ایران میں ’بغاوت‘ کو شکست دے دی گئی ہے: پاسداران انقلاب

ایران تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

ایران کے پاسداران انقلاب کے سربراہ نے ملک میں جاری مظاہروں کے حوالے سے کہا ہے کہ ملک میں ’بغاوت‘ کو شکست دے دی گئی ہے۔

پاسداران انقلاب کے سربراہ میجر جنرل محمد علی جعفری نے یہ اعلان اس وقت کیا جب حکومت مخالف مظاہروں کے خلاف حکومت کے حق میں ہزاروں افراد نے جلوس نکالے۔

حکومت مخالف مظاہروں کا سلسلہ جمعرات سے جاری ہے جس کے دوران سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان ہونے والی چھڑپوں میں 21 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

ایرانی عوام سڑکوں پر کیوں؟

ایرانی پاسداران انقلاب دراصل کون ہیں؟

سعودی عرب اور ایران کی جنگ ہوئی تو کیا ہوگا؟

ایران اور سعودی عرب دست و گریباں کیوں؟

ایران میں عوام کے گرتے ہوئے معیارِ زندگی اور کرپشن کے خلاف ہونے والے یہ احتجاج سنہ 2009 میں اصلاحات کے حق میں ہونے والی ریلیوں کے بعد سب سے بڑا عوامی احتجاج ہے۔

پاسداران انقلاب کے سربراہ نے کیا کہا؟

میجر جنرل جعفری نے اعلان میں کہا ’آج ہم کہہ سکتے ہیں کہ 96 کی بغاوت ختم کر دی گئی ہے‘

ان کا اشارہ فارسی کیلینڈر کی طرف تھا جس کے مطابق رواں سال 1396 ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’سکیورٹی کی تیاری اور لوگوں کی نگہبانی‘ کے باعث ’دشمنوں‘ کی شکست ہوئی اور تین صوبوں میں پاسداران انقلاب کے دستوں نے محدود پیمانے پر کارروائیاں کیں۔

’مظاہرے ہونے والی ہر جگہ پر 1500 افراد تھے اور ملک بھر میں مظاہرے کرنے والوں کی تعداد 15 ہزار سے زیادہ نہیں تھی۔‘

میجر جنرل جعفری نے انقلاب مخالف ایجنٹوں، بادشاہت پسند قوتوں پر الزام عائد کیا۔

’دشمنوں نے ایران میں ثقافتی، معاشی اور سکیورٹی خدشات پیدا کرنے کی کوشش کی۔‘

دوسری جانب ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ 'ملک کے دشمن' اس احتجاج کو ہوا دے رہے ہیں۔

'حالیہ دنوں میں ایران کے دشمنوں نے رقم، ہتھیار، سیاست اور خفیہ اداروں سمیت مختلف ہتھکنڈوں کو ایران میں حالات خراب کرنے کے لیے استعمال کیا ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مظاہرے ہونے والی ہر جگہ پر 1500 افراد تھے اور ملک بھر میں مظاہرے کرنے والوں کی تعداد 15 ہزار سے زیادہ نہیں تھی

تاہم پاسداران انقلاب کے سربراہ نے مظاہروں کا الزام ’سابق حکام‘ پر عائد کیا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ میجر جنرل جعفری کا اشارہ سابق صدر محمود احمدی نژاد کی جانب تھا۔

حکومت کے حق میں مظاہرے

سرکاری ٹی وی چینل نے حکومت کے حق میں مظاہروں کو براہ راست دکھایا۔ جن شہروں میں حکومت کے حق میں مظاہرے کیے گئے ان میں کرمانشاہ، ایلام اور گرگان شامل ہیں۔

حکومت کے حق میں نکالے جانے والے جلوسوں میں چند افراد نے ایران کے قومی پرچم اور آیت اللہ خامنہ ای کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں۔

ایران کے شہر قم میں ریلی میں امریکہ کے خلاف نعرے لگائے گئے۔

کیا حکومت مخلاف مظاہرے جاری ہیں؟

گذشتہ رات سے مظاہروں کے بارے میں خبریں بہت کم ہو گئی ہیں۔

سرکاری ٹی وی کے مطابق اصفہان میں ایک بینک اور پولیس سٹیشن پر فائرنگ کی گئی۔

دارالحکومت تہران میں پولیس کی نفری بہت کم دکھائی دے رہی ہے۔

تاہم بدھ کی شام کو دوبارہ مظاہروں میں اضافے کی خبریں آ رہی ہیں۔

امریکی موقف کیا ہے؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مظاہروں کے حق میں ٹویٹس کی ہیں اور ایک اور ٹویٹ بدھ کی صبح کی۔

منگل کو اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نکی ہیلی نے ایران کی جانب سے اس موقف کو ’مکمل طور پر بے معنی‘ قرار دیا جس میں کہا گیا تھا کہ مظاہروں میں بیرونی ہاتھ ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں