سال کا آخری تہوار

کرسمس تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کرسمس دنیا بھر میں بڑے جوش و خروش سے منایا جاتا ہے

کبھی آپ نے غور کیا ہے کہ کرسمس ایک تہوار کے طور پر کیسے وجود میں آیا۔ آج دنیا بھر میں کرسمس بڑے جوش و خروش سے منایا جاتا ہے۔

لیکن مسیحی مذہب کے ابتدائی تین سو سالوں میں کرسمس کا کوئی وجود نہیں تھا۔ سنہ 239 عیسوی میں روم کے بادشاہ کونسٹینٹائن نے پہلی مرتبہ 25 دسمبر کو ایک تہوار کی شکل دی۔ وہ روم کا پہلا مسیحی حکمراں تھے۔ کچھ عرصے بعد پوپ جولیس اول نے 25 دسمبر کو رسمی طور پر عیسیٰ مسیح کا روز تولد قرار دیا۔

ابتدا میں یہ صرف سنجیدہ مذہبی تہوار تھا جس میں حضرت عیسیٰ مسیح کی قربانیوں کا ذکر ہوتا تھا اور ان کے دنیا میں آنے کی خوشیاں منائی جاتی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption فادر کرسمس یا سینٹا کلاز کرسمس کے تہوار کا ایسا فرد ہے جو بچوں کے لیے تحفے لے کر نمودار ہوتا رہتا ہے

رفتہ رفتہ اس میں بہت سی رسومات شامل ہوتی گئیں اور نسل و نژاد کی قید سے آزاد یہ ایک اجتماعی تہوار بن گیا۔ تحفے تحائف کا سلسلہ شروع ہوا۔ سینٹ نکولس ’فادر کرسمس‘ بن گئے۔

سینٹ نکولس سنہ 280 میں ترکی کے شہر پٹارا کے ایک امیر گھر میں پیدا ہوئے۔ گاؤں کا ایک مفلوک الحال شخص اپنی تین بیٹیوں کی شادی کے لیے بہت پریشان تھا۔ شادی کے لیے روپے پیسے کی ضرورت تھی اور وہ تہی دست تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کرسمس کے کھانوں میں کیک دنیا بھر میں قدر مشترک ہے

سینٹ نکولس رات کے اندھیرے میں اس کے گھر کی چمنی سے چھوٹے چھوٹے تحفے بھیجا کرتے تھے جو چمنی سے ملحق موزوں میں چلے جاتے تھے۔ یہ غیبی تحفے اس غریب شخص کا سہارا بنے اور یوں موزوں میں چھپے تحائف کا سلسلہ شروع ہوا۔

13 ویں صدی میں حضرت عیسیٰ کی حمد و مناجات گائی جانے لگی۔ شاعروں نے مناجات لکھنا شروع کیا اور گیت کاروں نے اسے سروں میں باندھنا شروع کیا۔ یہ نغمے جنھیں انگریزی میں ’کیرول‘ کہا جاتا ہے 25 دسمبر کو کلیساؤں میں گائے جانے لگے اور جگہ جگہ بچوں اور بڑوں کی ٹولیاں سڑکوں پر کیرول گاتی ہوئی گزرنے لگیں۔

کرسمس ٹری کیسے وجود میں آیا؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کرسمس ٹری کو طرح طرح کے چاند ستاروں اور گھنٹیوں سے سجایا جاتا ہے

اس کے متعلق کوئی سند دستیاب نہیں ہے۔ حکایت ہے کہ 16 ویں صدی میں یہ جرمنی میں عام ہوا اور جب جرمنی کا رابطہ انگلینڈ سے ہوا تو یہ ہرا بھرا درخت کرسمس کے جشن کا حصہ بن گیا اور رفتہ رفتہ اسے تمام ممالک نے اپنا لیا۔

سنہ 1843 میں انگریزی کے معروف ادیب چارلس ڈکنز نے ’کرسمس کیرول‘ نامی ایک کتاب لکھی جو بہت مقبول ہوئی۔ بہرحال 25 دسمبر دنیا بھر میں ایک اہم تہوار کی شکل میں ظاہر ہوا۔

تہوار اپنے ساتھ خوشیاں تو لاتا ہے لیکن اس کے تجارتی فائدے بھی ہیں۔ بچوں کی کتابیں شائع ہوئیں۔ کرسمس کا درخت جگہ جگہ فروخت ہونے لگا۔ تحفے تحائف سے بازار بھر گئے۔ پھر کرسمس کارڈ وجود میں آئے۔ 19 ویں صدی کے نصف سے سماج کے اعلیٰ اور ثروتمند لوگ کرسمس کی مبارکباد والی چھوٹی چھوٹی نظمیں فریم کروا کر دوست احباب کو بھیجنے لگے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سینٹا کلاز کہیں بھی بچوں کے لیے تحفے لے کر پہنچ جاتے ہیں

سنہ 1862 میں چارلس گوڈال نامی کمپنی نے معمولی کاغذ پر کم قیمت کارڈ بنائے جو بے حد مقبول ہوئے۔ رفتہ رفتہ عمدہ کاغذ اور خوبصورت ڈیزائن کے کارڈ بننے اور فروخت ہونے لگے۔ ڈاکخانے میں مہینوں پہلے ایک علیحدہ شعبہ قائم ہو جاتا تھا جس کا کام صرف کرسمس کے کارڈ دوسرے ممالک بھجوانا تھا۔ بیسویں صدی کے اوائل میں بڑی تعداد میں کرسمس کارڈ بازاروں کی زینت بنے اور سنہ 1992 میں ڈیڑھ ارب سے زیادہ کارڈ ڈاک سے روانہ کیے گئے۔

کرسمس کے روایتی کھانوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ 24 دسمبر کی شام اگر کلیساؤں میں گزرتی تو 25 کی صبح دوستوں کی ضیافت میں۔ کرسمس کے ضیافتی روایتی کھانے دنیا کے مختلف علاقوں میں جداگانہ ہیں لیکن ایک چيز ہر ملک اور ہر جگہ یکساں ہے اور وہ کرسمس کیک ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کرسمس کے گیت مذہبی سے زیادہ روایت سے تعلق رکھتے ہیں

کیک انگلینڈ سے رواج میں آیا۔ ابتدائی دور میں لوگ 25 دسمبر کو آلو بخارے کا دلیہ کھایا کرتے تھے جس میں جلد ہی خشک میوے اور شہد کا اضافہ کر دیا گیا اور دلیے نے پڈنگ کی شکل لے لی۔

16 ویں صدی میں دلیے کی جگہ گیہوں کا آٹا استعمال میں آیا۔ انڈے مکھن اور شکر کا اضافہ ہوا اور پڈنگ کے بجائے پلم کیک وجود میں آیا جو بعد میں کرسمس کیک کے نام سے مشہور ہوا۔

آج بازار میں کرسمس کارڈ، کرسمس کیرول کی سی ڈیز اور کرسمس کیک سے رونق رہتی ہے اور یوں حضرت عیسیٰ مسیح کا جشن بڑے دھوم دھام سے منایا جاتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Hulton Archive/Getty
Image caption کرسمس کارڈ ایک عرصے تک بہت مقبول رہے لیکن اب فون اور انٹرنیٹ کی سہولت سے یہ کارڈ بازار میں کم ہو گئے ہیں

انڈیا میں یہ بڑے دن کا تہوار کہلایا اور انگریزوں کی آمد کے بعد یہ یہاں مروج ہوا اور آج تک منایا جاتا ہے۔ ہندوستان میں آباد اینگلو انڈین آبادی نے اس بڑے دن کے تہوار کو زندہ رکھا۔ یہاں کرسمس کی تیاریاں دو ہفتے پہلے شروع ہو جاتی ہیں اور گھر بر چاکلیٹ، بسکٹ اور کیک بنانے میں مصروف ہو جاتا ہے۔

بڑوں کی ضیافت ایک طرف اور بچوںکے کی پارٹی دوسری طرف بڑی بے تابی سے سانتا کلاز کا انتظار کرتی ہے جو تحفوں کے پٹاروں کے ساتھ کہیں سے اچانک نمودار ہوتا ہے اور ’میری کرسمس‘ یعنی کرسمس کی خوشیاں مبارک ہو اور آنے والا سال تمہاری خواہشات کو پورا کرے کہتا ہوا فادر کرسمس رخصت ہو جاتا ہے۔

آپ سب کو بھی مولود یسوع مسیح مبارک ہو۔

٭ سلمیٰ حسین کھانا پکانے کی شوقین، ماہر طباخ اورکھانوں کی تاریخ نویس ہیں۔ ان کی فارسی زباندانی نے عہد وسطی کے مغل کھانوں کی تاریخ کے اسرار و رموز ان پر کھولے۔ انھوں نے کئی کتابیں بھی لکھی ہیں اور بڑے ہوٹلوں کے ساتھ فوڈ کنسلٹنٹ کے طور پر بھی کام کرتی ہیں۔ سلمیٰ حسین ہمارے لیے مضامین کی ایک سیریز لکھ رہی ہیں۔

اسی بارے میں