین اور بچے ہیں جن میں دو بیٹے اور ایک بیٹی شامل ہیں۔ یہ خاندان ہریانہ ٹاؤن میں ایک پلاٹ پہ دیگر چار خاندانوں کے ساتھ رہتا ہے۔ پولیس کو شک ہے کہ اس بچی کو ریپ اور قتل کرنے والے افراد کسی قریبی کچی آبادی سے ہو سکتے ہیں۔

ابتدائی طور پر خاندان نے قاتلوں کی گرفتاری تک اس کی آخری رسومات ادا کرنے سے انکار کردیا تھا لیکن پولیس کی جانب سے جلد از جلد گرفتاری کی یقین دہانی کے بعد اس بچی کی آخری رسومات ادا کر دی گئیں۔

انھوں نے ذمہ داران کی گرفتاری کےلیے پولیس کو بدھ کی صبح 11 بجے تک کا وقت دیا ہے اور ایسا نہ ہونے کی صورت میں مزید احتجاج کی دھمکی دی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Manoj Dhaka
Image caption گرفتاری کے لیے عوامی دباؤ بڑھنے کے بعد حکومت نے ایک خصوصی تفتیشی ٹیم تشکیل دے دی ہے

ادھر انڈیا کی ریاست اتر پردیش میں بھی ایک اور واقعہ پیش آیا ہے جس میں ایک نو عمر کینسر کی مریضہ کا مبینہ طور پر گینگ ریپ کیا گیا ہے تاہم اس میں ملوث ہونے کے شبہے میں ایک شخص کو گرفتار کیا گیا ہے۔

اس لڑکی نے الزام لگایا ہے کہ دو افراد نے اسے اغوا کرکے ریپ کیا اور جب وہ مدد کے لیے پڑوسی کے پاس پہنچی تو اس نے بھی اس کا ریپ کیا۔

اسی بارے میں