اقتصادی راہداری کو افغانستان تک لے جانے کی خواہش

چین، پاکستان تصویر کے کاپی رائٹ EPA

چین کا کہنا ہے کہ وہ خطے میں امن کو فروغ دینے کے لیے اربوں ڈالر مالیت کے اقتصادی راہداری منصوبے کو افغانستان تک وسعت دینا چاہتا ہے۔

چین کے دارالحکومت بیجنگ میں ہونے والے پاکستان، افغانستان اور چین پر مشتمل پہلی سہ فریقی اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے چین کے وزیر خارجہ وینگ یی نے کہا کہ اقتصادی راہداری سے خطے میں ترقی ہو گی۔

انھوں نے کہا کہ افغان عوام کی زندگی بہتر کرنے کے لیے وہاں فوری ترقی کی ضرورت ہے اور امید ہے کہ وہ اس راہداری منصوبے کا حصہ بن جائے گا۔

یاد رہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کے تحت چین 57 ارب ڈالر مالیت کاشغر سے لے کر گوادر تک راہداری بنا رہا ہے۔

تینوں ملکوں پر مشتمل یہ سہ فریقی گروپ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات بہتر کرنے کے لیے چین کی جانب سے کی گئی ایک کوشش ہے۔

چین کے وزیر خارجہ نے بتایا کہ اس اجلاس کے بعد پاکستان اور افغانستان نے اپنے تعلقات بہتر بنانے پر اتفاق کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں!

’خراب تعلقات کے ذمہ دار پاکستان اور افغانستان دونوں ہیں‘

’پاکستان پر دباؤ ڈالنے کی امریکی صلاحیت محدود‘

واپس جانے والے افغان پناہ گزینوں کی مالی امداد میں کمی

وزرائے خارجہ پر مشتمل پہلے سہ فریقی اجلاس میں تینوں ممالک نے انسدادِ دہشت گردی، افغانستان میں قیامِ امن اور سکیورٹی کے معاملات میں تعاون کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

بیجنگ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ چین کے وزیر خارجہ نے کہا کہ ’چین اور پاکستان افغانستان کے ساتھ مل کر باہمی مفاد کے اصولوں پر عمل پیرا ہوتے اور مناسب طریقہ کار اختیار کرتے ہوئے چین پاکستان اقتصادی راہداری کو افغانستان تک توسیع دے گا اور یہ ایسے ہی ممکن ہو سکتا ہے جب تینوں ممالک پہلے چھوٹے منصوبوں پر باہمی اتفاقِ رائے پیدا کریں۔‘

تینوں ممالک نے افغانستان میں قیام امن کے لیے افغانستان کی حکومت کی قیادت میں ہونے والے مصالحتی عمل کی بھر پور حمایت کا اعلان کیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ مذاکرات کے ذریعے ہی افغانستان میں تشدد کو ختم کیا جا سکتا ہے۔ تینوں ممالک نے افغان طالبان پر زور دیا ہے کہ وہ جلد قیام امن کے لیے کی جانے والی کوششوں میں شامل ہوں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

دفتر خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ افغانستان، پاکستان اور چین باہمی تعلقات بہتر کرنے اور راہداری منصوبے کے ذریعے رابطے بڑھانے پر متفق ہیں۔

پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ آصف نے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ سی پیک کا منصوبہ رابطے اور تعاون بڑھانے کے لیے افغانستان، ایران، وسطی ایشا کے ممالک کے لیے ایک ماڈل ہے۔

یاد رہے کہ گذشتہ کچھ عرصے سے پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کشیدہ ہیں اور افغانستان کا الزام ہے کہ پاکستان طالبان شدت پسندوں کی مدد کرتا ہے جبکہ پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ افغانستان میں قیامِ امن کا خواہاں ہے۔

چین چاہتا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات بہتر تاکہ خطے میں دہشت گردی کا خاتمہ ہو سکے۔

اسی بارے میں