’کروڑ پتیوں کے گاؤں جن پر شہر بھی رشک کریں‘

Image caption چوڑی چوڑی سڑکیں اور بڑے بڑے خوبصورت مکانات اس کی خوشحالی کا پتہ دیتے ہیں

جنوبی ایشیا میں گاؤں عموماً کچی سڑکوں، کچے مکانات اور پسماندگی کے لیے جانے جاتے ہیں لیکن انڈیا کی ریاست گجرات میں متعدد ایسے گاؤں ہیں جنہیں کروڑپتیوں کے گاؤں کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔

یہ گاؤں انتہائی خوشحال اور شہروں سے بہتر ہیں۔ ان گاؤں کے باشندوں نے اربوں روپے بینکوں میں جمع کر رکھے ہیں۔

کچھ خطے میں واقعہ بلدیا گاؤں کو گجرات کا امیر ترین گاؤں تصور کیا جاتا ہے۔ چوڑی چوڑی سڑکیں اور بڑے بڑے خوبصورت مکانات اس کی خوشحالی کا پتہ دیتے ہیں۔ اس گاؤں کی خوبصورتی اور خوشحالی یوروپی گاؤں کا بھرم پیدا کرتی ہے۔

مقامی صحافی گوند کیرائی بتاتے ہیں 'یہاں کے نو بینکوں کا دو سال کا ڈیٹا اگردیکھیں تو ان مین ڈیڑھ ہزار کروڑ روپے چمع ہیں۔ ڈاکخانوں میں بھی میں بھی پانچ سو کروڑ روپے سے زیادہ لوگوں نے جمع کر رکھے ہیں۔‘

گاؤں کے اکثر مکانوں پر تالے پڑے ہوئے ہیں۔ گاؤں کے دیو جی وجوڑیا نے بتایا کہ یہاں کے بیشتر باشندے دیگر ممالک میں مقیم ہیں 'میں کینیا کا ہوں سامنے جو دو لوگ بیٹھے ہوئے ہیں وہ برطانیہ کے ہیں۔ ہم لوگوں کا گھر وہاں بھی ہے اور یہاں بھی۔ ہم لوگ سال میں دو تین مہینہ یہاں آ کر رہتے ہیں۔ ہمارے بچے غیر ممالک میں مقیم ہیں۔‘

Image caption مقامی صحافی گوند کیرائی بتاتے ہیں 'یہاں کے نو بینکوں کا دو سال کا ڈیٹا اگردیکھیں تو ان مین ڈیڑھ ہزار کروڑ روپے چمع ہیں

بھوج شہر کے اطراف میں ایسے درجنوں گاؤں ہیں جنہیں کروڑ پتیوں کا گاؤں کہا جاتا ہے۔ بلدیا سے ہی کچھ دوری پر واقع مادھاپور گاؤں بھی اپنی خوشحالی کے لیے دور دور تک جانا جاتا ہے۔

اس گاؤں میں بینکوں کی نو شاخیں ہیں اور درجنوں اے ٹی ایم لگے ہوئے ہیں۔ ایک مقامی کسان کھیم جی جادو نے بتایا کہ یہاں کے بیشتر باشندے کروڑ پتی ہیں ’یہاں سب دھنوان ہیں، کروڑ پتی ہیں۔ لوگ باہر کماتے ہیں اور یہاں پیسہ لاتے ہیں۔‘

ان گاؤں کے باشندے عموماً پٹیل برادری کے ہیں۔ بلدیا گاؤں کے ایک تعمیراتی کمپنی کے مالک جادوجی گریسیا کا خاندان بھی پہلے بیرونِ ملک تھا۔ وہ بتاتے ہیں کہ یہاں کا آبائی پیشہ زراعت ہے۔

یہاں کے لوگ کئی ملکوں میں پھیلے ہوئے ہیں 'اس گاؤں کے لوگ افریقہ، خاص طور سے نیروبی میں زیادہ ہیں۔ کچھ برطانیہ میں آباد ہیں۔ بہت سے لوگ سیشیلز میں بھی ہیں اب آسٹریلیا بھی جا رہے ہیں۔‘

لوگوں نے برسوں تک بیرونِ ملک محنت کرنے کے بعد دولت کمائی اور کامیابی حاصل کی۔ مادھا پور کی مکھیا پرمیلا بین ارجن پوڑیا کہتی ہیں کہ لوگوں نے گاؤں سے اپنا رشتہ قائم رکھا ہے ’لوگ فیملی کے ساتھ جاتے ہیں، وہاں دھن دولت کماتے ہیں۔ لیکن آخر میں وہ یہیں آکر رہتے ہیں۔‘

Image caption ان دیہاتوں میں نوجوان کم اور بزرگ زیادہ دکھائی دیتے ہیں

ان دیہاتوں میں نوجوان کم اور بزرگ زیادہ دکھائی دیتے ہیں۔ ایک طالبہ پرینکا نے بتایا کہ بیشتر نوجوان دوسرے ممالک میں ہی مقیم ہیں۔ ’ماں باپ یہاں آجاتے ہیں۔ لیکن اب یہاں بھی ہر طرح کی سہولیات ہیں، پہاں بھی پیسہ آ گیا ہے۔ اس لیے نوجوان اب یہاں بھی رہنے لگے ہیں اور کاروبار اور بزنس میں آگے آ رہے ہیں۔‘

تقریباً سو سال پہلے یہاں کے لوگوں نے تجارت اور ایک بہتر زندگی کی تلاش میں بیرونِ ملک جانا شروع کیا ۔ وہاں سے وہ ایک بہتر سوچ اور دولت کے ساتھ واپس آئے جسے انھوں نے مزید آگے بڑھایا۔

یہ خوشحالی صرف انہیں گاؤں تک محدود نہیں ہے ۔ یہاں سے تقریباً بیس کلو میٹر دور بھوج شہر واقع ہے، جسے انڈیا کا سب سے خوشحال شہر تصور کیا جاتا ہے۔

اسی بارے میں