انڈیا میں ایک خاص فصل کے دوران بیوی کے ساتھ سیکس سے پرہیز کی روایت کیوں

مہر سبر ریشم کا کیڑا دکھاتے ہوئے تصویر کے کاپی رائٹ Manish Shandilya
Image caption مہر سبر ریشم کا کیڑا دکھاتے ہوئے

انڈین ریاست جھارکھنڈ کے ضلع گڑاباندا کے سینکڑوں شادی شدہ کاشتکار کئی نسلوں سے ایک خاص روایت پر عمل کر رہے ہیں جس کے تحت وہ فصل کی کاشت کے دوران سیکس کرنے سے پرہیز کرتے ہیں۔

اس علاقے کے شادی شدہ کاشتکار سال میں دو مرتبہ تقریباً دو دو مہینے کے لیے برہمچریہ یعنی جسمانی تعلق سے پرہیز کرنے کی روایت پر عمل کرتے ہیں۔ اس دوران فصل پر پلنے والے ریشم کے کیڑوں کو چنٹیوں اور انھیں کھانے والے مختلف کیڑوں اور پرندوں سے بچانا ان کاشتکاروں کا مقصد ہوتا ہے۔

50 سالہ سریش مہتو کے برہمچریہ کے دن اب ختم ہونے کو ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ ‘تسر یعنی ریشم کے کیڑوں کی افزائش کے لیے پودوں کی کاشت کے دوران ہم اپنی بیوی کے ساتھ سیکس نہیں کرتے۔ وہ ہمیں چھو بھی نہیں سکتی۔ ہم ایک دوسرے سے دور رہتے ہیں۔ ہم اس دوران اس کے ہاتھ کا پکا کھانا بھی نہیں کھا سکتے۔‘

سریش اس کی وجہ بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ‘ہم لوگ اس فصل کے دوران اگر بیوی کے ساتھ سو جائیں تو فصل میں بیماری لگ جائے گی۔ یہ ہی اصول ہے۔’

یہ بھی پڑھیے

غیر ازدواجی جنسی تعلق، قصوروار مرد یا عورت؟

’بیوی کے ساتھ زبردستی سیکس، جرم قرار نہ دیں‘

سیکس دل بند ہونے کا باعث نہیں بنتا

تصویر کے کاپی رائٹ Manish Shandilya
Image caption سریش مہتو ریشم کا پودا دکھاتے ہوئے

دوسری پابندیاں بھی ہیں

اپنی اہلیہ سے دور رہنے کے علاوہ ان کاشتکاروں کو کچھ اور باتوں کا بھی خیال رکھنا پڑتا ہے۔ اسی گاؤں کے نتیانند مہتو بتاتے ہیں کہ ریشم کے کیڑوں کی رکھوالی کرنے کے لیے فصل کے قریب جانے سے پہلے نہانا ضروری ہوتا ہے۔ رکھوالی کے دوران اگر کسی کو رفع حاجت کے لیے جانا پڑ جائے تو دوبارہ نہانا پڑتا ہے۔ اگر فصل کو نقصان پہنچانے والے کیڑے لگ جائیں تو پوجا کروانی پڑتی ہے اور ایک بکرے کی قربانی بھی دینی پڑتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Manish Shandilya
Image caption دائیں سے مہر سبر، نتیانند اور سریش مہتو

تسر کی فصل کے دوران یہ روایات نسلوں سے چلی آ رہی ہیں۔ سریش نے بتایا کہ ‘ہمارے دادا جی ایسا کیا کرتے تھے۔ اب ہم ایسا کر رہے ہیں اور ہماری آنے والی نسل بھی یہی کرے گی۔’

مہر سبر کے پیڑ گاؤں سے دور جنگلوں میں ہیں۔

وہ بتاتے ہیں کہ ‘کاشتکاری کے دوران ہم انڈا یا گوشت نہیں کھاتے ہیں۔ جنگل میں ہی جھونپڑی بنا کر رہتے ہیں۔ اپنے ہاتھ سے اپنا کھانا پکاتے ہیں۔ ہمیں اس کا صلہ ملتا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Manish Shandilya
Image caption ریشم کے کیڑوں کی افزائش کی تربیت دینے والا سینٹر

روایات ٹوٹ رہی ہیں

یہ روایت اب دھیرے دھیرے کم ہوتی جا رہی ہے۔ دھتکیڈی گاؤں میں تسر کی کاشتکاری کی تربیت دینے والے سینٹر میں ہماری ملاقات دیپانجلی مہتو سے ہوئی۔ ان کا خاندان بھی تسر کی کاشتکاری کرتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Manish Shandilya
Image caption دیپانجلی مہتو

دیپانجلی نے بتایا کہ ‘پہلے صرف مرد ہی تسر کی کاشتکاری میں حصہ لیتے تھے۔ ہم فصل کے قریب نہیں جا سکتے تھے۔ اب ہم بھی ان کا ہاتھ بٹاتے ہیں۔ ابتدا میں اس تبدیلی کے لیے لوگوں کو راضی کرنا مشکل تھا۔ لیکن اب دو تین برس سے تبدیلی دکھائی دے رہی ہے۔ اب مرد بھی یہ یقین کرنے لگے ہیں کہ خواتین سے فصل کو نقصان نہیں ہوگا۔’

اب جھارکھنڈ کے پہاڑوں سے گھرے اس علاقے میں تسر کی کاشتکاری کا موسم اگلے چھ مہینے بعد مون سون میں دوبارہ شروع ہوگا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں