انڈیا کا یروشلم کارڈ

اسرائیل مخالف مظاہرہ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انڈیا روایتی طور پر فلسطین کا حامی رہا ہے لیکن حالیہ دنوں میں اس کی ترجیحات میں تبدیلیاں آئی ہیں

انڈیا کی حکومت نے گذشتہ دنوں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں یروشلم کے سوال پر پیش کی گئی قرارداد کے حق میں ووٹ دیا۔ اس قرارداد میں یروشلم کو امریکہ کی جانب سے یکطرفہ طور پر اسرائیل کا دارلحکومت قرار دینے کے فیصلے پر تنقید کی گئی ہے۔

اس قرارداد میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ یروشلم سے متقلق اقوام متحدہ کی منظور شدہ قرارداد کے مطابق متنازع شہر کی موجودہ پوزیشن برقرار رکھی جائے۔

اقوام متحدہ میں اس قرار داد کے حق میں 128 ووٹ پڑے جبکہ اس کی مخالفت میں اسرائیل اور امریکہ سمیت صرف چھ ملکوں نے ووٹ دیا۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال میں یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دیا تھا۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں امریکہ کے فیصلے کی مخالفت میں ایک قرارداد پیش کی گئی تھی جس میں سلامتی کونسل کے چار مستقل ارکان فرانس، برطانیہ، چین اور روس نے امریکہ کے فیصلے کی مخالفت کی لیکن امریکہ نے اس قرارداد کو ویٹو کر دیا۔

امریکہ نے نے متنبہ کیا تھا کہ جو ملک جنرل اسمبلی کی قرار داد کے حق میں ووٹ دیں گے وہ اس کے نتائج بھگتنے کے لیے تیار رہیں۔ اس کے باوجود 128 ملکوں نے اس کے حق میں ووٹ دیا ان میں مصر، پاکستان اور افغانستان جیسے ممالک بھی شامل تھے جنھیں امریکہ سے امداد ملتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انڈیا اسرائيل سے ایک عرصے سے دفاعی ساز و سامان خریدتا رہا ہے۔

انڈیا امریکہ کی امداد لینے والے ملکوں میں شامل نہیں ہے۔ حالیہ برسوں میں انڈیا کے تعلقات اسرائیل سے بہت گہرے ہوئے ہیں۔ جولائی میں وزیر اعظم نریندر مودی نے جب اسرائیل کا دورہ کیا تھا اس وقت انھوں نے ملک کی سفارتی روایت سے انحراف کرتے ہوئے فلسطین کا دورہ نہیں کیا تھا۔ ان کے اس قدم سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا حکومت کی پالیسی اب اسرائیل کی طرف جھک رہی ہے۔

اسرائیل کے وزیر اعظم بن یامن نتن یاہو آئندہ مہینے انڈیا کا دورہ کرنے والے ہیں۔ انڈیا کے بارے میں یہ تشویش بڑھ رہی تھی کہ وہ امریکہ کے ساتھ ساتھ اسرائیل سے بھی کافی قریب آ رہا ہے۔ اس مہینے کے اوائل میں دلی میں واقع عرب سفارتخانوں کے سفیروں نے وزیر مملکت برائے خارجی امور ایم جے اکبر سے ملاقات کی تھی اور ان سے یہ درخواست کی تھی کہ انڈیا ماضی کی اپنی روایات کے مطابق اقوام متحدہ میں فلسطینیوں کی حمایت جاری رکھے۔

یہاں دائیں بازو کے بڑھتے ہوئے رحجانات اور سیاست کے پیش نظر بہت سے مبصرین یہ توقع کر رہے تھے کہ انڈیا یروشلم کے سوال پر امریکہ کے حق میں ووٹ دے گا لیکن اس نے اصولی موقف اختیار کیا اور امریکہ کے خلاف ووٹ دیا۔ حکومت کے اس فیصلے کی ستائش بھی کی گئی ہے۔ انڈیا نے جنرل اسمبلی میں امریکہ کے خلاف ووٹ دے کر یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ اس کی خارجہ پالیسی کسی کے دباؤ میں نہیں آتی اور وہ آزاد ہے۔

انڈیا کے لاکھوں شہری سعودی عرب، کویت، اردن، متحدہ عرب امارات، عمان اور دوسرے خلیجی ملکوں میں کام کر رہے ہیں۔ ان ملکوں سے یہ انڈین شہری ہر برس 40 ارب ڈالر سے زیادہ کی رقم ملک بھیجتے ہیں۔ انڈیا کی غیر ملکی کرنسی حاصل کرنے کا یہ انتہائی اہم اور ٹھوس ذریعہ ہے۔ حالیہ برسوں میں متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور دوسرے عرب ملکوں نے انڈیا میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے اور وہ رفتہ رفتہ سب سے بڑے تجارتی پارٹنر بن کر ابھر رہے ہیں۔ اس خطے سے انڈیا کا اقتصادی مفاد گہرا ہوتا جا رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انڈیا سمیت دنیا بھر میں امریکی فیصلے کے بعد مظاہرے ہوئے ہیں

دوسری جانب دفاعی سازو سامان، آبپاشی اور زرعی سیکٹر میں اسرائیل ایک قریبی اور قابل اعتبار دوست بن کر ابھر رہا ہے۔ انڈیا کی حکومت نے واضح کیا ہے کہ وہ اسرائیل فلسطین تنازع کا ایک پرامن حل چاہتا ہے اور اس کے حل میں وہ دو مملکت کے قیام کے اصول میں یقین رکھتا ہے۔ جنرل اسمبلی میں امریکہ اور اسرائیل کے خلاف جا کر انڈیا نے یہ بتانے کی کوشش کی ہے دونوں ملکوں کے تعلقات کا اس تنازعے سے کوئی تعلق نہیں ہے اور وہ اصولی موقف پر قائم ہے۔

بعض مبصرین کا یہ بھی خیال ہے کہ انڈیا نے امریکہ کے خلاف ووٹ دے کر اسے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ اپنے تمام انڈیا نواز بیانوں اور تعلقات کے باوجود امریکہ پاکستان کا حمایتی ہے اور ‎دہشت گردی جیسے سوالات پر وہ پاکستان پر مطلوبہ دباؤ نہیں ڈال رہا ہے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں انڈیا دنیا کے 128 ملکوں کے ساتھ اقوام متحدہ کی قرارداد کے حق میں ووٹ دے کر اپنے اصولی موقف پر قائم رہا۔ امریکہ اور اسرائیل ہی نہیں انڈیا میں بھی یہ توقع کی جارہی تھی کہ امریکہ کے صدر کی طرح وزیر اعظم نریندر مودی اسرائیل کی حمایت میں ایک فیصلہ کن پوزیشن لیں گے۔ لیکن اس کے برعکس حکومت نے جو پوزیشن اختیار کی ہے اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ انڈیا کی مستقبل کی پالیسی کسی ملک کے دباؤ یا تقلقات کی نوعیت سے نہیں بلکہ اس کے اپنے سفارتی اور اقتصادی مفاد سے طے ہوگی۔

اسی بارے میں