کرینہ کپور کا اپنے بیٹے تیمور کو پہلی سالگرہ پر جنگل کا تحفہ

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشن

کرینہ کپور اور سیف علی خان

20 دسمبر کو چھوٹے نواب تیمور علی خان ایک برس کے ہو گئے اور ان کی سالگرہ ان کے والد اور بالی وڈ اداکار سیف علی خان کے آبائی گھر پٹودی ہاؤس میں منائی گئی۔ اس موقع پر کرینہ کپور اور سیف علی خان کے خاندانوں کے قریبی افراد موجود تھے۔

تیمور کو ان کے والد سیف علی خان نے تحفے میں ایک جیپ دی ہے۔ دوسری جانب ماں کرینہ کپور ان سے ایک قدم آگے نکل گئیں۔ کرینہ کا تحفہ بے حد مختلف تھا۔ انھوں نے تیمور کو پہلی سالگرہ کے موقعے پر اپنی ڈائٹیشن یا غذائی ماہر کی مدد سے ایک جنگل تحفے میں دیا ہے۔

ممبئی سے 50 کلو میٹر دور واقع اس جنگل کو خاص طور پر تیمور کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ یہ جنگل ایک ہزار مربع فٹ کے علاقے پر پھیلا ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

اس جنگل کے بارے میں مزید تفصیلات کرینہ کی ڈائٹیشن روجوتا دیویکر کے انسٹاگرام پوسٹ کے ذریعے معلوم ہوئیں۔

Instagram پوسٹ نظرانداز کریں, 1

A little forest for Taimur A little boy can never have enough of birds, bees and butterflies and so we have put together a small forest as a birthday gift for the little big boy, Taimur, in Sonave. It’s a special forest, one that thrives on intercropping and i hope that as he grows he too will thrive in and celebrate a diverse society. A society where people live together through and due to their distinctions. The forest has about 100 trees on a 1000 sq ft plot. The trees are as young as Taimur, even younger actually, and each one of them is a local, native, climate resilient specie. It will be a forest of the super foods of the future. There are 3 jamuns, 1 jackfruit, 1 amla, 40 Bananas, 14 Moringas, 1 Kokum, 1 Papaya, 5 Seetaphal, 2 Ramphals, 2 Nimbu trees. Besides these it grows 3 different types of native pulses and many Mirchi, Ginger, Turmeric and kari patta plants. Not to mention the green leafy veggies and the genda phools that grow in between. The forest is inspired by Padma Shri Subhash Palekar’s zero budget natural farming where one tree grows symbiotically off another and thus is thrifty on one’s pocket. The forest will become a home for pollinating agents like the butterflies, bees, birds and earthworms. It will help nurture the soil, fix back the nitrogen and minerals in the soil that it grows on, preserve the water table and look elegant and beautiful while doing it all. Here’s to living sustainably! Happy Birthday. #taimuralikhan

A post shared by Rujuta Diwekar (@rujuta.diwekar) on

Instagram پوسٹ کا اختتام, 1

اس پوسٹ میں انھوں نے لکھا ہے کہ یہ ایک خاص جنگل ہے، جس میں کئی طرح کی چیزوں کی پیداوار ایک ساتھ ہوگی۔

انھوں نے لکھا ہے 'مجھے امید ہے کہ تیمور بھی بڑا ہو کر معاشرے میں موجودہ فرق کو دل سے قبول کرے گا۔ ایک ایسا معاشرہ جس میں رہنے والے افراد ایک دوسرے سے مختلف ہونے کے باوجود ایک ساتھ رہتے ہیں۔

’ایک ہزار مربع فٹ علاقے کے اس جنگل میں تقریباً 100 درخت ہیں۔ ان درختوں کے پودوں کی عمر بھی تیمور جتنی ہی ہے۔ کچھ کی عمر ان سے بھی کم ہے۔ ہر پودے کا تعلق اس علاقے سے ہے اور یہاں کے ماحول کے مطابق ہے‘۔

ان کا مزید کہنا ہے ’مستقبل میں یہ سُپر فوڈز کا جنگل ہوگا۔ جنگل میں جامن کےتین،کٹھل، آملہ، پپیتہ اور کوکم کا ایک، ایک، کیلے کے چالیس مورنگا کے چودہ اور لیموں کے دو درخت ہیں۔ ان کے علاوہ تین طرح کی دالیں، کئی قسموں کی مرچیں، ادرک، ہلدی اور کڑی پتے کے پودے بھی ہیں۔ جنگل میں ہری سبزیوں کی کاشتکاری کے لیے بھی جگہ بنائی گئی ہے۔ درمیان میں گیندے کے پھولوں کے پودے لگائے گئے ہیں‘۔

وہ بتاتی ہیں کہ اس جنگل کو انڈیا میں پدما شری ایوارڈ حاصل کرنے والے مرحوم سبھاش پالیکر کے زیرو بجٹ کاشتکاری کے منصوبے کے تحت تیار کیا گیا ہے۔

روجوتا نے اپنی پوسٹ میں لکھا ہے کہ یہ جنگل متعدد تتلیوں، چڑیوں، شہد کی مکھیوں اور چھوٹے موٹے جانوروں کا گھر بھی ہوگا۔