ایک ساتھ تین طلاق پر تین سال جیل؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption یہ بل فی الحال پارلیمان کے ایوان بالا میں اٹکا ہوا ہے

انڈیا میں مسلمان عورتوں کے مسائل اب بس ختم ہونے کو ہیں۔ حکومت ایک نیا سخت قانون وضع کرنا چاہتی ہے جس کے بعد ایک ہی نشست میں تین طلاق کہہ کر فوراً شادی ختم کرنے والے مسلمان شوہر تین سال کے لیے جیل جا سکتے ہیں۔

یا بس یوں سمجھ لیجیے کہ ایک مرتبہ طلاق کہنے کے عوض ایک سال کی جیل! بس مسئلہ یہ ہے کہ اب انڈیا میں تین بار طلاق کہہ دینے سے طلاق نہیں ہوتی کیونکہ طلاق بدت یا فوری طلاق کو سپریم کورٹ پہلے ہی غیر آئینی قرار دے چکی ہے۔

مزید پڑھیے

بھوپال میں طلاق سے زیادہ خلع کے کیس

انڈیا میں طلاق پر بحث پیچیدہ اور متنازع

تین طلاق جرم: انڈین کابینہ کی جانب سے منظوری

اس کا مطلب یہ ہے کہ قانون منظور ہو جانے کے بعد آپ تین بار طلاق کہتے ہیں تو طلاق بھی نہیں ہوگی اور جیل بھی جانا پڑے گا۔ اس کے علاوہ ’طلاق شدہ خاتون‘ کو گزر بسر کے لیے خرچ بھی دینا ہوگا اور شوہر پر جرمانہ بھی عائد کیا جاسکتا ہے۔

اور اس دوران آپ کی بیوی آپ کی بیوی ہی رہے گی! اور بیوی بچوں کی دیکھ بھال کی ذمہ داری بھی آپ کی ہی ہوگی۔ بس فرق یہ ہوگا کہ جو کام آپ پہلے گھر میں رہ کر آرام سے کرتے تھے یا کر سکتے تھے، اب جیل میں رہ کر کرنا ہوگا۔

بی جے پی کی حکومت کے اس نئے مجوزہ قانون پر سب سے زیادہ تنقید اسی وجہ سے ہو رہی ہے۔ بہت سے لوگ یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ جب طلاق ہوئی ہی نہیں تو سزا کس بات کی؟

اور اگر شوہر کو جیل بھیج دیا جائے گا تو وہ گزر بسر کے لیے پیسے کہاں سے دے گا؟ اس کا مطلب تو یہ ہوگا کہ جیل شوہر جائے گا اور سزا بیوی بچوں کو ملے گی کیونکہ متوسط اور غریب طبقے سے تعلق رکھنے والے بہت کم مسلمان گھرانوں کی عورتیں ہی باہر نکل کر کام کرتی ہیں۔

یہ بل فی الحال پارلیمان کے ایوان بالا میں اٹکا ہوا ہے جہاں کانگریس پارٹی نے یہ مطالبہ کیا ہے کہ اگر حکومت طلاق شدہ عورتوں کے گزر بسر کی ذمہ داری سنبھالنے کا وعدہ کرے تو وہ مجوزہ قانون کی حمایت کرنے کے لیے تیار ہے۔ راجیہ سبھا میں بی جے پی اقلیت میں ہے اور وہ حزب اختلاف کی حمایت کے بغیر قانون منظور نہیں کروا سکتی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption بی جے پی کی حکومت کا دعویٰ ہے کہ وہ مسلمان عورتوں کو ان کے حقوق دلانا چاہتی ہے

بی جے پی کی حکومت کا دعویٰ ہے کہ وہ مسلمان عورتوں کو ان کے حقوق دلانا چاہتی ہے، لیکن جیسا بہت سے تجزیہ نگاروں نے لکھا ہے کہ ان کے مسائل اور بھی ہیں اور ملک میں فی الحال ماحول کچھ ایسا ہے کہ بہت سے مسلمان خود کو محصور محسوس کر رہے ہیں، اور ایسے میں اس قانون کو شک کی نگاہ سے دیکھا جانا کوئی حیرت کی بات نہیں ہے۔

مجوزہ قانون کے پیچھے صرف سیاست ہے یا مسلمان عورتوں کو تحفظ فراہم کرنے کی سنجیدہ کوشش، اس سوال پر تو بحث جاری رہے گی۔ کوئی ایسا قابل اعتبار سروے تو موجود نہیں ہے جس کی بنیاد پر یہ کہا جاسکے کہ طلاق ثلاثہ پر مسلمانوں کی مجموعی رائے کیا ہے، اور عورتوں اور مردوں کے نظریہ میں کیا اور کتنا فرق ہے۔

لیکن سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے کہا تھا کہ وہ خود اس طریقہ طلاق کے خلاف بیداری پیدا کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے اور عدالت کے فیصلے کو تسلیم کرتا ہے۔

زیادہ امکان یہ ہے کہ مجوزہ قانون اب چند مہینوں کے لیے ٹل جائے گا کیونکہ پارلیمان کا سرمائی اجلاس جمعہ تک ہی تھا، لیکن کچھ سوال ہیں جو باقی رہیں گے۔

مثال کے طور پر یہ کہ جو شوہر طلاق دیتا ہے وہ جیل جائے گا، جو نہیں دیتا بس بیوی بچوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیتا ہے، اس کے خلاف بھی کیا کوئی کارروائی ہو سکتی ہے؟ غریب لوگوں میں یہ طلاق سے کہیں زیادہ بڑا مسئلہ ہے، اور صرف مسلمانوں تک محدود نہیں۔

سپریم کورٹ نے صرف طلاق ثلاثہ یا فوری طلاق کو غیر آئینی قرار دیا تھا۔ معینہ مدت کے فرق سے تین مرتبہ طلاق کہہ کر اب بھی شادی ختم کی جاسکتی ہے۔

جو لوگ فوری طلاق کی وکالت کرتے ہیں، ان سے بھی یہ سوال کیا جانا چاہیے کہ بھائی اتنی بھی کیا جلدی ہے؟ انڈیا میں ’فوری نوڈلز‘ بنانے والی کمپنیاں بھی کہتی ہے کہ نوڈلز کو دو منٹ ابالنا ضروری ہے۔

شادی ختم کرنے میں تو اس سے زیادہ وقت لگنا ہی چاہیے!

اسی بارے میں