بھائی جو گاہک بن کر بہن کو کوٹھے سے آزاد کرا لایا

پولیس کارروائی میں دو خواتین کو آزاد کروا لیا گیا۔ تصویر کے کاپی رائٹ Amit Parmar
Image caption پولیس کارروائی میں دو خواتین کو آزاد کروا لیا گیا ہے

انڈین ریاست بہار میں بیگو سرائے ضلع کے قصبائی علاقے بکھری میں ایک نوجوان ایک دلال کو دو سو روپے دیتا ہے۔ اس کے بعد وہ ایک خاتون کے ساتھ کمرے میں داخل ہوتا ہے اور چند منٹ میں باہر نکل آتا ہے۔ تھوڑی دیر بعد وہ ہی نوجوان پولیس کے ساتھ واپس لوٹتا ہے۔

اس بار وہ اس خاتون کو جسم فروشی کے کاروبار کے دلدل سے باہر نکالنے آیا ہے۔ دراصل وہ خاتون اس کی بہن ہے۔

پہلی بار پڑھنے میں ایسا لگتا ہے جیسے یہ کسی فلم کی کہانی ہو۔ لیکن یہ اصل واقعہ ہے جو بدھ کے روز بکھری میں پیش آیا۔ اس پولیس کارروائی میں دو خواتین کو آزاد کرا لیا گیا۔ دوسری خاتون جھارکھنڈ ریاست کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Amit Parmar
Image caption متاثرہ خاتون کے گھر کے باہر پولیس کا پہرہ لگا دیا گیا ہے

پھیری والے کو دیکھ کر آس بندھی

متاثرہ خاتون نے اپنے میکے پہنچنے کے بعد بی بی سی کو فون پر بتایا کہ ’تقریباً تین برس قبل اشوک خلیفہ نامی ایک شخص مجھے بھگا کر بکھری لے گیا تھا۔ اس کے بعد مجھ سے یہ کام کروانے لگا۔‘

بکھری میں وہ اپنے بیٹے کے ساتھ رہتی تھیں۔ ان کے مطابق انہیں اس کوٹھے پر قید کر کے رکھا جاتا تھا۔ وہ کہیں نہیں جا سکتی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ ’تقریباً دو ہفتے قبل اس علاقے میں ایک پھیری والا آیا۔ میں نے اس سے کہا کہ میں تمہیں پہچانتی ہوں۔ اس نے بھی مجھ سے کہا کہ وہ بھی مجھے پہچانتا ہے۔ اس کے بعد میں نے اس سے اس کا فون نمبر لیا۔ میں اس سے یہاں سے نکلنے کے بارے میں بات کرتی تھی۔‘

دراصل وہ پھیری والا متاثرہ خاتون کے میکے کے علاقے سے تھا۔

یہ بھی پڑھیے

’روہنگیا خواتین کو جسم فروشی پر مجبور کیا جا رہا ہے‘

جب مقدمے کی سماعت رات بھر جاری رہی

انڈیا میں ریپ کے بڑھتے واقعات

گھر والوں تک پہنچی خبر

اس پھیری والے نے متاثرہ خاتون کے گھر والوں کو پوری بات بتائی۔ اس کے بعد اسے آزاد کرانے کے لیے اس کے گھر والے بیگو سرائے پہنچ گئے۔

متاثرہ خاتون کے بھائی نے ان کی رہائی کی داستان سناتے ہوئے بتایا کہ ’پھیری والے نے بہن کو بتا دیا تھا کہ میں اسے رہا کرانے آؤں گا۔ میں اشوک خلیفہ کے پاس گاہک بن کر پہنچا۔ دو سو روپیے لینے کے بعد اس نے مجھے دو لڑکیاں دکھائیں۔ میں نے اپنی بہن کو چن لیا۔ اس کے بعد میں اپنی بہن کے ساتھ ایک کمرے میں چلا گیا۔ میں اس کے ساتھ کمرے میں پانچ منٹ رکا رہا۔ پھر اس سے یہ کہہ کر باہر نکل گیا کہ پولیس کو ساتھ لیکر واپس آؤں گا۔‘

متاثرہ خاتون کے والد پولیس میں ایف آئی آر درج کروا چکے تھے۔ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے کوٹھے پر چھاپا مارا اور ان کی بیٹی کے علاوہ ایک اور خاتون کو بھی وہاں سے آزاد کرا لیا۔

یہ بھی پڑھیے

’طالبان نے میری بیوی کو ریپ کیا‘

ملتان : 12 سالہ لڑکی کے ریپ کا بدلہ، 17 سالہ لڑکی کا ریپ

’فوجیوں کو تین خواتین کا ریپ کرنے کی اجازت ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Amit Parmar
Image caption ایف آئی آر کی کاپی

آخر کار گھر پہنچ گئی متاثرہ

بکھری کے تھانے دار نے بی بی سی کو بتایا کہ ’متاثرہ عورت کی رہائی کے بعد اس کی میڈیکل جانچ کروائی گئی اور عدالت میں اس کا بیان درج کرا لیا گیا ہے۔ اس کے بعد انہیں ان کے والدین کے حوالے کر دیا گیا۔

ایف آئی آر میں جن دو افراد کے خلاف شکایت کی گئی تھی ان میں سے ایک نسیمہ خاتون کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ اشوک خلیفہ ابھی فرار ہے۔

متاثرہ خاتون اب اپنے والدین کے گھر پر ہے۔