ایران میں مظاہرے: ایرانی عوام کو مظاہروں کا حق ہے، پرتشدد ہونے کا نہیں‘

ایران تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ایران میں جاری مظاہروں کے چوتھے روز ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ ایرانی عوام حکومت کے خلاف مظاہرے کرنے کے لیے آزاد ہیں لیکن سکیورٹی کو خطرے میں نہیں ڈالا جائے۔

کابینہ کے اجلاس سے خطاب میں انھوں نے تسلیم کیا کہ کچھ مسائل ہیں جن کو حل کرنا ضروری ہے لیکن انھوں نے متنبہ کیا کہ پرتشدد کارروائیاں برداشت نہیں کی جائیں گی۔

ایران میں عوام کے گرتے ہوئے معیارِ زندگی اور کرپشن کے خلاف ہونے والے یہ احتجاج سنہ 2009 میں اصلاحات کے حق میں ہونے والی ریلی کے بعد سب سے بڑا عوامی احتجاج ہے۔

خیال رہے کہ ایران میں تین روز قبل پست معیارِ زندگی کے خلاف مظاہرے شروع ہوئے تھے۔

ان مظاہروں کے آغاز پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹویٹ کی تھی کہ ایرانی عوام میں بالآخر عقل آ رہی ہے کہ کیسے ان کی دولت کو لوٹا جا رہا ہے اور دہشت گردی پر خرچ کی جا رہی ہے۔

ایرانی صدر نے حسن روحانی نے کابینہ کے اجلاس میں امریکی صدر کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ’امریکہ میں یہ شخص جو اب ہماری عوام کے ساتھ ہمدردی دکھا رہا ہے یہ بھول گیا ہے کہ اس نے چند ماہ قبل ایرانی عوام کو دہشت گرد کہا تھا۔‘

انھوں نے مزید کہا ’یہ شخص جو اوپر سے نیچے تک ایرانی عوام کا دشمن ہے اس کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ ایرانی عوام سے ہمدردی کرے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

صدر حسن روحانی نے کہا کہ ایرانی شہریوں کو آزادی ہے کہ وہ احتجاج کریں اور حکومت پر تنقید کریں یا مظاہرے کریں ۔۔۔ تاکہ ملک میں صورتحال بہتر ہو سکے۔‘

انھوں نے معاشی حالت، عدم شفافیت اور بدعنوانی کے حوالے سے شکایات کو تسلیم کیا لیکن اپنی حکومت کا اس حوالے سے دفاع کیا۔

حسن روحانی نے مزید کہا کہ تنقید کرنا ایک بات ہے لیکن پرتشدد ہونا یا سرکاری املاک کو نقصان پہنچانا الگ ہے۔

ٹیلی گرام اور انسٹاگرام کی بندش

ایران میں حکام نے ان سوشل میڈیا نیٹ ورکس پر عارضی طور پر پابندی عائد کر دی جنھیں تین روز سے جاری حکومت مخالف احتجاج کو کرنے میں مظاہرین کی جانب سے استعمال کیا جارہا تھا۔

حکام کی جانب سے سرکاری نیوز ایجنسی ارِب کو بتایا گیا پیغام رسائی کی ایپ ٹیلی گرام اور فوٹو شیئرنگ ایپ انسٹاگرام کی عارضی بندش کا یہ فیصلہ ’امن کے قیام اور معاشرے میں سکیورٹی کے لیے‘ لیا گیا ہے۔

دوسری جانب ایران کے طاقتور فوجی دستے پاسدارانِ انقلاب نے حکومت مخالف مظاہروں میں شریک افراد کو خبردار کیا ہے کہ ملک میں سیاسی عدم استحکام جاری رہنے پر مظاہرین سے ’سختی سے نمٹا‘ جائے گا۔

مظاہروں کے نتیجے میں اب تک حکام نے دو افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی ہے تاہم حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز کسی پر بھی گولی نہیں چلائی۔ انھوں نے اس کا الزام اقلیتی مسلم انتہاپسند سنیوں پر لگایا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ اس میں بیرونی طاقتیں ملوث ہیں۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

ایرانیوں کو ’غیر قانونی اجتماعات‘ سے دور رہنے کی تنبیہ

ایران: حکومت مخالف احتجاج پولیس اور مظاہرین کی جھڑپیں

سعودی عرب اور ایران کی جنگ ہوئی تو کیا ہوگا؟

ایران اور سعودی عرب دست و گریباں کیوں؟

نامہ نگار کا کہنا ہے کہ بیرونی خفیہ ایجنسیوں کی جانب اشارے کا مقصد سعودی عرب کا حوالہ دینا ہے۔

خیال رہے کہ ایران میں تین روز قبل پست معیارِ زندگی کے خلاف مظاہرے شروع ہوئے تھے لیکن پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ کا کہنا ہے کہ اب ان مظاہروں میں سیاسی نعرے لگائے جا رہے ہیں اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔

ایران میں عوام کے گرتے ہوئے معیارِ زندگی اور کرپشن کے خلاف ہونے والے یہ احتجاج سنہ 2009 میں اصلاحات کے حق میں ہونے والی ریلی کے بعد سب سے بڑا عوامی احتجاج ہے۔

اطلاعات کے مطابق ان مظاہروں اب تک دو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ سوشل میڈیا پر جاری ہونے والی احتجاج کی ویڈیو میں آگ لگی ہوئی دیکھی جا سکتی ہے۔

ایران کے مختلف شہروں میں ہونے والے بعض مظاہروں میں شریک افراد نے ملک کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کو ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ان احتجاج میں بڑی تعداد میں طلبا و طالبات موجود ہیں

ایران میں پاسدارانِ انقلاب کا شمار بااثر افواج میں ہوتا ہے اور ملک میں اسلامی نظام کے تحفظ کے لیے سپریم رہنما کے ساتھ اُن کے گہرے روابط ہیں۔

سوشل میڈیا پر پابندی کیوں عائد کی گئی؟

ایران جہاں میڈیا بہت سخت پابندیوں میں جکڑا نظر آتا ہے وہاں احتجاج کے حوالے سے زیادہ تر معلومات کا ذریعہ سوشل میڈیا ہی ہے۔ سوشل میڈیا میں ٹیلی گرام کو ملک کے آٹھ کروڑ عوام میں سے پچاس فیصد استعمال کرتے ہیں اور اس احتجاج میں بھی انھیں ذرائع کا استعمال کیا جا رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

دوسری جانب سینچر کو ملک بھر میں حکومت کی حمایت میں جلوس نکالے گئے۔

اطلاعات کے مطابق شمال میں راشت اور مغرب میں کرمانشاہ میں بڑے پیمانے پر مظاہرے ہو رہے ہیں جبکہ شیراز، اصفہان اور ہمدان میں مظاہرین کی تعداد کم ہے۔ دارالحکومت تہران میں چند افراد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔

  • ابھار میں مظاہرین نے ملک کے سب سے اہم مذہبی رہنما علی خامنہ ای کے پوسٹر کو نذر آتش کر دیا۔
  • آراک میں مظاہرین نے حکومتی حمایتی گروہ باسج کے دفتر کو آگ لگا دی۔
  • مشہد میں مظاہرین نے پولیس کی گاڑیاں جلا دیں۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ مظاہرے2009 میں ہونے والے احتجاج کے بعد سب سے زیادہ شدید احتجاج ہیں اور اس کے ذریعے عوامی بے چینی نظر آ رہی ہے۔

اس کے علاوہ متعدد قصبوں اور چھوٹے شہروں سے ان مظاہروں کی اطلاع ملی ہیں۔

پاسدارانِ انقلاب کے جنرل اسمائیل کوہساری نے سرکاری خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ ’عوام اگر قیمتیں زیادہ ہونے پر سڑکوں پر نکلے ہیں تو انھیں پھر اس طرح کے نعرے نہیں لگانے چاہیے اور نہ ہی سرکاری املاک اور گاڑیوں کو نذرِ آتش کرنا چاہیے۔

انھوں نے خبردار کیا ہے کہ سیاسی عدم استحکام جاری رہنے پر مظاہرین کے خلاف کریک ڈؤان کیا جائے گا۔

مظاہرین نے ملک کے وزیر داخلہ عبدالرحمن رحمانی فضلی کی جانب سے ’غیر قانونی اجتماعات میں شرکت نہ کرنے کی‘ تنبیہ کو بھی بظاہر نظر انداز کر دیا ہے۔

بی بی سی فارسی کی نامہ نگار کسرا ناجی کا کہنا ہے کہ تمام شہروں میں ہونے والے مظاہروں میں ایک چیز مشترکہ ہے کہ وہ سب ملک میں ’مولویوں کے نظام‘ کا خاتمہ چاہتے ہیں۔

مظاہرین ایران کی بیرون ملک مداخلت پر بھی ناراض ہیں اور اس دوران مشہد میں ’نہ لبنان، نہ غزہ، میری زندگی ایران کے لیے‘ جیسے نعرے بھی لگائے گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

اس حوالے سے مظاہرین کا کہنا تھا کہ انتظامیہ کی تمام تر توجہ ملکی مسائل کی بجائے خارجہ پالیسی پر مرکوز ہے۔

ادھر امریکہ کا کہنا ہے کہ ایران میں جاری مظاہروں کے بارے میں حکومتی ردِعمل پر دنیا بھر کی نظر ہے۔ صدر ٹرمپ کی پریس سیکریٹری سارہ ہکابی نے دعویٰ کیا کہ ایرانی عوام حکومت کی بدعنوانی سے تنگ آ چکے ہیں۔

اسی بارے میں