ایرانیوں کو ’غیر قانونی اجتماعات‘ سے دور رہنے کی تنبیہ

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
ایران کے مختلف شہروں میں حکومت مخالف مظاہرے جاری ہیں

ایرانی حکومت نے گذشتہ دو دنوں سے ملک بھر میں اسٹیپلشمنٹ کے خلاف جاری احتجاج کے تناظر میں لوگوں سے کہا ہے کہ وہ ’غیر قانونی اجتماع‘ سے دور رہیں۔

معیار زندگی اور کرپشن کے خلاف ہونے والے اس احتجاج میں گرفتار ہونے والے افراد کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

وزیر داخلہ عبدالرحمن رحمانی فضلی نے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ ’ان غیر قانونی اجتماعات میں شرکت نہ کریں کیونکہ اس سے ان کے اپنے لیے اور دوسرے شہریوں کے لیے مسائل پیدا ہوں گے۔‘

اس بارے میں مزید پڑھیے

سعودی عرب اور ایران کی جنگ ہوئی تو کیا ہوگا؟

ایران اور سعودی عرب دست و گریباں کیوں؟

سعودی عرب اور اسرائیل کی یہ بڑھتی قربت کیوں؟

ایرانی انتظامیہ نے ان مظاہروں کا الزام انقلاب کے مخالفین اور غیر ملکی ایجنٹوں پر لگایا ہے۔

ادھر امریکہ کا کہنا ہے کہ ایران میں جاری مظاہروں کے بارے میں حکومتی ردِعمل پر دنیا بھر کی نظر ہے۔ صدر ٹرمپ کی پریس سیکریٹری سارہ ہکابی سینڈرز نے دعویٰ کیا کہ ایرانی عوام حکومت کی بدعنوانی سے تنگ آ چکے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران کے عوام 'حکومت کی بدعنوانی اور دہشت گردی کی فنڈنگ کے لیے ملکی دولت کی فضول خرچی سے تنگ آ گئے ہیں۔'

ایرانی حکام نے اپنے حامیوں سے سنیچر کو پورے ملک میں حکومت کی حمایت میں جلوس نکالنے کے لیے کہا تھا۔

خیال رہے کہ ایران میں جمعرات سے شروع ہونے والے حکومت مخالف مظاہرے ملک کے متعدد بڑے شہروں تک پھیل گئے ہیں جس کے بعد حکومت کے ہزاروں حامی بھی سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔

سرکاری ٹی وی پر تہران میں حکومت کے حق میں بینرز اور پلے کارڈ اٹھا کر نکلنے والی برقعہ پوش خواتین کو دکھایا جارہا ہے۔

ان مظاہروں کا آغاز اس وقت ہوا جب صدر حسن روحانی کی حکومت بڑھتی ہوئی قیمتوں کو کنٹرول کرنے میں ناکام رہی اور صرف ایک ہی ہفتے میں انڈوں کی قیمتیں دوگنا بڑھ گئیں۔

تاہم بعض مظاہروں کا دائرہ کار بڑھ کر حکومت مخالف احتجاج تک پھیل گیا، اور سیاسی قیدیوں کی رہائی اور پولیس کی جانب سے مار پیٹ کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا جانے لگا۔

سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کے مطابق پہلے نائب صدر اسحاق جہانگیری نے کہا ہے کہ ان مظاہروں کے پس پشت حکومت مخالف ہیں۔

یہ سنہ 2009 میں محمود احمدی نژاد کی قدامت پسند حکومت کی حمایت میں ہونے والے مظاہرے کی یاد دہانی کراتے ہیں۔

اس وقت اصلاح پسندوں نے متنازع انتخابات کے خلاف مظاہرے کیے تھے جس کے نتیجے میں وہ دوبارہ حکومت میں آئے تھے۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان سارہ ہکابی سینڈرس نے ٹوئٹر پر کہا: 'ایرانی حکومت اپنے عوام کے حقوق بشمول ان کے اظہار کی آزادی کا احترام کرے۔ دنیا کی ان پر نظر ہے۔'

اس کے بعد یہ ٹویٹ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر بھی نظر آيا۔ امریکی وزارت خارجہ نے تمام ممالک کو 'ایرانی عوام کے بنیادی حقوق اور بدعنوانی کے خاتمے کے مطالبے' کی کھلے عام حمایت کی اپیل کی ہے۔

اطلاعات کے مطابق شمال میں راشت اور مغرب میں کرمانشاہ میں بڑے پیمانے پر مظاہرے ہو رہے ہیں جبکہ شیراز، اصفہان اور ہمدان میں مظاہرین کی تعداد کم ہے۔

یہ احتجاج شروع تو بڑھتی ہوئی قیمتوں کے خلاف ہوئے لیکن بعد میں یہ بڑھ کر عالم دین کی حکومت پر کیے جانے لگے۔

ایران کے دارالحکومت تہران میں چند افراد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption سوشل میڈیا پر کرمانشاہ میں ہونے والے مظاہرے کی تصاوری پوسٹ کی جا رہی ہیں

ایران کی لیبر نیوز ایجنسی کو بتاتے ہوئے تہران کے سکیورٹی افیئرز کے نائب گورنر جنرل نے کہا کہ یہ لوگ ان 50 افراد میں شامل تھے جو شہر کے مرکزی مقام پر جمع ہوئے۔

گورنر جنرل نے اس سے قبل کہا تھا کہ اس طرح کہ کسی بھی اجتماع سے پولیس کے ذریعے نمٹا جائے گا۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ مظاہرے2009 میں ہونے والے احتجاج کے بعد سب سے زیادہ شدید احتجاج ہیں اور اس کے ذریعے عوامی بے چینی نظر آ رہی ہے۔

جمعرات کو سب سے بڑا احتجاج مشہد میں دیکھا گیا جہاں 52 افراد کو گرفتار کیا گیا۔

Image caption جمعرات کو 52 افراد کو گرفتار کیا گیا

حکومت کی جانب سے غیرقانونی اجتماع کے خلاف وارننگ جاری ہونے کے باوجود ملک بھر سے سوشل میڈیا پر احتجاج کی کالز دی جا رہی ہیں۔

جبکہ جمعے کو ہونے والے احتجاج کی ویڈیوز جو سوشل میڈیا پر شائع کی گئیں ان میں سکیورٹی فورسز اور بعض مظاہرین کے درمیان کرمانشاہ میں ہونے والی جھڑپیں دیکھی جا سکتی ہیں۔

اس دوران مشہد میں ’نہ لبنان، نہ غزہ، میری زندگی ایران کے لیے‘ جیسے نعرے بھی لگائے گئے۔ اس حوالے سے مظاہرین کا کہنا تھا کہ انتظامیہ کی تمام تر توجہ ملکی مسائل کی بجائے خارجہ پالیسی پر مرکوز ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ’مشہد میں اس لیے گرفتاریاں عمل میں آئیں کیونکہ وہ سخت نعرے بازی کر رہے تھے۔‘

اسی بارے میں