افغانستان: کابل میں ثقافتی تنظیم کے دفتر میں خودکش حملہ، کم از کم 40 ہلاک

کابل، دھماکہ

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والی ایک ثقافتی تنظیم کے دفتر میں خودکش حملے میں کم ازکم 40 افراد ہلاک اور 30 زخمی ہو گئے ہیں۔

افغان وزارت داخلہ کے نائب ترجمان نصرت رحیمی نے بی بی سی پشتو کو بتایا کہ خودکش حملہ آور کی جانب سے کیے جانے والے ایک دھماکے کے بعد اسی علاقے میں دو اور دھماکے ہوئے۔

ان کا کہنا تھا کہ خودکش دھماکے میں 40 افراد ہلاک اور 30 زخمی ہوئے۔

اس سے قبل بی بی سی سے گفتگو میں افغان وزارت صحت نے چار ہلاکتوں کی تصدیق کی تھی۔

افغان پریس کی شیعہ برانچ کے ایک سربراہ نے بتایا کہ دھماکے کے وقت سے اب تک درجنوں لاشوں اور زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا جا چکا ہے۔

افغان وزارت داخلہ کے نائب کے ترجمان نصرت رحیمی نے خبر رساں ادارے فرانس پریس کو بتایا کہ ’حملے کا نشانہ طیبان کلچرل سینٹر تھا جہاں 38 برس قبل افغانستان پر سوویت یونین کے حملے کی مناسبت سے ایک تقریب جاری تھی کہ دھماکہ ہو گیا۔‘

،تصویر کا کیپشن

حملوں کے بعد علاقے کو سیل کر دیا گیا ہے

بتایا گیا ہے کہ بہت سے طلبا اور میڈیا گروپ کے ممبران حملے کے وقت ایک مباحثے میں شریک تھے۔

خیال رہے کہ حالیہ مہینوں میں افغانستان میں شیعہ برادری پر حملوں کی تعداد بڑھی ہے۔

پیر کو بھی افغان خفیہ ایجنسی کے دفتر کے قریب ہونے والے حملے میں 10 ہلاکتیں ہوئی تھیں۔

حملے کی ذمہ داری ابھی کسی گروہ نے قبول نہیں کی ہے۔