یروشلم پر انڈیا نے اسرائیل کا ساتھ کیوں نہیں دیا؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

جس دن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کیا اسی دن سے دنیا بھر میں اس فیصلے کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا آغاز ہو گیا۔

جمعرات کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اس امریکی فیصلے کے خلاف ایک قرارداد کثرتِ رائے سے منظور کی گئی۔

اقوام متحدہ کی اس قرارداد کے حق میں 128 ممالک نے ووٹ دیا جبکہ 35 ممالک نے اس رائے شماری میں حصہ نہیں لیا، نو ممالک نے اس کی مخالفت کی۔

اعلانِ یروشلم اور اقوام متحدہ کی قرارداد کے بارے میں مزید پڑھیے

’امریکہ کو یروشلم کا فیصلہ کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں‘

یروشلم دنیا کا سب سے متنازع شہر کیوں؟

یروشلم: سات ہزار برسوں کی خون آلود تاریخ

تاہم اس رائے شماری سے قبل انڈیا کی حکمراں جماعت بی جے پی کے قائدین نے وزیراعظم نریندر مودی سے اس معاملے پر اسرائیل کا ساتھ دینے کی درحواست کی تھی۔

بی جے پی کے رہنما سواپناداس گپتا نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے قبل ٹویٹ میں کہا تھا کہ ’یا تو انڈیا اس اجلاس میں حاضر ہی نہ ہو اور یا پھر امریکی سفارتخانے کو یروشلم منتقل کرنے کے فیصلے کو واپس لینے کے لیے پیس کی جانے والی اس قرارداد کی مخالفت کرے۔ ہمیں اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے، وہ ہمارا دوست ہے۔‘

تاہم ایسا نہ ہوا اور انڈیا بھی انھیں ممالک میں شامل رہا جنھوں نے اس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا، جس کا مطلب یہ ہوا کہ انڈیا امریکہ اور اسرائیل کے خلاف گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اس حوالے سے بعض دھڑوں میں مایوسی بھی پائی جاتی ہے۔ بی جے پی کے دوسرے سینیئر رہنما سبرامنیم سوامی کا کہنا ہے کہ ’انڈیا نے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ووٹ نہ دے کر بڑی غلطی کی ہے۔‘

لیکن آخر انڈیا نے ایسا کیوں کیا؟ جبکہ حالیہ دنوں میں اس کے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات میں بہتری آئی ہے لیکن اس کے باوجود وہ فلسطین کے ساتھ کیوں گیا؟

ماہرین کی نگاہ میں اس کی مختلف وجوہات ہیں۔

انٹرنیشنل افیئرز کے ماہر پروفیسر کمال پاشا نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اس معاملے پر اکثریت ایک جگہ تھی، او آئی سی کا جلاس استنبول میں ہوا، کوئی بھی اس کے حق میں نہیں تھا۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’اس لیے انڈیا بین الاقوامی برادری کے ساتھ رہا۔ جسے بہتی لہروں کے سے تیرنا کہتے ہیں۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ ہتھیاروں کے حوالے سے انڈیا کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات مضبوط ہو رہے ہیں لیکن جس طرح سے وہ سب کچھ طے کر رہا ہے اس کو لے کر حالیہ دنوں کچھ تناؤ رہا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

کمال پاشا کا کہنا تھا کہ ’یروشلم کے معاملے پر مسلم ممالک جن میں سعودی عرب اور قطر شامل ہیں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے، اور انڈیا کے ان ممالک میں مفادات ہیں۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں انڈیا نے اس بات کا اشارہ کیا ہے کہ اس کے دو طرفہ تعلقات الگ ہیں اور بین الاقوامی حالات پر الگ ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے امریکی فیصلے کے حوالے سے انڈیا نے مسلم دنیا اور یورپی طاقتوں کے ساتھ کھڑے کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا۔

’بہت سال پہلے انڈیا کے فلسطین کے ساتھ تعلقات بہت اچھے تھے، اسی لیے انڈیا جنرل اسمبلی میں اسرائیل کے خلاف گیا،دیکھیں یاسر عرفات اب واپس نہیں آنے والا، ماحول اب تبدیل ہو چکا ہے اور آپ کو یہ سب متوازن رکھنا ہوگا۔‘

جن نو ممالک نے اس قرارداد کے خلاف ووٹ دیا ہے ان میں امریکہ، اسرائیل، گوئٹیمالا، ہونڈیورس، دی مارشل آئسلینڈز، مائیکرونیشیا، نورو، پلاؤ اور ٹوگو شامل ہیں۔

امریکہ میں یونیورسٹی آف ڈیلاویر کے پروفیسر مقتدر خان کے مطابق ’انڈیا زیادہ تر بائے دی بک چلتا ہے، اور کشمیر کے معاملے کی وجہ سے اس کے لیے یہ انتہائی اہم ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے انٹرنیشنل قوانین کے مطابق چلے۔‘

انڈیا کے لیے اس قرارداد کی حمایت کرنا نئی بات نہیں ہے کیونکہ وہ گذشتہ 50 سالوں میں کئی مرتبہ اس کی حمایت کر چکا ہے۔

اسی بارے میں