کلبھوشن جادھو کیس: ’منگل سُوتر اتروایا گیا اور جوتے بھی واپس نہیں کیے‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

انڈیا نے پاکستان میں موت کی سزا پانے والے مبینہ انڈین جاسوس کلبھوشن جادھو سے ان کی والدہ اور اہلیہ سے ملاقات کے ایک روز بعد کہا ہے کہ پاکستان نے کلبھوشن کی فیملی کی ’توہین‘ کی اور ملاقات کا جو طریقہ کار اختیار کیا گیا وہ طے شدہ اصولوں سے مختلف تھا۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہی نہیں بلکہ پاکستانی حکام نے کلبھوشن کی اہلیہ کا جوتا بھی واپس نہیں کیا۔

دوسری جانب پاکستان نے انڈیا کے بیان کو مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ الفاظ کی جنگ میں نہیں پڑنا چاہتا اگر کچھ تحفظات تھے تو انھیں دورے کے دوران بیان کیا جانا چاہیے تھا۔

دلی سے نامہ نگار شکیل اختر کے مطابق انڈین وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے منگل کی دوپہر ایک بیان میں کہا تھا کہ ’سکیورٹی کے نام پر کلبھوشن کی ماں اور بیوی سے مذہبی اور ثقافتی آداب کی بھی خلاف ورزی کی گئی۔ ان کا منگل سوتر (جو شادی شدہ ہندو خواتین اپنے سہاگ کی علامت کے طور پر گلے میں پہنتی ہیں)، اتروائے گئے۔ ان کے کنگن اور بندی بھی اتروا لی گئی۔ یہی نہیں ان کے کپڑے بھی بدلوائے گئے جس کی کوئی ضرورت نہیں تھی‘۔

یہ بھی پڑھیے

٭ 'آپ جواب دیں، آپ بھاگ کیوں رہی ہیں؟'

٭ کلبھوشن جادھو کی یہ ’آخری ملاقات نہیں تھی‘

٭ کلبھوشن جادھو کب مرے گا؟

٭ کلبھوشن جادھو کیس، کب کیا ہوا

رویش کمار نے مزید بتایا کہ ’ہمیں اس کی کوئی وجہ نہیں سمجھ میں آرہی کہ پاکستانی حکام نے میٹنگ ختم ہونے کے بعد کلبھوشن کی اہلیہ کا جوتا کئی بار درخواست کرنے کے باوجود واپس کیوں نہیں کیا۔ ہم انھیں متنبہ کرتے ہیں کہ وہ اس سے کوئی چال چلنے سے باز رہیں‘۔

ترجمان نے کہا کہ کلبھوشن کی والدہ کو ان کی مادری زبان مراٹھی میں بات نہیں کرنے دی گئی اور جب بھی وہ مراٹھی میں بات کرنے کی کوشش کرتیں انھیں روک دیا جاتا۔

انھوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان یہ طے پایا تھا کہ ’میڈیا کو فیملی کے قریب نہیں آنے دیا جائے گا اس کے باوجود کئی مرحلوں پر میڈیا کو ان کے نزدیک آنے دیا گیا انھیں ہراس کرنے دیا گیا اور کلبھوشن کے بارے میں جھوٹے اور سوچے سمجھے فقرے کسے گئے‘۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption انڈین حکام کے مطابق کلبھوشن کی والدہ کو ان کی مادری زبان مراٹھی میں بات نہیں کرنے دی گئی

رویش کمار نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ 'اس میٹنگ کے بارے میں جو تفصیلات ہمیں ملی ہیں ان سے واضح ہے کہ جادھو شدید تناؤ میں تھے اور وہ دباؤ کے ماحول میں بات کر رہے تھے۔ جادھو کے زیادہ تر ریمارکس پہلے سے تیار کرائے گئے تھے تاکہ ان سے پاکستان میں ان کی مبینہ سرگرمیوں کے پاکستانی منصوبے کی توثیق ہو سکے'۔

انھوں نے کہا ’کلبھوشن جس طرح نظر آرہے تھے ان کی صحت اور حالت کے بارے میں بھی سوالات پیدا ہوتے ہیں‘۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے یقین دہانی کرائے جانے کے باوجود فیملی کے لیے میٹنگ کا پورا ماحول ’خوفزدہ‘ کرنے والا تھا۔ تاہم دونوں خواتین نے صورتحال کا ’بہادری اور وقار‘ کے ساتھ سامنا کیا۔

اس بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ انڈیا کے ڈپٹی ہائی کمشنر کو بھی میٹنگ تک رسائی نہیں دی گئی اور انھیں ایک اضافی شیشے کی دیوار کے پیچھے بٹھایا گیا۔

وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان نے جس طرح اس میٹنگ کا انتظام کیا اس سے یہ واضح ہے کہ کلبھوشن جادھو پر جو ’جھوٹے‘ الزامات لگائے گئے ہیں یہ انھیں درست ثابت کرنے کی یہ ایک کوشش تھی۔

'پاکستان نے جو کچھ بھی کیا اس میں سچائی کا کوئی عندیہ نہیں ملتا‘۔

منگل کو رات گئے دفترِ خارجہ کے تحریری بیان میں بتایا گیا کہ ’اگر انڈیا کو سنجیدہ نوعیت کے تحفظات تھے تو انڈیا مہمان یا ڈپٹی ہائی کمشن کو اپنے دورے کے دوران انھیں میڈیا کے سامنے جو کہ موجود تھا لیکن انڈیا کی درخواست پر کچھ دور تھا کے سامنے اٹھانا چاہیے تھا۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ حقیقت یہ ہے کہ مسٹر کلبھوشن کی والدہ نے پاکستان کا شکریہ ادا کیا جو کہ میڈیا نے ریکارڈ کیا۔

’اس سے زیادہ کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔‘

اس سے قبل کلبھوشن کی والدہ اور اہلیہ نے اسلام آباد سے واپس آنے کے بعد وزیر خارجہ سشما سوراج سے ملاقات کی۔ بعد میں انھوں نے وزارت خارجہ کے اہلکاروں کو بھی اس میٹنگ کے بارے میں بتایا ہے۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
’کلبھوشن جادو کے معاملے پر انڈیا نےعدم تعاون کا مظاہرہ کیا‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں